کواتین کا رات دیر تک جاگنا بریسٹ کینسر کا باعث ہوتا ہے

ڈاکٹر شاکرہ نندنی لاہور میں پیدا ہوئی تھیں اِن کے والد کا تعلق جیسور بنگلہ دیش (سابق مشرقی پاکستان) سے تھا اور والدہ بنگلور انڈیا سے ہجرت کرکے پاکستان آئیں تھیں اور پیشے سے نرس تھیں شوہر کے انتقال کے بعد وہ شاکرہ کو ساتھ لے کر وہ روس چلی گئیں تھیں. شاکرہ نے تعلیم روس اور فلپائین میں حاصل کی۔ سنہ 2007 میں پرتگال سے اپنے کیرئیر کا آغاز بطور استاد کیا، اس کے بعد چیک ری پبلک میں ماڈلنگ کے ایک ادارے سے بطور انسٹرکٹر وابستہ رہیں۔ حال ہی میں انہوں نے سویڈن سے ڈانس اور موسیقی میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ اور اب ایلائیٹ لزبن ماڈل ایجنسی، پُرتگال میں ڈپٹی ڈائیریکٹر کے عہدے پر فائز ہیں.

یہ بات برطانیہ میں ہونے والی ایک طبی تحقیق میں سامنے آئی۔

برسٹل یونیورسٹی کی تحقیق کے دوران 9 لاکھ خواتین کے جاگنے اور سونے کی عادات کا جائزہ لیا گیا اور معلوم ہوا کہ رات گئے تک جاگنے کی عادت بریسٹ کینسر کا خطرہ 49 فیصد تک بڑھا دیتی ہے۔

تحقیق میں یہ بھی دریافت کیا گیا کہ جو خواتین 8 گھنٹے سے زیادہ سونے کی عادی ہوتی ہیں، ان میں بھی بریسٹ کینسر کی تشخیص کا خطرہ 29 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔

محققین کے مطابق اس کی ایک وجہ صبح جلد اٹھنے والی خواتین کی نیند کا معیار بہتر ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ رات گئے تک جاگنے کے نتیجے میں خواتین کی نیند متاثر ہوتی ہے کیونکہ جسمانی گھڑی کے افعال پر اس عادت سے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں جو اس جان لیوا مرض کا خطرہ بڑھاتے ہیں۔

تحقیق کے مطابق اس حوالے سے مزید جائزہ لیا جائے گا کہ یہ میکنزم کس حد تک اثرات مرتب کرتا ہے۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ نیند کی عادت کو بدلنا ہی صرف اس خطرے کو کم کرنے میں مدد نہیں دے سکتا کیونکہ ہوسکتا ہے کہ یہ معاملہ زیادہ پیچیدہ ہو مگر پھر بھی جلد سونے اور جاگنے سے خواتین میں اس مرض سے کافی حد تک بچاﺅ ممکن ہے۔

اس تحقیق کے نتائج نیشنل کینسر ریسرچ انسٹیٹوٹ کانفرنس کے دوران پیش کیے گئے۔

جواب چھوڑیں