ہندو دھرم کیا ہے؟

شیو نارائن مندر، لزبن، پُرتگال

21 اکتوبر 2018 کو لزبن شہر کی سرد شام میں شیو نارائین مندر کے ہال میں ماحول خاصہ گرم تھا، تمام زائرین شدت سے کسی کا انتظار کر رہے تھے، کہ آج وہ شخصیت ان سے کُچھ بیان کرے گی، ایسا نہیں تھا کہ ہندوستان یا نیپال سے کوئی بڑے سادھو بابا آکر اپنی زیارت کروا رہے تھے بلکہ وہ انتظار کسی بڑی ہستی کا نہیں بلکہ میرا تھا کیونکہ آج مجھے پہلی بار بیان کرنا تھا، جی ہاں زندگی کا پہلا بیان، ایک بُزرگ خاتون شری لکشمی جیسوال کی خواہش پر یہ ذمہ داری قبول کی. بیان کو مختصر کرکے یہاں مضمون کی شکل میں تحریر کر رہی ہوں اُمید ہے کہ یہ مضمون آپ کی معلومات میں اضافے کا باعث ہو.

ہندو مذہب کا کوئی موجد نہیں۔ ہم نہیں جانتے کہ ہندو مذہب کیسے اور کب وجود میں آیا؟ اس کی کوئی تاریخ پیدائش نہیں۔ ہزاروں سالوں میں اس نے بتدریج اپنے ارتقائی مراحل طے کئے ہیں۔ ہندو دھرم میں ایسا کوئی عقیدہ نہیں جس کی پیروی سب پر لازم ہو۔ اس میں کوئی متفق علیہ اصول یا فلسفہ بھی نہیں ہے۔

لفظ ہندو کی تحقیق:لفظ ہندو کے متعدد معانی آتے ہیں۔[1] دریائے سندھ کی جانب نسبت کرکے اس دریا کے آس پاس بسنے والوں کو سندھو کہا جاتا تھا۔ سنسکرت کا ’’س‘‘ فارسی میں ’’ہ‘‘ سے بدل جاتا ہے، مثلاً سفت اور ہفت یا موریہ اور ہوریہ۔ سندھو اور ہندھو یا سومایا ماہ اور ماس وغیرہ؛ چنانچہ آریوں کا جو پہلا گروپ ہندستان آیا انھوں نے سندھو ندی جو ایران اور ہند کی سرحد پر پڑنے والی پہلی ندی ہے کو ہندو کہا اور اس سندھو ندی کے پار جتنے لوگ بستے تھے انھیں ہندو کہا۔

[2] ’ہندو‘ فارسی لفظ ہے جس کے معنی سیاہ کے ہیں؛ چنانچہ حافظ شیرازی کا شعر ہے ؎

اگر آں ترک شیرازی بدست آرد دل مارا … بخال ہندواش بخشم سمر قندو بخارا

’’اگر وہ شیرازی معشوق ہمارے دل کو تھام لے تو میں اس کے سیاہ تل کے عوض سمرقند و بخارا کے علاقے بخش دوں‘‘۔

ہندستان کی اصل آبادی چونکہ سیاہ فام تھی اس لئے آریہ انھیں ہندو کہتے تھے اور اپنے لئے آریہ کا لفظ استعمال کرتے تھے۔ ’رگ وید‘ سے لے کر منوسمرتی کے زمانے تک آریوں نے اپنے آپ کو لفظ ہندو سے بچایا۔ وید اور سمرتی میں ہندو لفظ آریہ قوم کیلئے قطعاً نہیں بولا گیا بخلاف اس کے انھوں نے اپنے سفید رنگ ہونے پر جا بجا فخر کیا ہے۔ جیسا کہ وید کے بعض گیتوں سے ثابت ہے اور جب پنجاب و سندھ کا علاقہ مفتوح ہوکر ایران کی اشکانی سلطنت کا حصہ بن گیا تو ہندستان والوں کیلئے عام طور پر لفظ ہندو استعمال ہونے لگا۔

[3] فارسی میں ہندو کے ایک معنی ’غلام‘ کے بھی آتے ہیں۔ اس ملک میں عام طور سے لوگ اپنے کانوں میں چھوٹی چھوٹی بالیاں پہنا کرتے تھے۔ لوگ جب باہر سے یہاں آئے اور یہ بالیاں دیکھیں تو انھیں خیال ہوا کہ شاید یہ غلام ہیں کیونکہ ان کے یہاں امتیاز کے طور پر یہ غلاموں کا نشان سمجھا جاتا تھا۔ (ہندو دھرم ایک مطالعہ:11)۔

ہندو دھرم کی اصطلاحی تعریف: ہندو دھرم میں کسی متفق علیہ عقیدہ اور اصول نہ ہونے کی بنیاد پر ہندو محققین بھی کوئی معین تعریف نہیں کرسکے ہیں۔ مہاتما گاندھی لکھتے ہیں:’’پُر امن طریقہ سے حق کی جستجو کا نام ’ہندو مت‘ ہے۔ آدمی خدا کو مانے بغیر بھی اپنے آپ کو ہندو کہہ سکتا ہے۔ ہندومت حق کی جستجو کا دوسرا نام ہے۔ ہندومت حق و صداقت کا مذہب ہے۔ حق ہمارا خدا ہے۔ ہمارے یہاں خدا سے انکار کی مثالیں موجود ہیں لیکن حق سے انکار کی کوئی مثال نہیں‘‘ (تلاشِ ہند:ج1، ص135)۔

مہاتما گاندھی نے حق اور امن کے الفاظ استعمال کئے ہیں لیکن بہت سے مشہور ہندو کہتے ہیں کہ گاندھی جی نے امن یا عدم تشدد کا جو مفہوم سمجھا ہے وہ ہندومت کا کوئی لازمی جز نہیں اور اس کیلئے حق ہی ایک چیز رہ جاتی ہے۔ ظاہر ہے یہ کوئی متعین تعریف یا مفہوم نہیں ہے۔

بہ لحاظ عقیدہ ہندو ازم غیر متشکل پہل دار اور ہر شئے برائے ہر کس ہے۔ اس کی تعریف متعین کرنا سخت دشوار ہے بلکہ مروج معنوں میں اسے دیگر ادیان کی طرح مذہب کہنا بھی مشکوک ہے۔ اس نے ماضی میں بھی ارفع و ادنیٰ اور کبھی کبھی تو متضاد رسوم و افکار کو گلے لگایا ہے۔ اس کی اصل روح زندہ رہو اور رہنے دو میں پوشیدہ ہے‘‘۔

Dr. Shakira nandini

shakiranandini@yandex.com

جواب چھوڑیں