عشق محشر سی ادا رکھتا ہے : آخری قسط

مصنفہ: حمیرا فضا

سیف کے جسم میں لہو منجمد ہو نے لگا تھا جبکہ صاحبہ کے اندر لہو کی گردش اور تیز ہوگی۔وہ گھبرائے ہوئے انداز میں دیوار سے جا لگا اور صاحبہ پرسکون مسکراہٹ کے ساتھ اُس کے اور قریب آنے لگی۔جازم خان کا قہر برساتا رعونت سے اُٹھایا گیا ایک ایک قدم سیف کو شرمندگی اور خوف کی دلدل میں دھکیل رہا تھا ،مگر صاحبہ کی فاتحانہ مسکان اِس بات کا اعلان تھی کہ وہ مرنے مٹنے کے آزار سے آزاد ہوچکی ہے۔جازم کے قریب آنے میں چند قدموں کا فاصلہ رہ گیا تو صاحبہ نے سیف کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑ لیا۔سیف نے اُس کا نازک ہاتھ چھڑانے کی بھرپور سعی کی ،لیکن وہ دھان پان سی لڑکی اُس سمے اُس سے زیادہ طاقت ور ہوچکی تھی۔بڑا طاقتور ہوجاتا ہے انسان جب ظالم کے خوف کی بھوک مٹنے لگے ،جب عشق کی پیاس روم روم میں سرائیت کرجائے۔اُس وقت صاحبہ کا نحیف وجود بھی بڑی سے بڑی چٹان سے ٹکرانے کی جرات رکھتا تھا۔اُس کے انداز کی بیباکی اُس کے تنّے ہوئے ابرو کی اکڑ نے جازم خان کے زخمی تاثرات کو مزید بگاڑ دیا تھا۔آنکھوں سے ٹپکتی بہادری ،لبوں کے گہرے تبسم سے وہ اُسے ایسے سلگا رہی تھی جیسے یہ منظر جازم کو دیکھانا اُس کی حسرت رہی ہو۔جازم کے سُرخ ڈوروں میں ایسی چیرتی ہوئی خاموشی تھی جو تباہی سے پہلے سارے ماحول میں ہراسیت اور ہولناکی کا سماں پیدا کردیتی ہے۔سیف نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ نفرت کا طوفان ایسے اُس کی طرف بڑھے گا،شاید اُسے اپنی جان کی پرواہ نہیں تھی پر اپنے ساتھ کھڑی اُس پاگل لڑکی کی فکر تھی، خیال تھا جو اُس کے ساتھ ہی اِس طوفان میں غرق ہونے والی تھی۔
’’آخر تو نے اپنی نیچ اوقات دیکھا ہی دی۔۔۔آخر تو نے ڈس ہی لیا۔۔۔پیٹھ پر وار کرتا ہے میرے ۔۔۔میری عزت پر ہاتھ ڈالتا ہے۔۔۔کمّی کم ذات گھٹیا آدمی۔۔۔رذیل نوکر۔‘‘ تڑا خ ۔۔۔۔جازم نے غصّے سے بپھرتے ہوئے ایک زناٹے دار تھپڑ صاحبہ کے منہ پر مارا اور سیف کو گریبان سے پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لیا۔
’’اپنی ناکام محبت کا بدلا لینے چلا تھا۔۔۔جازم خان کی جڑیں کاٹنے آیا تھا۔۔۔گندی نالی کے لاوارث کیڑے ۔۔۔بول ! بے غیرت انسان ۔۔۔۔تو نے اتنی ہمت کر کیسے لی؟‘‘وہ صاحبہ کو نظر انداز کرکے جارحانہ انداز میں سیف پر پے در پے تھپڑوں اور گھونسوں کی برسات کرنے لگا۔ اُس کی آواز پورے جاہ و جلال سے حویلی کے بالائی حصے میں گونج رہی تھی۔
’’حویلی کی ہر شئے تمھارے بیٹھائے سات پردوں پر ہنس رہی ہے۔کتنے کنگال ہو چکے ہو تم جازم خان! تمھاری دولت تو تمھارے ناک کے نیچے سے چرا لی گئی۔‘‘بھڑکتی ہوئی آگ میں تیل ڈالا نہیں اُچھالا گیا تھا۔اِس سے پہلے وہ آگے قدم بڑھاتا صاحبہ کے رسان سے بولے گئے کاٹ دار جملوں نے اُسے مڑنے پر مجبور کیا۔
’’تمھارا حساب بعد میں ہوگا اور بہت سخت ہوگا صاحبہ۔‘‘اُس نے دانت پیستے ہوئے الٹے بھاری ہاتھ کی انگلیاں اُس کے گال پر چھاپی تو وہ ڈگمگاتی ہوئی قد آور ستون سے جا ٹکرائی۔اُس کے ماتھے سے لہو رسنے لگا اور یہ لہو اب سر پر چڑھے جنون کو دھونے کے لیے ناکافی تھا۔
’’جاؤ لے جاؤ اُسے میں نہیں روکو گی۔۔۔میں نہیں منت کرونگی۔۔۔میں نہیں سامنے آؤنگی۔۔۔اب عشق تمھیں روکے گا۔۔۔وہی تم سے ٹکرائے گا۔۔۔وہی تم سے لڑے گا۔‘‘صاحبہ ازلی عزم اور سرشاری سے بڑبڑاتے ہوئے وہی بے ہوش ہوگئی تھی۔
’’بند کرو اپنی بکواس ۔‘‘جازم خان کی چنگھاڑتی ہوئی آواز نے دیوار و در کو ایک پل کے لیے لرزا دیا تھا۔ اُس نے بے سدھ پڑی صاحبہ کو پیروں کی مدد سے ایک زور دار ٹھوکر ماری اور سیف کو بالوں سے پکڑ کر بے رحمی سے گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔سیف اُس کی یہ سفاکانہ حرکت روک نہیں پایا تھا ،گرتے سنبھلتے ہوئے یہ ملال اُسے اور کاٹنے لگا۔
’’بول کب سے چل رہا ہے یہ ۔تو نے امانت میں خیانت کی ہے۔تیری سانس سانس جواب دہ ہوگی، تیرے لہو کی بوند بوند کڑا امتحان دے گی۔آستین کے سانپ میں آج تجھے کچل کر رکھ دونگا۔‘‘اُس نے غضب سے کھولتے ہوئے سیف کو فٹ بال کی طرح پھینکا تو وہ ماربل کی بیس سیڑھیوں پر گھومتا ہوا نیچے فرش پر جاگرا تھا۔اُس کا صرف سر ہی نہیں پھٹا بلکہ جسم کی کئی ہڈیاں درد سے بلبلا اُٹھیں۔وہ بری طرح سے زخمی ہوچکا تھا،مگر جازم خان کا قہر تو ابھی باقی تھا۔
’’میں تیری کھال اُڈھیڑ دونگا، تیری بوٹی بوٹی نوچ لونگا۔ تجھے اور بدصورت بنا دونگا۔اِتنا بدصورت کہ محبت کیا نفرت بھی پناہ مانگے کی تجھ سے۔‘‘وہ اُسے جانوروں کی طرح گھسیٹتے پٹختے ہوئے قید خانے کی طرف لے جارہا تھا۔سیف کی خاموشی اور خون کی لکیروں نے اُجلے فرش پر لال رنگ سے ظلم کی ایک اور داستان رقم کردی تھی۔
’’کہاں سے لایا ہے اتنی ہمت کہ تو نے میری ۔۔۔جازم خان کی بیوی کو چھوا۔۔۔بدلے کی آگ میں تو بھول گیا کہ تو ایک جوتیوں سے مسلنے والا بزدل کیڑا مکوڑا ہے ۔۔۔۔مجھ سے انتقام لے گا۔۔۔مجھ سے ٹکر لے گا۔۔۔مجھے نیچا دیکھائے گا۔‘‘جازم نے اپنی انگلیاں سیف کی گردن میں گاڑتے ہوئے اُسے اندھیری کال کوٹھڑی میں دھکیلا اور درندگی کی انتہا کو چھو کر اُس پر لاتیں برسانے لگا۔
’’تیری بے حیائی کا قصّہ ختم ہو چکا ہے۔۔۔تو نہیں بچے گا سیف۔۔۔تو نہیں بچے گا۔۔۔تجھے ایک بار نہیں کئی بار ماروں گا۔۔۔تیرا وہ حشر کرونگا کہ اِس حویلی کا پتا پتا اور اینٹ اینٹ خوف سے تھرتھرائے گی ،کانپ اُٹھے گی۔‘‘اُس نے سیف کے نیم مردہ وجود کو زنجیروں میں جکڑا اور حقارت سے اُس پر تھوکتے ہوئے باہر نکل آیا تھا۔
*****
محبت کی بے حرمتی کرنے والوں سے برداشت نہیں ہوتا جب محبت اُن کی عزتِ نفس پر چوٹ لگاتی ہے۔۔۔نہ محبت کے لباس کو تار تار کرنے والوں کو یقین آتا ہے جب وہ خود محبت کے احتسابی ہاتھوں سے برہنہ ہوجاتے ہیں۔۔۔اُسے اپنی حکومت اور دہشت پر زُعم تھا کہ صاحبہ سب کچھ کر سکتی ہے ،مگر بیوفائی نہیں۔۔۔اُسے اپنی طاقت پر اندھا دھند بھروسہ تھا کہ اُس کے آگے نظر اُٹھا کر سینہ تان کر کھڑے ہونے کی کسی میں تاب نہیں ۔۔۔اُسے گھمنڈ تھا کہ وہ محبت کو ساری عمر اپنی ہتھیلی پر نچائے گا اور جب چاہے مٹھی میں جکڑ لے گا،لیکن محبت کی اِس سرکشی نے اُس کی ہتھیلی ہی نہیں، تن من بھی جلا ڈالا تھا۔آگ لگانے والے کو پہلی با ر آگ نے چھوا تھا، نفرت اور غصے کے انگارے اُس کے انگلیوں کے پوروں اور جسم کے ہر مسام سے پھوٹ رہے تھے۔اُس کا سپاٹ چہرہ، ذہنی اُتار چڑھاؤ، بازؤں کے کھڑے بال، کان کی تپتی لوئیں اور لہولہان اُبلتی آنکھیں لحاظ داری اور سکوت کو روندتی جارہی تھیں۔ حدِ نظر تک بس پیلا اور نارنجی رنگ تھا ،ایک زرد آندھی پوری حویلی میں آچکی تھی۔اُس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ صاحبہ کی جان لے لے، مگر جو وار اُس کے وقار پر کیا گیا تھا،اُس کا ہرجانہ اب صاحبہ کی سانسیں بھی پورا نہیں کرسکتی تھیں۔غصّہ اور غضب جب ملتے ہیں تو انسان پاگل پن کی حد کو چھونے لگتا ہے اور وہ اُس وقت اپنے آپ کو جھنجھوڑتی ہوئی اِس کیفیت کی انتہا پر تھا۔
’’اِن ساری تصویروں کی طرح تمھیں چکنا چور کردونگا۔تمھاری ایک ایک دھڑکن کانچ کے ایک ایک ٹکڑے سے زخمی ہوگی۔‘‘قید خانے سے باہر نکلتے ہی اُس نے دائیں بائیں لگی پینٹنگز کو اپنے فولادی ہاتھوں سے کھینچ کر اتارا اور فرش پر ایسے پٹخ دیا جیسے کوئی جنونی سر پھرا زمینی چیزوں کو چھت پر پٹختا ہے اور پھر اُسی چھت کو زمین بوس کردیتا ہے ۔اُس کی غصیلی جلتی آواز ہاتھوں کی حرکت کا بھرپور ساتھ دے رہی تھی۔
’’جازم خان کے ساتھ دھوکہ کرتی ہے ۔اتنے پتھر برسائے جائے گے تم پر کہ تمھارے لبوں کی پیاس تمھارے ہی لہو کا گھونٹ بھرے گی۔‘‘راہداریوں میں جگہ جگہ رکھی مورتیاں اور پھولوں کے گلدان اُس کے پاؤں کی ٹھوکر سے پاش پاش ہورہے تھے۔اُس نے ایک ایک مصنوعی پھول کو زندہ تصور کرتے ہوئے سخت انگلیوں سے مسل ڈالا تھا۔۔۔اُس نے سب پتھر کی مورتیوں کو تماشائی ناکارہ رعایا سمجھ کر زمین کی دھول چٹا دی تھی۔ وہ ساری قیمتی اشیاء کی توڑ پھوڑ کرتا صاحبہ کی طرف بڑھ رہا تھا۔اُس کے اِس جنونی پن کو سب نوکروں نے چھپ چھپ کر ہراساں نظروں سے دیکھا، مگر کسی میں اتنی ہمت نہیں تھی کہ آگے بڑھ کر اُسے روکتا یا اُس کے اِس عمل کی وجہ دریافت کرتا۔
’’یہ نفرت کا کھیل تم نے بڑھایا ہے ۔۔۔یہ اذیت کا کھیل تم نے پھیلایا ہے۔۔۔اب تم دیکھو گی کہ تمھاری ایک زندگی کتنی بار موت کو گلے لگاتی ہے۔‘‘راہداریاں عبور کرکے اُس نے سیڑھیوں پر قدم رکھے تو بلند متکبرانہ آواز میں جیسے ہر شئے کو للکارا۔ہر چیز کو مسمار کرتا وہ اوپر پہنچ چکا تھا۔قید خانے سے صاحبہ کے کمرے کی طرف جاتے سارے رستے میں شیشے اور پتھر کے ٹکڑے ہی ٹکڑے بکھرے ہوئے تھے۔وہ تیز تیز قدم اٹھانے لگا۔آگ بڑھتی جارہی تھی ،انتقام زور پکڑ رہا تھا۔صاحبہ ہوش میں آنے کے بعد خود کو کمرے میں بند کر چکی تھی۔
’’باہر نکل بدکردار عورت ۔۔۔میں آج تجھے بتاؤنگا کہ بیوفائی کی سزا کیا ہے۔۔۔تِل تِل مروگی تم۔۔۔قطرہ قطرہ تڑپو گی۔‘‘بے دردی سے دروازہ پیٹتے ہوئے وہ زور زور سے چلانے لگا۔
’’آخر وہ وقت آہی گیا جب تمھارے تکبر نے تمھارے ہی منہ پر طمانچہ مارا ہے۔۔۔تمھاری اِس کیفیت پر صاحبہ جھوم رہی ہے ۔۔۔ محبت تالیاں بجارہی ہے ۔۔۔خوشیوں کو قید کرنے والے دیکھو! پوری حویلی تمھارا تمسخر اُڑا رہی ہے۔۔۔تم اپنی لگائی آگ کی لپیٹ میں آچکے ہو۔۔۔یہی تمھارے ظلم ،پاپی نفس اور غرور کی سزا ہے۔‘‘صاحبہ کا مسرت آمیز انداز اور چبا چبا کر بولا گیا ہر لفظ پگھلے ہوئے سیسے کی طرح تھا۔وہ روح تک سرشار تھی ۔ وہ ایسے ہی اُسے جلانا چاہتی تھی،ایسے ہی اُسے تڑپانا چاہتی تھی اور آج وہ کامیاب ہوچکی تھی۔
’’اگر تم نے ایک لفظ بھی اور کہا تو تمھاری زبان کاٹ دونگا۔کھولو دروازہ ! کھولو ۔۔۔ ورنہ یہ دروازہ تو ٹوٹے گا ہی آج تمھاری ہستی بھی مٹ جائے گی۔‘‘صاحبہ کے توہین آمیز الفاظ ،پر سکون لہجہ اُس کے لیے ناقابل برداشت ہوئے تو وہ زور زور سے دروازے کو ہلا کر دھمکی دینے لگا۔
’’حکم۔‘‘اِس سے پہلے وہ اپنے کہے پر عمل کرتا کچھ فاصلے پر کھڑی چاچی شگو نے سہم کر اُسے پکارا۔
’’کیوں آئی ہو تم یہاں منحوس عورت۔کیا تم نہیں جانتی کہ میں اِس وقت غصّے میں ہوں۔‘‘اُس نے پلٹ کر چاچی شگو کو قہر آلود نظروں سے گھورا تو وہ تھر تھر کانپنے لگیں۔
’’حکم گستاخی معاف کیجیے ! مگر بڑی بی بی جی تشریف لائی ہیں۔وہ آپ سے ملنا چاہتی ہیں۔‘‘چاچی شگو نے ہکلاتی ہوئی زبان میں پیغام دیا اور فوراً وہاں سے چلی گئیں۔
’’امی جان! کیوں اور کس لیے آئی ہیں یہاں؟‘‘اِس سوال نے اُسے عجیب کشمکش اور تذبذب میں گرفتار کردیا تھا۔معجزانہ طور پر ذکیہ بیگم کی وجہ سے صاحبہ پر آج کی سختی ٹل گئی تھی۔
*****
حویلی میں داخل ہونے کے بعد وہ سخت متعجب تھیں۔حویل کا ہوبہو سنسان داخلی راستہ۔۔۔اطراف لگے وہی گم صم سے پھول۔۔۔راستہ دیکھاتے ویسے افسردہ ستون۔۔۔بین کرتے اُسی ڈیزائن کے درو و دیور ۔۔۔ قدموں کو کوستے اُس رنگ کے قالین ۔۔۔اُن کے راستے میں آئی بہت سی چیزیں ویسی تھی جو وہ اپنی حویلی میں دیکھ چکی تھیں۔البتہ چند نوکروں کا سامنا اور آرائش کے لیے دیواروں پر سجی اور فرش پر رکھی کچھ مہیب چیزوں کا وجود اُنھیں پریشان ضرور کرگیا تھا۔ کچھ راستہ طے کرنے کے بعد ایک ملازمہ نے نہایت عزت و احترام کے ساتھ اُنھیں مہمان خانے تک پہنچا دیا ۔ بڑا سا مہمان خانہ جو لکڑی کے خوبصورت منقش صوفوں اور دیگر قیمتی اشیا سے سجا ہوا تھا ایک پل کے لیے اُنھیں مزید حیران کر گیا۔اطراف لگے پردوں ،کمرے کی سیٹنگ اور فرنیچر میں رتی برابر بھی فرق نہ تھا۔
’’انسان چیزیں نہیں بدلتا، دل بدل لیتا ہے۔بڑا ظالم ہے انسان بھی۔‘‘وہ گہری سانس لے کر زیر لب بڑبڑاتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئیں۔طویل انتظار کے بعد اب تھوڑا سا انتظار اُنھیں گراں گزر رہا تھا۔
’’آپ یہاں؟ ‘‘ مہمان خانے کے اندر داخل ہوتے ہوئے جازم بھنویں سکیڑ کر اجنبیت سے بولا۔اُس کے لہجے میں ایسی کوئی خوشی نہ تھی جیسے ایک بیٹے کو طویل جدائی کے بعد اپنی ماں کو دیکھ کر ہوتی ہے۔ اُس کے چہرے سے واضح تھا کہ ذکیہ بیگم کی اچانک آمد اُسے اچھی نہیں لگی تھی۔
’’شاید کافی دیر ہوچکی ہے ۔اِس سے پہلے اور دیر ہوجاتی مجھے آنا پڑا۔‘‘ذکیہ بیگم نے اداس نگاہیں اُس پر مرکوز رکھتے ہوئے آہستگی سے لب کچل کر کہا۔جازم نے ایک نظر ماں کو دیکھا وہ کہیں سے بھی وہ مغرور اور خود پسند ذکیہ بیگم نہیں لگ رہی تھیں۔اُن کا کمزور لہجہ ،زرد رنگ ،تھکن میں لپٹے تاثرات ظاہر کر رہے تھے کہ وہ ایک طویل جنگ لڑنے کے بعد ہار چکی ہیں۔
’’مجھے لگا یہ دوری اِس قدر بڑھ چکی ہے کہ شاید ہی مٹ پائے۔‘‘جازم بے پروائی سے شانے اچکا کر کچھ فاصلے پر رکھی اپنی آرام دہ کرسی سنبھال چکا تھا۔
’’تم اپنی انا میں رہے اور میں اپنی انا میں اور اناؤں کے اِس ملبے تلے ہمارا رشتہ دب گیا۔دیکھنے آئی ہوں کہ اِس رشتے کی کتنی سانسیں بچی ہیں۔‘‘ذکیہ بیگم نے پست آواز میں بولتے ہوئے شکست خوردہ انداز میں سر د آہ بھری ۔اُن کی آواز کا دم خم اور رعب ختم ہوچکا تھا ۔
’’کچھ فیصلے فاصلوں کو جنم دیتے ہیں جنھیں قبل از وقت مٹایا نہیں جاسکتا۔‘‘جازم نے دونوں ہاتھوں کی انگلیاں بے سکونی سے جوڑتے ہوئے تقریباً مسلیں۔
’’فاصلہ مٹ سکتا تھا بس ہم نے مٹانے کی کوشش نہیں کی۔‘‘ذکیہ بیگم نے افسوس اور رنجیدگی سے اپنے بنجر لب بھینچے۔
’’میری یاد کے علاوہ ۔۔۔ کیا آپ کا آج یہاں آنے کا کوئی اور مقصد ہے؟‘‘جازم نے ادب و آداب، لحاظ داری اور رشتے کی نوعیت کی پرواہ نہ کرتے ہوئے گھڑی کی طرف دیکھا۔شاید اِس عدالت میں بیٹھنا اُس کے لیے مشکل تھا جو کسی بھی لمحے اُسے کٹہرے میں بلا سکتی تھی۔
’’جب تم نے مجھے بتائے بنا اپنی مرضی سے شادی کی۔۔۔اُسے حویلی میں لے کر آئے۔۔۔میں نے اپنی خاموشی اور بے رخی سے یہی جتایا کہ ہمارا رشتہ ختم ہوچکا ہے۔۔۔میرا انداز اور چہرے کے تاثر یہی بتاتے رہے کہ میں ہمیشہ کے لیے تم سے روٹھ چکی ہوں۔۔۔تم نے بھی اُس ماں کی پرواہ نہ کی جس نے تمھارے غلط کو بھی ٹھیک بنا کر پوری دنیا کے سامنے پیش کیا۔۔۔تمھیں اپنی نئی دنیا عزیز تھی اور تم مجھے تڑپتا ہوا چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔پورا ایک برس تم نے مڑ کر نہیں دیکھا۔۔۔میری مامتا کی توہین کی۔۔۔مجھے جدائی کی اذیت دی۔۔۔آج تم سے میرے بیٹے میں یہی کہنے آئی ہوں! کہ تم نے بالکل ٹھیک کیا میرے ساتھ۔‘‘وہ دل گرفتی سے بولتے بولتے بنا آواز کہ رو دی تھیں ۔جازم کو اُن کے اِس غیر متوقع انداز اور ردعمل سے شدید جھٹکا سا لگا ۔
’’یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ؟‘‘وہ سخت شش و پنج میں گرفتار ہوا۔
’’میں ٹھیک کہہ رہی ہوں۔۔۔جیون کے ساتھ کیے گئے ظلم۔۔۔سیف کے ساتھ ہوئی نا انصافی ۔۔۔تمھاری دی ہوئی جدائی اور رقیہ ناز کے بعد کی تنہائی نے مجھے احساس کے اُس سمندر میں دھکیل دیا ہے جہاں میرا سر تا پیر ندامت میں بھیگ چکا ہے۔‘‘اُنھوں نے سختی سے اپنے آنسو صاف کیے جو اب تواتر سے بہہ رہے تھے۔
’’کوئی ظلم نہیں ہوا جیون کے ساتھ۔۔۔رقیہ ناز اور سیف کی پرواہ کب سے کرنے لگیں آپ؟ میری دی ہوئی جدائی عارضی تھی ۔میں ایک دن آپ کے پاس ضرور آتا۔آخر آپ میری ماں ہیں۔‘‘وہ جذبات کی ہلچل سے کانپا۔اُس کا لہجہ تیکھا اور آواز قدرے بلند تھی۔
’’ہر چیز اور ہر انسان کی پرواہ ہونے لگی ہے مجھے۔میرے سینے کا پتھر سرک گیا ہے جازم۔جانتے ہو جب سے میں نے اعترافِ جرم کیا ہے جیون مجھے نظر آتی ہے ۔۔۔حویلی میں چلتی پھرتی۔۔۔گنگناتی۔۔۔مسکراتی ہوئی۔‘‘ذکیہ بیگم کے ہونٹوں پر ایک پشیمان سی مسکراہٹ اُبھری۔وہ خود آگہی کی منزل پر پہنچ چکی تھیں۔
’’آپ کو کیا ہوگیا ہے امی جان؟شاید آپ نے گزرے وقت کی تلخیوں کا اثر زیادہ لے لیا ہے۔‘‘اُس کی چوڑی پیشانی پسینے سے تر ہوچکی تھی ۔اب وہ کچھ فکرمند نظر آرہا تھا۔
’’سیف! سیف بھی کھو گیا ہے جازم۔اُسے کہیں سے ڈھونڈ کر لا دو۔مجھے اُس سے بھی معافی مانگنی ہے۔میں نے اُس سے زندگی کی ہر خوشی چھینی ہے۔مجھے اُسے ایک رشتہ ایک اختیار لوٹانا ہے ۔۔۔اپنا بیٹا ہونے کا اختیار!‘‘ ذکیہ بیگم نے بے اختیار ہوکر کہا تو جازم نے یکلخت چونک کر اُنھیں دیکھا۔ایک سرد سی لہر اُس کی ریڑھ کی ہڈی میں دوڑ گئی تھی۔
’’وہ منحوس نوکر۔۔۔وہ کسی رشتے کے لائق نہیں۔۔۔اُس کی اوقات بس ہمارے جوتوں کے تلوے جتنی ہے۔۔۔وہ صرف نفرت کے قابل ہے ۔۔۔صرف نفرت کے۔‘‘کچھ دیر پہلے کا منظر اُس کے سامنے لہرایا تو وہ سخت اشتعال میں دانت کچکچاتے ہوئے تلملا ا اُٹھا۔
’’کوئی نفرت کے قابل نہیں ہوتا۔۔۔بس ہم جیسے سنگدل انسانوں کی نفرت کی بھینٹ چڑھ جاتا ہے ۔‘‘ذکیہ بیگم نے اُسی کے انداز میں جواب دیا تو وہ پل بھر کے لیے خاموش ہو گیا۔
’’میرے بچے جو عمر تمھاری اور جیون کی شہزادوں اور پریوں کی کہانیاں سننے کی تھی ، تب میں نے تمھیں نفرت کی کہانیاں سنائیں۔یہ ظلم تم سے اِسی لیے ہوا کیونکہ میں نے تمھارے دل میں نفرت بھر کر اُسے ظلم کرنا سیکھایا۔‘‘ذکیہ بیگم اٹھ کر اُس کے قریب آئیں تو وہ بھی اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا۔سامنے کھڑی ٹوٹی بکھری اُجڑی ہوئی عورت اُسے کہیں سے بھی اپنی ماں نہ لگی۔
’’آپ اپنے آپ کو تکلیف دے رہی ہیں۔مجھے آپ سے کوئی شکایت نہیں ہے۔میں جیسا ہوں مجھے خود سے محبت ہے اور اپنی حکومت سے بھی۔‘‘وہ جھنجھلا کر تکبرانہ انداز میں بولا تھا۔
’’نہیں ہونی چاہیے یہ محبت۔۔۔مجھ سے اور اپنے آپ سے ایک بار نفرت کرو۔۔۔یہی نفرت تمھارے اندر کی اصلی نفرت کو مارے گی۔‘‘انھوں نے جازم کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں لے کر نصیحت آمیز لہجے میں کہا تو اُن کی آنکھوں کے بدلتے رنگ سے وہ خوفزدہ سا ہوگیا۔
’’بس کیجیے امی جان ۔۔۔اب آپ واپس چلی جاہیے ۔۔۔آپ کی باتیں مجھے الجھا رہی ہیں۔‘‘ جازم بیزار کن پاٹ دار آواز میں بولا تو ذکیہ بیگم پلکیں جھپکائے بغیر اُسے بغور دیکھنے لگیں جیسے کوئی کھوئی ہوئی چیز ڈھونڈنے کی کوشش کر رہی ہوں۔
’’سخت دل ہونا بڑی سزا ہے اور تم نے مجھے اِس سزا سے نجات دی ہے۔تمھاری جدائی اور میری ندامت نے مجھے میری اندر کی ظالم عورت سے ملایا ہے۔ذکیہ بیگم نے اپنے حصّے کی سزا پا لی ہے جازم۔سب کچھ ہوکر بھی خالی ہاتھ رہ جانا میری سب سے بڑی بد بختی ہے۔‘‘آنسوؤں سے بھیگا اُن کا ایک ایک لفظ دل کی تڑپ کا ترجماں تھا۔
’’کونسی سزا ۔۔۔۔کیسی سزا۔۔۔کیا ہے یہ سب ۔۔۔میں مانتا ہو ں سارے رابطے ختم کرکے میں نے غلط کیا۔۔۔مگر تب مجھے یہی ٹھیک لگا۔‘‘جازم اُن کی جنونی کیفیت دیکھ کر کچھ پشیمان سا نظر آیا۔
’’میرے ہاتھوں پر دیکھو سزا کی لکیریں ہیں۔۔۔میرے چہرے پر دیکھو سزا کی جھریاں ہیں ۔۔۔میرے دل میں جھانکو بس سزا ہی سزا سنائی دے گی۔۔۔مگر اِس بھاری سزا کا بوجھ اعترافِ جرم نے ہی ہلکا کیا ہے۔۔۔تم بھی اپنے گناہ کو پہچانو جازم ۔۔۔اِس سے پہلے ضمیر کا چہرہ پوری طرح سے مسخ ہوجائے۔‘‘ذکیہ بیگم نے سوجھی ہوئی آنکھوں کو پھیلا کر سکتے کی سی کیفیت میں کہا۔
’’آپ کی یہ انہونی باتیں مجھے تکلیف میں مبتلا کر رہی ہیں، اِس وقت یہی بہتر ہے کہ آپ واپس حویلی چلی جائیں ۔‘‘جازم کی برداشت جواب دے گئی تو وہ اجنبیت برتتے ہوئے دروازے کی طرف دیکھنے لگا۔
’’چلی جاؤنگی میرے بچے ،مگر جانے سے پہلے میں تمھاری دلہن سے ملنا چاہتی ہوں۔مجھے اُسے گلے لگانا ہے۔اپنے اُس دن کے رویے کی معافی مانگنی ہے۔‘‘ ذکیہ بیگم نے تاسف سے لبریز منت بھری آواز میں کہا تو جازم یکدم پلٹا۔اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ ذکیہ بیگم ایسی خواہش کا اظہار بھی کر سکتی ہیں۔
’’آپ اُس سے نہیں مل سکتیں۔‘‘وہ جلدبازی میں ہکلایا۔وہ کسی صورت نہیں چاہتا تھا کہ ذکیہ بیگم حقیقت سے آگاہ ہوں۔
’’لیکن کیوں؟‘‘ذکیہ بیگم نے تعجب سے پوچھا۔وہ اُس کی آنکھوں میں پنہاں اضطراب کو بھانپ گئی تھیں۔
’’پلیز ضد مت کیجیے ،میں جلد ہی اُسے آپ سے ملوا دونگا، مگر آج نہیں۔‘‘جازم کے دو ٹوک قطعی لہجے میں کچھ ایسا تھا کہ وہ خاموش رہیں۔جانے سے پہلے اُنھوں نے مڑ کر بیٹے کی طرف دیکھا ،جس کا چہرہ کئی ان کہی کہانیاں سنا رہا تھا۔
*****
ذکیہ بیگم جا چکی تھیں، مگر اُس کے اندر کی بے قراری ہنوز برقرار رہی۔ایک طرف صاحبہ کا سیف کے لیے سر اُٹھاتا عشق اور دوسری طرف ذکیہ بیگم کی ندامت سے جھکی ہوئی گردن ،وہ اُس لمحے دہری کشمکش اور بے چینی کا شکار ہوچکا تھا۔بوجھل شام رات کے آنچل میں سما چکی تھی پر سکون کی کوئی گھڑی اُسے باہوں میں سمیٹنے کو تیار نہ تھی ۔مہمان خانے میں رعب و داب سے گونجتی اُس کے بوٹوں کی چاپ اندر کے خاموش طوفان کو کچلنے میں ناکام ہورہی تھی۔وہ ذکیہ بیگم کی ہر بات کو نظر انداز کر سکتا تھا ،مگر اُس خواہش کو دوسری بار رد کرنا اُس کے لیے بے حد مشکل تھا جو وہ جاتے جاتے کر گئی تھیں۔
’’مجھے امی جان کو دوبارہ حویلی میں آنے سے روکنا ہوگا۔۔۔
وہ صاحبہ سے نہیں مل سکتیں۔۔۔۔
میں ایسا کبھی نہیں ہونے دونگا!
صاحبہ اب کوئی رشتہ کوئی تعلق کوئی رتبہ ڈیزرو (Deserve) نہیں کرتی۔۔۔
وہ صرف و صرف سزا کی حقدار ہے ۔۔۔
میں اُسے کسی ایسے انسان سے نہیں ملنے دونگا جو اُس کے لیے رحم کی درخواست کرے۔‘‘ وہ تیز تیز قدموں سے چکر کاٹتے ہوئے حکمانہ انداز میں جیسے خود کو اور ہر شئے کو باور کرا رہا تھا۔
چلتے چلتے اُس نے مہمان خانے کی ساری کھڑکیاں کھول دی تھیں۔ایک ایک قدم پھونک پھونک کر رکھنے والا، لمحے لمحے کی پلاننگ کرنے والا تقدیر کے ناگہانی وار سے لڑکھڑا رہا تھا۔ہاتھوں سے چھوٹتا پسینہ ۔۔۔گرم کنپٹیاں اور انگار ے برستی آنکھیں یہ ظاہر کر رہی تھیں کہ سکون لوٹنے والا آج بے سکونی کی سخت پکڑ میں ہے۔کچھ لوگوں کے سامنے محبت رشتے ذبح کر دیئے جائیں تو وہ اِتنا نہیں تڑپتے جتنا وہ اپنی انا پر چھری پھر جانے پر تڑپتے ہیں۔اُس کی انا یہ سچائی تسلیم کرنے کو تیار نہ تھی کہ جس دولت کو وہ سینت سینت کر رکھتا آیا ہے ،وہی دولت اُس سے کم طاقت رکھنے والے ایک نوکر نے چرا لی ہے۔وہ تو اپنی کوئی بے جان چیز بھی کسی کو دینے کا روادار نہ تھا۔اُسے یہ گوارا کہاں تھا کہ کوئی اُس کی چیز کی طرف نظر اُٹھا کر بھی دیکھتا۔اور یہ تو صاحبہ تھی اُس کے غرور اور نشے کی محبت۔اُس کا انتخاب ،حویلی کی ملکہ۔اِس نشے کا اترنا، اپنے انتخاب کا کھوٹ وہ کیسے سہہ پاتا؟۔سیف کی دغا بازی صاحبہ کی بیوفائی اُس کے لیے ناقابلِ برداشت سزا بن چکی تھی۔
’’موت تو یہ کھیل ختم کردے گی۔۔۔
یہ تماشا مٹا دے گی۔۔۔
تم دونوں میرے سامنے رہو گے۔۔۔تڑپتے ہوئے ۔۔۔سسکتے ہوئے ۔۔۔موت کی بھیک مانگتے ہوئے۔۔۔۔
میں تم دونوں کا وہ حال کرونگا کہ زندگی کے آس پاس رہتے ہوئے تم دونوں موت کی دعا کروگے۔۔۔۔
یہ بے حیائی،بے وفائی جسے تم عشق کہتی ہو صاحبہ اِس کا انجام بہت برا ہے بہت برا۔۔۔۔۔۔‘‘
اُس نے دونوں ہاتھوں کی پانچوں انگلیاں جوڑ کر جیسے لہو میں بہتے اضطراب کو باندھا اور زور زور سے سانس لیتا ہوا اپنی کرسی پر آبیٹھا۔رات کا ایک ایک پل اُس کے وجود کو کاٹتے ہوئے صدی کا روپ دھار چکا تھا۔
’’رحیم بخش۔۔۔رحیم بخش۔۔۔‘‘کھڑی سے براہ راست منہ پر پڑتی روشنی نے صبح کا سندیسا دیا تو وہ پوری طاقت سے چلایا۔
’’جی حکم۔۔۔جی حکم۔۔۔‘‘اُس کی آواز کی سختی سے بوکھلایا ہوا اُس کا خاص خادم حاضر ہوچکا تھا۔
’’جاؤ اور حویلی کی کچھ خادماؤں کو حاضر کرو۔‘‘اُس نے دونوں ہاتھوں کی گرفت کرسی پر مضبوط کی اور انتقامی لہجے میں کہا۔
’’جو حکم سرکار کا۔‘‘رحیم بخش بنا نظر اُٹھائے تابعداری سے سر ہلاتا ہوا باہر نکل گیا تھا۔روشنی پھیلنے سے پہلے چاچی شگو سمیت چھے نوکرانیاں اُس کے سامنے تھیں۔زندگی سے بیزار اُن عورتوں کے چہرے پر اتنی ہی سفاکیت تھی جتنی وہ چاہتا تھا۔
’’میری باتیں غور سے سنو! ایک ایک بات پر ویسے ہی عمل ہونا چاہیے جیسے میں نے کہہ دی۔‘‘اُس نے الفاظ چپاتے ہوئے ایک نظر اٹھائی تو وہ سب آنکھیں جھکائے اثبات میں سر ہلا رہی تھیں۔وہ بولنا شروع ہوا تو چاچی شگو سمیت سب عورتوں کے چہرے کے رنگ زرد پڑ گئے۔ بے تابی سے پہلو بدلتے ہوئے وہ درزیدہ نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگیں۔اُس کے ایک اور ظالم روپ کی جھلک دیکھ کر کچھ خادماؤں نے گھبراہٹ سے اپنی انگلیاں مروڑنا شروع کردیں تو کچھ نے بے بسی سے لب کاٹ لیے۔ اذیت پہنچانے والا یہ وہ منصوبہ تھا جسے سن کر ہر وہ دل کانپ اُٹھتا جس میں تھوڑی بہت بھی انسانیت باقی تھی۔
’’جاؤ جا کر تیاری کرو۔۔۔غفلت۔۔۔رعایت اور رحم میں کسی صورت برداشت نہیں کرونگا۔‘‘اُس نے جیسے ہی ہاتھ بلند کرکے بات ختم کی وہ سب رکی ہوئی سانسیں خارج کرکے پھرتی سے باہر چلی آئیں۔
*****
جھکا ہوا ہے جو مجھ پر وجود میرا ہے
خود اپنے غار کا پتھر وجود میرا ہے
ساری رات وہ زمین پر بے حوش پڑا رہا ۔سر پر لگنے والی چوٹ اور زخموں سے چور جسم اُسے درد کی انتہا پر لا کر درد سے بیگانہ کر چکے تھے ۔ اوندھے منہ پڑا ہوا وہ دنیا جہاں سے بے خبر تھا۔قید خانے میں ہولناک خاموشی تھی اور جگہ جگہ اندھیرے کے منہ سے لگے اُس کے خون کے قطرے ۔وہ زندگی اور موت کے درمیاں اُس بھیانک خواب میں تھا جہاں مرجاتا تو جیون سے شرمندہ رہتا اور زندہ بچتا تو صاحبہ کا گنہگار ہوتا۔یہ اذیت تب تک خاموش رہی جب تک زندگی نے اُسے اپنی موجودگی کا احساس نہ دلایا۔صبح مٹی سے اٹے ہونٹوں نے ایسی سانس بھری جیسے ساکت دریا میں زور سے پتھر اچھالا جاتا ہے۔رواں ہوتی خون کی گردش نے سوجھے بند پپوٹوں کو کھولنے میں سہارا دیا تو وہ روشنی سے نظر ملانے کے لیے جھٹپٹانے لگا۔
’’کیا میں زندہ ہوں؟۔۔۔۔۔۔
کیا میں سانس لے رہا ہوں؟۔۔۔۔
کیا آس پاس زندگی ہے؟‘‘ آنکھیں کھولتے ہی جیسے ڈوبتے دل نے کئی سوال کیے۔جوں جوں گزشتہ کل یاد آتا گیا اُس کا لمحہ لمحہ بھاری ہوگیا۔
’’صاحبہ بی بی۔۔۔کیا ہوا ہوگا اُن کے ساتھ؟۔۔۔کیا موت؟ ۔۔۔نہیں۔۔۔نہیں۔۔۔اگر میں زندہ ہوں تو وہ بھی زندہ ہوگیں۔‘‘زخمی سوکھے لبوں کو بمشکل جنبش دیتے ہوئے نجانے کیوں وہ اُسے یاد کر گیا۔اُس نے صاحبہ کا درد محسوس کیا تھا بس محبت محسوس کرنے کی اُس کے دل میں گنجائش ہی نہیں تھی۔درد کا تعلق بڑا مضبوط ہوتا ہے کسی سے جڑ جائے تو اُس کی راحتوں کی خاطر انسان ہر گھاؤ سینے پر سہہ جاتا ہے ۔وہ یہاں سے نکلنا چاہتا تھا،جازم کو سمجھانا چاہتا تھا کہ چاہے وہ اُس کی جان لے لے ،پر صاحبہ کو آزاد کردے۔اپنی بچی کچی طاقت آزمانے کے لیے اُس نے ہاتھ پیروں کو زور سے ہلایا اور کہنیوں کے بل زنجیروں سے جکڑے وجود کو گھسیٹتے ہوئے دروازے کے قریب لے آیا۔لوہے کی زنجیریں کھلے ہوئے زخموں سے ٹکرا کر مزید تکلیف بڑھا گئی تھیں۔اُس نے نحیف کانپتے ہاتھوں سے دروازے پر دستک دی ،مگر یہ ہلکی آوازیں ظلم اور قہر کے طوفان میں دب سی گئیں ۔وہ جان گیا تھا کہ یہ دروازہ اپنی مرضی سے کھلے گا یا اُس کے مرنے کے بعد ۔دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے وہ وہی سیدھا ہو کر لیٹ گیا۔آنکھوں کے آگے اُتنی روشنی تھی جتنی خیرات میں ملا کرتی ہے۔دروازے کے نیچے اور کھڑکی کے کونوں سے جھانکتی کرنوں نے بتا دیا تھا کہ دن کا آغاز ہوچکا ہے۔اُس نے غیر ارادی طور پر اوپر دیکھا مدھم روشنی میں وہ چاند چہرہ چمک رہا تھا۔وہ رو رہی تھی ،اُس کے آنسو ٹپ ٹپ گر رہے تھے اور سیف کو یہ نینوں کی برسات روح تک جھلسانے لگی۔وہ اُسے اِتنی شدت سے روتی ہوئی پہلی بار نظر آئی تھی۔
’’میں جانتا ہوں تم میری بزدلی پر رو رہی ہو جیون۔۔۔
نہ میں تمھارے لیے کچھ کر پایا نہ صاحبہ بی بی کے لیے۔۔۔
میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔
نہ میں محبت کے لیے لڑ سکا تھا۔۔۔
نہ انسانیت کے لیے لڑ پایا ہوں۔۔۔
میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔
میرا بے فائدہ وجود کئی زندگیوں کا تماشا دیکھ چکا۔۔۔
میری یہ گنگار آنکھیں وقت کے ہر ستم کی گواہ ہیں،جسے میں روک نہیں پایا۔۔۔
میں مرنا چاہتا ہوں۔۔۔
تمھیں قسم ہے مرنے کے بعد میرے سامنے مت آنا!۔۔۔
موت شرمندہ کردے تو واپس لوٹنے کا موقع نہیں دیتی۔۔۔
نہیں دیتی۔۔۔۔۔۔‘‘وہ آہستہ آہستہ بولتے ہوئے پھر سے اندھیرے سے جاملا تھا اور یہ اندھیرا بے بسی کا تھا۔۔۔۔۔موت کا نہیں!!!
*****
میں تیرا نام پکاروں تو ہوا رقص کرے
بوئے گل جھومے پھرے،بادِ صبا رقص کرے
صرف وقت نے ہی نہیں موسم نے بھی کروٹ بدلی تھی ۔جیسے گھنے پیڑ پر سورج کی کرنوں کا حکم کم کم چلتا ہے ویسے ہی سردیوں کی طویل راتیں دنوں پر حکومت کرتیں ہیں۔دکھ درد ہو یا عشق کا میٹھا احساس گہری لمبی راتوں کے دامن میں پھیل جایا کرتا ہے۔رات کی تنہائی میں ہر شخص اپنی کہانی کا مصنف ہوتا ہے اور دل کے نغموں کا گیت کار۔ وہ بھی کُہر میں لپٹی رات کو دیکھتے ہوئے اپنی کہانی کے اُس کردار کے بارے میں سوچ رہی تھی جس نے دل کے تار چھیڑنے میں بڑی دیر لگا دی تھی۔پورا ایک دن گزر چکا تھا وہ چہرہ دیکھے ہوئے جس نے اُس کے اندر زندگی کی شمع جلا ئی تھی۔اُسے نہ کوئی افسوس تھا نہ کوئی خواہش کہ وہ سیف کو دوبارہ دیکھ بھی پائے گی یا نہیں ، وہ چہرہ اُس سے جدا ہی کب ہوا تھا۔وہ پانے کھونے سے بہت آگے نکل آئی تھی کیونکہ وہ ایک ایسا احساس پا چکی تھی جو حاصل حصول کی لالچ ختم کردیتا ہے۔جازم کے جانے کے بعد اُس نے دروازہ خود ہی کھول دیا تھا ۔جب گرنے کا خوف نہیں تھا تو دیواریں اُٹھانے کا کیا فائدہ۔وہ حیران ضرور تھی کہ اُس ظالم شخص نے اب تک اُس کے کمرے کا رخ نہیں کیا تھا۔پس وہ انجان تھی کہ جب درندے کوئی طوفان اُٹھاتے ہیں تو سب سے پہلے سارے بند باندھ دیا کرتے ہیں۔
’’صاحبہ بی بی میں آپ کو لینے آئی ہوں۔‘‘ہوا کے جیسے یکدم ایک سرسراتی آواز اُس کی سماعتوں سے ٹکرائی تو اُس نے مڑ کر پیچھے دیکھا ۔ دروازے میں ملازمہ جندن کھڑی تھی جو شکل و صورت میں باقی ملازماؤں سے الگ نہ تھی۔صاحبہ کا اب تک اُس سے سامنا کم ہی ہوا تھا اِس لیے وہ سمجھ گئی کہ کوئی انہونی ہونے والی ہے۔
’’اِس وقت ۔۔۔ کہاں جانا ہے مجھے۔؟‘‘صاحبہ نے کھڑکی کے پٹ سے ہاتھ ہٹاتے ہوئے حیرانی اور کچھ اُلجھن آمیز انداز میں پوچھا۔
’’کچھ دیر تک آپ سب سمجھ جائے گیں۔‘‘جندن نے سوال کا الٹ جواب دیا تو وہ جان گئی کہ یہ عورت اُتنا ہی بولے گی جتنا اُسے بولنے کا حکم ہے۔
اُس نے گرم شال سے خود کو اچھی طرح لپیٹا اور بنا کوئی سوال کیے جندن کی تقلید میں اُس کے پیچھے چل پڑی۔حویلی کے اندرونی اور بیرونی حصے میں موسم کا خاصا فرق تھا۔جگہ جگہ بچھے قالین اور ہر طرف لگے دبیز پردے موسم کی شدت کو دخل اندازی کی کھلی اجازت نہیں دے رہے تھے ۔چلتے چلتے وہ دونوں حویلی کے اُس بڑے دروازے تک پہنچ گئیں جو بیرونی طرف کھلتا تھا ۔
’’یہ شال اُتار دیجیے اور یہ جوتے بھی۔‘‘ایک ملازمہ کے ایسے حکم پر وہ چونکی ضرور ،مگر پریشان نہ ہوئی۔اُس نے چپ چاپ تحمل سے جندن کی بات پر عمل کیا ۔دروازہ کھل چکا تھا اور سرد ہوائیں اُس کے جسم کے آر پار ہونے لگی تھیں۔اُس نے ایک جھرجھری سے لی ،مگر اپنی کیفیت کا اظہار نہیں کیا۔ٹھنڈے فرش پر قدم رکھتے ہوئے وہ بخوبی سمجھ گئی کہ جازم اُسے کیا سزا دینا چاہتا ہے ۔
’’سر پر کفن باندھنے والے اب کیا موسموں کی سختی سے ڈریں گے۔‘‘ وہ دل ہی دل میں جازم کی اِس احمقانہ سزا پر ہنس دی تھی۔اِن حالات میں صاحبہ کا یوں مسکرانا جندن کو کچھ عجیب سا لگا۔حویلی کے بڑے آنگن کو عبور کرنے کے بعد اُسے شبنم میں ڈوبی گھاس پر رکنے کا حکم دیا گیا تھا۔ٹھنڈے پانی کے قطرے اُس کے پیروں کو سن کرنے لگے تھے مگر دل میں جو جوت جل چکی تھی اُس میں ذرہ برابر بھی آنچ نہ آئی تھی۔
’’مجھ سے موسم کی شدتیں برداشت نہیں ہوتیں جازم۔یوں لگتا ہے موسموں کے سخت ہاتھ میرے وجود کو بے جان کردیں گے۔‘‘وہ کافی کا مگ ٹھٹھرتے ہوئے ہاتھوں میں تھام کر کپکپاتے لبوں کے قریب لا کر بولی تھی۔
’’نازک مزاج لوگوں سے موسم محبت نہیں کیا کرتے رانی ۔ہوسکتا ہے کبھی عشق کے امتحان تمھیں چلچلاتی دھوپ میں بھاگنے پر مجبور کردیں اور کبھی دسمبر کی ٹھنڈی زمین پر ٹھرنے کے لیے۔‘‘وہ اُس کے سرد ہاتھوں کو محبت سے چھوتے ہوئے قطیعت سے بولا۔اچانک سے ایک کانٹا اُس کے پیر میں چبھا تو وہ جیسے ہوش میں آگئی۔شادی سے پہلے کی ایک بات یاد آنے پر اُس کی مسکراہٹ اور گہری ہو چکی تھی۔جندن جاچکی تھی یہ اشارہ دے کر کہ اُسے اب ساری رات یہی ٹھرنا ہے ۔شبنم کا سمندر اُس کے اعصاب کو ڈوبونے کے لیے تیار کھڑا تھا تو کئی چھپائے گئے کانٹے اُس کا لہو چوسنے کے لیے۔حویلی کی ساری روشنیاں جلادی گئی تھیں ،مگر کسی بھی نوکر کو باہر نکلنے یا دیکھنے کی اجازت نہ تھی ،وہ صاحبہ کی بے قراری اور تڑپ کا تماشہ اپنی کھڑکی سے اکیلے ہی دیکھنا چاہتا تھا۔
عشق کے ہاتھ پہ بیعت ہوا ہے دل میرا
اِسے دلدار نے بخشی ہے سزا رقص کرے
رات آہستہ آہستہ بڑھ رہی تھی اور صاحبہ دھیرے دھیرے چلتے ہوئے ہر شئے میں اُسے دیکھ رہی تھی۔کانچ کے جلتے سب بلبوں میں کسی کے ساتھ کی روشنی تھی۔۔۔بھیگے بھیگے گلابوں سے کسی کی آواز سنائی دے رہی تھی۔۔۔ٹمٹماتے ستاروں میں وہی امید بھری دو آنکھیں تھیں۔۔۔۔منجمد لہو میں ایک ہی پکار تھی۔۔۔کانٹوں کی سونپی سسکاری میں ایک ہی نام تھا۔۔۔۔سیف!۔۔۔۔سیف!۔اُس نے ایک نظر جازم کی کھڑکی کی طرف دیکھا اور گول گول گھومنے لگی۔اُس کا گھومتا فراک اور جھومتا دل اُسے اُس جہاں میں لے گیا تھا، جہاں برف کی طرح سرد ہوتے جسم میں عشق کا لاوا بجھانے کی اجازت نہ تھی۔
جازم نے ساری رات ایک پل کے لیے بھی اُس سے نظریں نہ ہٹائیں ۔اُس لیلی کے ہلتے ہونٹوں کا تبسم ،بند آنکھوں کا اطمینان جازم کو اُسی دائرے میں پٹخنے لگا جہاں اُس کے غرور کی گردن تھی اور صاحبہ کے تھرکتے پیر ۔اچانک وہ وجدانی کیفیت سے نکلی اور دور سے اُسے ایسے دیکھنے لگی جیسے کہہ رہی ہو۔
’’تم عشق کو موسموں سے ڈرا رہے ہو۔۔۔کتنے نادان ہو تم ۔۔۔تم نے توآج مجھے کھلے آسمان تلے عشق منانے کا موقع دیا ہے۔۔۔چند برف کی قاشیں اُبلتے لہو میں ڈال دینے سے یہ آگ بجھتی نہیں ہے۔۔۔ اور بھڑکتی ہے۔۔۔اور تم جیسے تماش بینوں کو جلا کر راکھ کردیتی ہے۔‘‘وہ اِتنا زور سے ہنسی کہ اُس کی ہنسی کی بازگشت پوری حویلی میں گونجے لگی۔ہنستے ہنستے وہ پھر اُسی کیفیت میں آچکی تھی۔اب اُس کا دھمال عشق کی تھاپ پر تھا۔۔۔اب اُس کے کان عشق کی بانسری کی طرف تھے۔ ۔۔اب اُس کی نظر عشق کی محفل پر تھی۔۔۔جو آس پاس کسی کے خیالوں کے دیپ سجا گئے تھے۔ اندھیرے میں روشنی اور روشنی میں سیف وہ حقیقت سے ناطہ توڑ کر خماری کی دنیا سے جڑ گئی ۔اُس کے کالے لمبے بال قید سے آزاد ہوچکے تھے اور چاروں سمت میں گھومتے ہوئے جازم کو سانپ کی طرح ڈسنے لگے ۔روشنیاں اُس کے آس پاس رقصاں تھیں اور رات اُس کے وجود میں تحلیل ہورہی تھی۔اُس کی گنگناہٹ ،تھرکتے پیر جازم کے وقار پر ایک کرارا تھپڑ تھے۔اُسے لگا اگر صاحبہ نہ رکی تو اُس کا دل رک جائے گا۔سیف سیف پکارتے ہوئے جب وہ وہی گر گئی تو جازم کا سکتہ بھی ٹوٹ گیا ۔وہ فوراً دروازے کی طرف بھاگا ،وہ اتنی معمولی سزا سے اُسے مرنے نہیں دینا چاہتا تھا۔
*****
پورا دن سب خادمائیں اُس کی خدمت پر معمور رہی تھیں۔وہ سب اِسی کوشش میں تھیں کہ صاحبہ بی بی جلد ہوش میں آجائیں۔ صاحبہ کا ہوش میں آنا اُن کے لیے اِتنا ہی ضروری تھا جتنی اُن کی اپنی زندگی۔اِس حویلی سے باہر اب نہ اُن کے لیے کوئی پناہ گاہ تھی نہ کسی اپنے کا آسرا۔یہ تماشا اُس نہج تک پہنچ چکا تھا جہاں وہ تالیاں پیٹنے کی بجائے پرسوگ کیفیت میں ہاتھ باندھے کھڑی تھیں۔وہ سب اپنے مالک کے قہر سے خوفزدہ تھیں۔ہر ایک کے اندر یہ ڈر پنپ رہا تھا کہ جو قبر صاحبہ کے لیے کھودی جائے گی ۔ اُن کو بھی اُس کے ساتھ دفن ہونا ہوگا۔
’’حکم جب اُنھیں درد کی انتہا تک لے جانا چاہتے ہیں تو پھر اُن کا درد کم کیوں رہے ہیں مرنے کیوں نہیں دیتے اُنھیں۔ ہم پر بھی مسلسل ایک عذاب لٹک رہا ہے۔‘‘کب سے اندر ہی اندر بھری بیٹھی رشیداں اچانک بھنّا کر بولی۔اُس کے تیز تیز جڑی بوٹیاں پیستے ہاتھ رک چکے تھے۔
’’ٹھیک ہی کہہ رہی ہے تُو۔۔۔پہلے اِس بی بی کو تکلیف پہچانے کے لیے محنت کرو پھر اِس کی تکلیف کم کرنے کے لیے۔ہمری سمجھ سے تو باہر ہے یہ کھیل۔‘‘مٹی کے بڑے پیالے میں کوئی پڑیا ملا کر دردانہ نے خاصی بدلحاظی سے کہتے ہوئے رشیداں کی حمایت کی تھی۔دردانہ وہی تھی جس نے جندن کے ساتھ مل کر گھاس میں جگہ جگہ کانٹے بکھیرے تھے۔
’’جانے حکم صاحبہ بی بی سے کیا چاہتے ہیں؟نہ وہ اُن کے زندہ رہنے سے خوش ہیں نہ مرنے پر راضی۔میں نے ایسی نوکری آج تک نہیں کی ، جہاں ہر سمے بس اذیت دینے کا ہی کام ہو۔‘‘ ٹھنڈے زخمی پیر وں پر کسی چیز کا لیپ کرتی ہوئی زرینہ نے بھی بے حس و حرکت پڑی صاحبہ کے چہرے کو بغور دیکھتے ہوئے کہا۔اُس کے انداز سے اُلجھن عیاں تھی۔
’’زہر پلا کر پھر اُس زہر کا تریاق کرنا موہے تو نہ محبت لگے ہے نہ نفرت۔۔پاگل پن ہے اور تف ہے اِس پاگل پن پر۔‘‘رم جھم نے گرم کاڑھے کے کچھ قطرے صاحبہ کے سوکھے ہونٹوں پر گرا کر جیسے اُس کسیلی دوا کا ذائقہ حلق تک محسوس کیا۔
’’تم سب احمقوں کی طرح باتیں مت کرو! تمھاری یہ لمبی زبانیں کہیں دیواروں کے کان نہ کٹوا دیں۔ہمیں بس اپنے کام سے کام رکھنا ہے ۔ رہی بات اِس کہانی کو سمجھنے کی تو سن لو شکاری کو شکار سے بیر ہو یا نہ، وہ اُس کا شکار ضرور کرتا ہے اور شکاری کو مردہ شکار پسند نہیں ہوتے۔انھیں جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ پھر توڑا جاسکے جائے۔‘‘چاچی شگو نے کرخت لہجے میں سب کو ایسا جلّا کٹا جواب دیا تو وہ اپنے اپنے کام میں لگ گئیں۔
جیسے ہی اُسے ہوش آیا اُسے اپنا جسم ٹوٹتے ہوئے محسوس ہو ا تھا۔جسم اور سانسوں سے اُٹھنے والی حد ت بتا رہی تھی کہ وہ شدید بخار میں مبتلا ہے۔جلتی ہوئی پلکیں پھیلا کر اُس نے سامنے دیکھا تو اُس کے آس پاس بس وہی موجود تھا۔
’’تم تو اِتنی چھوٹی سی سزا سے گھبرا گئی ۔۔۔عشق کے باقی امتحان کیسے دو گی صاحبہ!‘‘ وہ اُس کے آس پاس منڈلاتے ہوئے طنزیہ و تحقیر بھرے انداز میں درشتی سے بولا تھا۔
’’میں گھبرائی نہیں تھی۔۔۔بس سو رہی تھی۔۔۔جلتی ہوئی وادی کے اُس پار وہ مجھے ملنے آیا تھا۔۔۔اُس کا راحت پہنچاتا لہجہ ۔۔۔چمکتا چہرہ۔۔۔میں تو جارہی تھی اُس اندھیرے میں۔۔۔کہیں دور ۔۔۔مگر مجھے آنا پڑا ۔۔۔کیونکہ میں بزدل نہیں ہوں تمھاری طرح!‘‘وہ ٹھر ٹھر کر بولتے ہوئے طمانیت سے مسکرائی تھی۔
’’بند کرو اپنی یہ بکواس! خاک میں ملادونگا میں اُس کو جس کے لیے تم خود ساختہ بنائی دنیا میں جھومتی پھر رہی ہو۔نیست و نابود کردونگا میں تمھارے عشق کا یہ محل۔‘‘جازم نے اُس کے کھلے بالوں اور گردن کو ایک ساتھ دبوچ کر للکارا تو صاحبہ اُس کے چہرے کے بدلتے رنگ کو غور سے دیکھنے لگی۔اپنی خوبصورتی کے اندر وہ کس قدر بدصورت تھا۔اِتنا ہیبت ناک چہرہ اُس نے شاید ہی کبھی دیکھا ہو۔ظلم درندگی سفاکیت کسی دل میں پناہ لے لیں تو وہ واقعی خوبصورت چہروں کا روپ چھین لیا کرتی ہیں ۔
’’اُسے جانے دو جازم خان ۔۔۔وہ بے قصور ہے ۔۔۔معصوم ہے۔۔۔بے گناہ ہے۔۔۔تمھاری انا کی تسکین کے لیے میں یہاں ہوں۔۔۔چاہے سارے دروازے کھڑکیاں کھول کر آزما لو۔۔۔۔میں کہیں نہیں بھاگو نگی۔‘‘وہ اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے التجائیہ انداز میں کہتے ہوئے یقین دلا رہی تھی۔
’’میں کسی صورت اُسے نہیں چھوڑونگا! تم جسے چاہو۔۔۔تم جسے پسند کرو۔۔۔میں ہر اُس چیز اور شخص کو برباد کردونگا۔‘‘جازم نے ایک جھٹکے سے اُسے چھوڑا تو وہ زور سے بیڈ کے کراؤن سے جا ٹکرائی۔
’’اپنے آپ کو دیکھو جازم خان !تم مجھ سے زیادہ برباد ہو۔۔۔تمھاری آنکھیں مجھ سے زیادہ سوجھی ہوئی ہیں۔۔۔تمھارے ہاتھ میرے ہاتھوں سے زیادہ جل رہے ہیں۔۔۔تمھارا دل میرے دل سے زیادہ زخمی ہوچکا ہے ۔۔۔میرے سر پر عشق کا ہاتھ ہے۔۔۔کیا ہے تمھارے پاس؟۔۔۔یہ پتھر کی حویلی۔۔۔یہ مشینی خادم۔۔۔اور کچھ مردہ رشتے۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ کر جازم کا گریبان پکڑ تے ہوئے چلا چلا کر بولی تھی۔جازم نے اُسے اُتنی شدت سے تھپڑ مارا جتنی شدت سے وہ مار سکتا تھا اور کمرے سے باہر چلا آیا۔اُسے صاحبہ کی اِن باتوں کا جواب دینا تھا،اُسے درد پہنچانا تھا اور وہ جانتا تھا کہ اب اُسے کہاں جانا ہے۔
*****
’’بہت دیر سے ہی سہی میں نے تمھیں اچھا انسان مان لیا تھا۔۔۔
میں نے تمھیں اپنا کہا تھا۔۔۔۔
میں نے تمھیں دوست سمجھا تھا۔۔۔
میں تم سے روٹھ کر نہیں گئی تھی۔۔۔
پر اب تمھیں مجھے منانا ہوگا۔۔۔
میں تمھیں محبت سے نہیں پکار سکی۔۔۔۔
مگر تم محبت کی ہر سو گونجتی آواز کو مایوس مت لوٹاؤ۔۔۔
میں تم سے کچھ مانگتی ہوں۔۔۔تم سے کچھ چاہتی ہوں۔۔۔
اپنی برداشت اور چپ کے خول میں تم نے آج تک ناانصافیوں کو پناہ دی ہے۔۔۔
تم اپنے ہاتھوں سے بس آنسو ؤں اور محرومیوں کو سہارا دیتے آئے ہو۔۔۔
یہ اندھیرا اور خاک جس پر تم پڑے ہو۔۔۔
اِس کو تمھاری ضرورت نہیں ہے۔۔۔
ایک بجھتی ہوئی روشنی کو تمھاری ضرورت ہے۔۔۔
ایک جیتے جاگتے انسان کو تمھاری ضرورت ہے۔۔۔
تمھیں ظلم کی اِس تاریکی سے نکلنا ہوگا۔۔۔
میں چاہتی ہوں تم انصاف کی زمین پر قدم رکھو ۔۔۔
بزدلی کے اِس خول کو تار تار کردو۔۔۔
چاہے تمھیں لہو کی بوند بوند دینی پڑے۔۔۔ایک ایک سانس لٹانی پڑے۔۔۔
لٹا دو۔۔۔مرجاؤ۔۔۔مٹ جاؤ۔۔۔۔
مگر خود کو ہارنے مت دو۔۔۔
عشق کو ہارنے مت دو سیف ۔۔۔‘‘
قید خانہ جگمگا اُٹھا تھا ۔۔۔وہ اُس کے سامنے تھی۔۔۔روشنی کے ایک ہالے میں لپٹی ہوئی ۔۔۔بنا پلکیں جھپکا کر بولتی ہوئی ۔۔۔وہ اُسے دیکھ سکتا تھا۔۔۔سُن سکتا تھا۔۔۔ آج وہ پہلے جیسی نہیں لگ رہی تھی ۔۔۔اُس کی آنکھوں میں آنسو نہیں تھے ۔۔۔شکوہ تھا خفگی تھی التجا تھی۔۔۔وہ کچھ بولنا چاہتا تھا۔۔۔مگر لفظ صرف زخمی نہیں تھے۔۔۔ٹوٹ چکے تھے۔۔۔وہ اُس کی طرف بڑھنا چاہتا تھا۔۔۔ایک فاصلے پر پھیلے اُجالے کو چھونا چاہتا تھا۔۔۔ساری طاقت جمع کرکے وہ اپنی جگہ سے سرکنے لگا۔۔۔زمین ہلکی پھلکی تھی۔۔۔لیکن اُس کا وجود ایک بھاری پتھر کی طرح ہوچکا تھا۔۔۔اُس نے کوشش کی۔۔۔تھوڑی اور کوشش کی ۔۔۔ دونوں بازو اُسے اُٹھنے میں سہارا دینے لگے ۔۔۔اِس سے پہلے وہ مزید کوشش کرتا ۔۔۔کسی نے اپنا پیر اُس کی گردن پر رکھ دیا تھا۔
’’ہے کیا تجھ میں کہ کوئی حسین لڑکی تجھ پر مر سکتی ہے؟ بول کیا ہے ایسا تجھ میں جو تیرا نام لیتے لیتے اُس کی زبان نہیں تھکتی؟‘‘ سیف کی پیٹھ پر کوڑے سے ایک زور دار ضرب لگاتے ہوئے وہ پاٹ دار آواز میں غرّا کر بولا۔
’’تیری اِتنی اوقات نہیں کہ تو اپنا سر اُٹھا سکے ۔۔۔تو میرے مقابلے میں کیسے آسکتا ہے آخر !۔۔۔تو میری ملکیت کو اپنا کیسے بنا سکتا ہے آخر؟‘‘ جنون اور بڑھا تو وہ چنگھاڑتے ہوئے شدت سے کوڑے برسانے لگا۔سیف کو اُن کوڑوں کی مار سے زیادہ اُن لفظوں کی تکلیف محسوس ہورہی تھی جو اب سے کچھ دیر پہلے جیون نے اُس سے کہے تھے۔
’’مار دومجھے ۔۔۔مار دو۔۔۔کاٹ ڈالو۔۔۔جلا دو ۔۔۔مگر جانے دو اُسے ۔۔۔آزاد کردو اُسے۔۔۔صاحبہ تمھاری نہیں ہے۔۔۔وہ تمھاری نہیں ہے۔‘‘لفظ سیف کے لبوں سے ادا ہوئے تھے یا کسی کی محبت نے کہلوائے تھے،مگر وہ پوری قوت سے گلا پھاڑ کر چلایا تھا۔
’’میرے سامنے بولے گا۔۔۔مجھے جواب دے گا۔۔۔وہ تیری آزادی چاہتی ہے ۔۔۔تو اُس کی آزادی چاہتا ہے۔۔۔تم دونوں کو مسل کر رکھ دونگا میں۔۔۔مگر آزاد نہیں کرونگا۔‘‘جازم کے ہاتھ مزید تیزتیز چلنے لگے ۔پہلی بار سیف کی ایسی زبان سن کر اُس کا چہرہ غصّے کے لال بھبھوکوں سے دھواں دھواں ہوگیا تھا۔
’’ہمت ہے تو کھول میرے ہاتھ۔۔۔کھول یہ سب زنجیریں۔۔۔مردانگی کو مردانگی سے لڑا۔۔۔ایک قیدی تمھاری بزدلی کا ناچ بہت دیکھ چکا جازم خان۔‘‘دونوں ہاتھوں کی زنجیروں کو زور زور سے ہلاتے ہوئے وہ زخمی شیر کی طرح دھاڑا تو اُس کا یہ روپ دیکھ کر کوڑے برساتے ہاتھ پل بھر کو رک گئے ۔جازم کا پورا جسم اُس کے لفظوں کی آگ سے دہک اُٹھا تو اُس نے ایک ایک کر کے ساری زنجیریں کھول دیں۔
’’جیون تمھاری نہیں تھی۔۔۔نہیں تھی۔۔۔نہ صاحبہ تمھاری ہوگی۔۔۔عشق تمھارا کبھی نہیں ہوسکتا ۔۔۔عشق پتھر دلوں اور مردہ روحوں کے حصّے میں کبھی نہیں آتا جازم خان!‘‘ہاتھ آزاد ہوتے ہی وہ ایک خونخوار شکاری کی طرح جازم کی طرف لپکا ۔اِس سے پہلے جازم جوابی حملہ کرتا وہ ایک زور دار مکّا اُس کی ناک پر مار چکا تھا۔
’’مجھے مارے گا تو۔۔۔میرا مقابلہ کرے گا۔۔۔مجھ سے بدلہ لے گا۔۔۔بزدل کم ذات نوکر تو مجھے مارے گا۔۔۔تیری اتنی اوقات کہ تو جازم خان کو ہاتھ لگائے گا۔‘‘خون کے چند قطرے ناک سے ٹپکے تو وہ سیف کی اِس ہمت اور گستاخی پر آپے سے باہر ہوگیا۔سیف کو گردن سے دبوچتے ہوئے وہ پیچھے کی طرف بڑھا اور اُس کا سر زور زور سے دیوار پر مارنے لگا۔
’’ساری زندگی مجھ سے چھینتے آئے ہو۔ساری زندگی مجھے روندتے آئے ہو۔ساری زندگی مجھے تڑپایا ہے تم نے۔ساری زندگی ہر شئے کے لیے ترسایا ہے مجھے اور کیا کرو گے تم؟ کیا کرو گے ؟ تم جیون کو مفاد کی آگ میں جلا سکتے ہو۔۔۔مجھے نفرت کی تلوار سے چیر سکتے ہو۔۔۔صاحبہ کو غیرت کی زمین میں گاڑھ سکتے ہو۔۔۔اِس سے زیادہ کیا کرسکتے ہو تم ؟آخر کیا ؟ ‘‘اُس نے دونوں ہاتھوں سے جازم کا گریبان پکڑتے ہوئے پوری شدت سے اپنا سر اُس کے سر پر مارا تو وہ ایک پل کے لیے ڈگممگاتا ہوا زمین پر گر گیا تھا۔اُس نے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کو نفرت سے جوڑا اور پاگلوں کی طرح بند مٹھی اُس کے پیٹ پر برسا نے لگا۔غصے،حیرت اور اُس نوکر کی ایسی دیوانگی نے جازم کے جلتے دماغ کو سن کر ڈالا تو باوجود کوشش کے وہ زمین سے اُٹھ نہ سکا۔
’’تم نے محبت کی توہین کی ہے مگر محبت کو مار نہیں سکے۔۔۔تم نے محبت کرنے والوں پر ظلم ڈھا ئے ہیں لیکن محبت کو مٹا نہیں سکے۔۔۔اِس بار تمھاری لڑائی محبت سے نہیں۔۔۔ کئی محبتوں سے ہے۔‘‘وہ جازم کا چہرہ مٹھی میں جکڑ کر اپنے ایک ایک الفاظ پر بہادری کی مہر لگاتے ہوئے بولا۔
’’اُٹھو جازم خان اور پھر سے مجھے زنجیروں میں جکڑ دو۔۔۔سینہ تان کر کہتا ہوں۔۔۔بزدل نہیں ہے سیف۔۔۔قسم ہے مجھے مرنے والی جیون کی۔۔۔اُس کی محبت کی ! تمھارے پہلو سے صاحبہ کو لے کر جائونگا میں۔‘‘سیف نے اپنے برہنہ سینے پر زور سے ہاتھ مار کر اِس جنگ کو نیا آغاز دیا تھا۔جازم نے دیکھا جیسے وہ کسی کو دیکھ کر مسکرا رہا تھا،خوش ہورہا تھا۔اُس شام سے پوری رات تک اُس نے سیف پر مظالم کی انتہا کردی تھی،مگر اُس کے لفظوں کی بازگشت سے پیچھا نہ چھڑا سکا۔
*****
اب یوں بھی نہیں آنکھ پہ الہام ہوا ہے
اِک عمر میں وہ شخص میرے نام ہواہے
اِتنے دنوں سے اُس نے سیف کی آواز نہیں سنی تھی ،مگر وہ اُس کی خاموش آواز تیز تیز دھڑکتے دل سے اُٹھتی ہوئی محسوس کر رہی تھی۔بے تاب دھڑکن بار بار سوچوں پر دستک دے کر کہہ رہی تھی کہ آج پھر سیف کو اندھیرے کے آسمان تلے درد کی زمین پر لٹایا گیا ہے اور آنکھ متواتر جھپک جھپک کر اُس انہونی کا پتا دے رہی تھی ،جو ہوچکی تھی یا ہونے والی تھی۔وہ ایک جھٹکے سے اُٹھی اور زمین کی طرف دیکھنے لگی جیسے اُسے علم ہوگیا ہو کہ سیف کا عکس اب زمین کے آئینے میں ہی قید ہو چکا ہے۔دل میں ایک ہی مورت بس جائے تو دل الہامی کیفیت میں گرفتار ہوجاتا ہے ،وہ بھی جان لیتا ہے جو سامنے نہیں ہوتا،وہ بھی سمجھ جاتا ہے جو کہا نہیں جاتا۔محبت کرنے والے ایک دوسرے کو اپنے دکھ درد نہ بھی بتا پائیں تو محسوس کر لیا کرتے ہیں۔صاحبہ نے محبت کی ڈور تھام رکھی تھی تو سیف نے انسانیت کی اور اِسی بے نام رابطے نے محبت کو ہر لمحے سے باخبر کردیا تھا۔
’’تم نے اُسے مارا ہے ،بہت مارا ہے۔‘‘وہ ملگجی بیڈ شیٹ کا کونا دائیں ہاتھو سے دبوچتے ہوئے مشتعل لہجے میں بولی تھی۔
’’تم مجھے تکلیف دے کر اُس کا صبر آزماتے ہو اور اُسے اذیت پہنچا کر میرا عشق۔‘‘اُس نے سانسیں اندر کی طرف کھینچ کر سُرخ ہوتی ہوئی آنکھیں بند کیں اور بکھرے بال تکیے پر رکھ دئیے۔
’’تم صرف عشق سے ہی نہیں صبر سے بھی ٹکرا رہے ہو ،یہ نہ ہو تمھارا تکبر تھک ہار کر شرمندہ ہوجائے۔‘‘بائیں طرف کروٹ لیتے ہوئے ایک فاتحانہ مسکراہٹ اُس کے ہلتے لبوں پر پھیل گئی تھی۔
’’صاحبہ بی بی۔‘‘ایک انجانی آواز کی پکار پر اُس نے پلٹ کر دیکھا تو وہ گل بانو تھی۔گل بانو اپنے شوہر کے ساتھ حویلی کے باغ کی دیکھ بھال کیا کرتی تھی۔شاذ و نادر ہی ہوتا تھا کہ اُسے حویلی کے اندرونی حصّے میں دیکھا جاتا۔اُس نے تحیر زدہ نظروں سے گل بانو کو دیکھا ،مگر کوئی سوال نہیں کیا کیونکہ وہ اچھی طرح سمجھ گئی تھی کہ انتقام اور سفاکیت کی دوسری چال چلنے کا وقت آگیا ہے۔
اُس نے سلوٹ ذدہ بستر چھوڑا اور یونہی چپ چاپ گل بانو کے پیچھے چل پڑی۔وہ تیز تیز قدم اُٹھاتی خادمہ کے پیچھے چلتے چلتے حویلی کے عقبی حصّے کی طرف آگئی تھی۔جونہی حویلی کی پچھلی طرف باغ کا دروازہ کھولاگیا ، صاحبہ کی حیرانی مزید بڑھ گئی۔جب وہ اِس حویلی میں آئی تھی تو بہت ساری چیزوں نے اُسے خوفزدہ کیا تھا۔جہاں ہر طرف چلتے پھرتے انسان اُسے عجیب لگے وہی ایک جگہ پر ساکت کھڑے لمبے لمبے ستون بھی حیران کرجاتے۔کبھی وہ کالے گلابوں کی کثرت کو پرسوچ نگاہوں سے دیکھتی تو کبھی برگد کے اُس درخت کو جو حشرات الارض سے ہمہ وقت بھرا رہتا۔وہ یہ انوکھا پیڑ کئی بار دیکھ چکی تھی۔اِردگرد سے نکلی ہوئی شاخیں اور اُس درخت کی ساخت اُسے ہمیشہ ایک وحشت کا احساس دلاجاتی۔درخت سوال نہیں پوچھتے ،جواب نہیں دیتے،مگر صاحبہ کو لگتا تھا وہ درخت بولتا ہے۔اُس پیڑ پر رینگنے والی چیونٹیاں وہ ہمیشہ اپنے جسم پر رینگتی ہوئی محسوس کرتی تھی۔گل بانو پھرتی سے قدم اُٹھاتی درخت کی طرف بڑھ رہی تھی۔صاحبہ نے آج اُس درخت سے خوف محسوس نہیں کیا،اُس نے خود کو اگلی سزا کے لیے سمجھا دیا تھا۔گل بانو اُسے ایک مضبوطی رسی کے ساتھ باندھنے لگی تو پل بھر کے لیے اُس کے ہاتھ کانپے،مگر صاحبہ کا حوصلہ اُس سمے درخت کی بوڑھی شاخوں سے بھی مضبوط تھا۔خادمہ نے حکم کی تکمیل کرکے ایک افسوس بھری نگاہ اُس پر ڈالی اور وہاں سے چلی گئی۔گزرتے ایک ایک پل نے اُس کے ہوش کا کڑا امتحان لیا تو کرب سے ٹکراتی ،چبھن سے لڑتی آنکھوں بند ہونے لگیں۔صبح سے شام ہو چکی تھی اور تب تک کئی کیڑے اُس کے نازک بدن پر بے رحمی کی مہریں لگا چکے تھے۔
یہ دولتِ رسوائی کہاں مفت ملی ہے
سو زخم اُٹھائے ہیں تو پھر نام ہوا ہے
’’سیف ۔۔۔سیف۔۔۔‘‘اچانک اُس کی آنکھ میں کچھ چبھا تو وہ زور سے چلائی۔نیم بے حوشی کی حالت میں سیف نے یہ پکار سنی تو اُس کی آنکھیں یکدم کھل گئیں،ایسے جیسے کسی نے اُسے جھنجھوڑ کر نیند سے جگایا ہو۔ اُس نے اپنے مفلوج جسم کو حرکت دینے کی سعی کی تو ٹھرے لہو میں ایک درد بھری سنسناہٹ سی ڈوڑ گئی ۔ٹوٹی ہڈیوں کی آہ کو نظر انداز کرکے وہ اُس آواز کا پیچھا کرنے لگا،جس نے بڑے ہی درد سے اُسے پکارا تھا۔وہ رینگتے رینگتے اُس دیوار تک پہنچنا جس کے سینے میں ایک چھوٹا سا روشندان تھا ، جہاں سے صاحبہ کی دبی دبی آواز نے دستک دی تھی۔
’’سیف۔۔۔سیف۔۔۔سیف۔‘‘اب کی بار وہ اتنی شدت سے بلند آواز میں چلائی کہ حویلی کے سب ملازموں نے اُس کی پکار کو سنا۔
’’مت دو تکلیف اُسے۔۔۔مت دو۔۔۔مت ٹکراؤ عشق سے۔۔۔تم پاش پاش ہو جاؤگے جازم!‘‘دیوار کے سہارے کھڑے ہوتے ہوئے سیف نے کپکپاتی آواز میں چیخ کر کہا تھا۔
’’چپ ہوجاؤ۔۔۔چپ ہو جاؤ۔۔۔اِس سے پہلے کہ میں تمھاری قبر اِس درخت کے نیچے بنادوں۔۔۔اِس سے پہلے کہ میں تمھیں یہی جلا کر خاک کردوں۔‘‘صاحبہ کی آواز کی گونج نے جازم خان کے غیض وغضب کو پکارا تو وہ نفرت سے کھولتا ہوا باغ میں چلا آیا تھا۔
’’یہ جو چیونٹیاں میرا لہو پی رہی ہیں یہ اب بولے گیں اور تم سے نفرت کرے گیں۔۔۔تم سے بہتر نفرت کا انجام کون جانتا ہوگا؟‘‘صاحبہ نے اُس کی دھمکی سے ڈرے بنا پاٹ دار آواز میں تنک کر کہا تھا۔
’’نفرت کے قابل تو تم ہو چکی ہو۔۔۔محسوس کرو اِس اذیت کو۔۔۔اِس بے عزتی کو۔۔۔معافی مانگو مجھ سے ۔۔۔ خود سے۔۔۔اُس گناہ کی جو تم نے کیا ہے۔‘‘جازم نے توہین آمیز لہجے میں کہتے ہوئے اُس کی سب رسّیاں کھول دی تھیں۔
’’گناہ میں نے نہیں تم نے کیا ہے اور تم تو اِس گناہ پر پچھتا بھی لو تو شاید معافی کے حقدار نہ ٹھرو۔‘‘صاحبہ نے خوف سے عاری پلکیں جھکائے بنا لفظ لفظ اہانت سے ادا کیا۔سارے دن کی اذیت اور تکلیف کے باوجود اُس کے اطمینان اور پریقین لہجے نے جازم خان کو جتا دیا کہ ابھی عشق کے اور امتحان دینے کا حوصلہ تمام نہیں ہوا۔
*****
جازم نے اپنا سارا قہر اُس پر نازل کردیا تھا،لیکن وہ عشق کے رستے سے ایک قدم بھی پیچھے نہ ہٹی۔۔۔اُسے کتنے دن بھوکا پیاسا رکھا گیا۔۔۔ سخت سردی میں کھلے آسمان تلے باندھا گیا۔۔۔ اُس کے پاؤں میں بھاری بیڑیاں ڈالی گئیں۔۔۔ اُسے ہر زہریلی آسیب زدہ شئے سے ڈرایا گیا۔۔۔مگر وہ جس جذبے سے سیر ہوئی تھی اُسی کی لذت سے پیٹ بھرلیتی۔۔۔ وہ جس موسم کی جوگن بنی تھی اُسی کی آگ سے فرش گرما دیتی۔۔۔ وہ لوہے کی بھاری زنجیروں میں ایسے تحلیل ہوتی کہ ساری رات وجد کے عالم میں ناچتی رہتی۔۔۔اُس نے ہر ناپسندیدہ شئے میں بھی اپنا عشق منتقل کردیا تھا۔۔۔اُس کے ہونٹوں پر ہر وقت سیف کا نام ایسے رہتا جیسے یہ نام ہی اب اُس کی شفا ہو۔
وہ اُسے پھول کی نازک پنکھڑی سمجھا تھا ،جسے مسلنے کے بعد خوشبو تک کراہ اُٹھتی ہے۔مگر وہ تو ایک چٹان کی طرح ڈٹ کر کھڑی ہوگئی تھی۔ایک ایسی چٹان جسے اپنی جگہ سے ہلانے کے لیے اُس سے ٹکرانے والا بار بار شکست کھا رہا تھا۔درد دینے والے کی ہار وہی سے شروع ہوتی ہے جب درد سہنے والا ہر درد سے بے نیاز ہوجائے۔وہ درد محسوس کرنے کی حس سے اِتنا آگے نکل چکی تھی کہ وہ چاہ کر بھی اُسے واپس لانے میں کامیاب نہیں ہو پارہا تھا۔وہ چاہتا تھا صاحبہ اُس کے سامنے جھکے، نادم ہو، ایڑیاں رگڑ رگڑ کر معافی مانگے،لیکن اُس کی یہ انتقامی حسرت ابھی تک حسرت ہی تھی۔
’’تمھیںمیرے پاس لوٹنا ہوگا۔۔۔میرے قدموںمیں جھکنا ہوگا۔۔۔تمھیں معافی مانگنی ہوگی۔۔۔بار بار مانگنی ہوگی۔۔۔اور ہر معافی کے عوض تمھاری جھولی میں بس سزائیں ڈالی جائے گیں۔‘‘ہاتھ میں پکڑے شیشے کے گلاس کو زمین پر پٹخ کر اُس نے اپنی انا کی کرچیوں کو سمیٹنا چاہا۔
’’کیا سمجھتی ہو تم !اپنی ضد سے میرے وجود کو لہولہان کردوگی۔۔۔میری دی ہر سزا پر مسکرا کر مجھے کمزور بنا دوگی۔۔۔یاد رکھو صاحبہ! جازم خان بہت طاقتور ہے۔۔۔بہت طاقتور۔۔۔وہ ہر جذبے کو مٹا سکتاہے۔۔۔وہ تم جیسی کٹھ پتلیوں کو زندہ زمین میں درگور کر سکتا ہے۔‘‘اُس نے کانچ کے ایک ٹکڑے کو صاحبہ سمجھ کر سختی سے مٹھی میں جکڑا تو لہو کی ننھی ننھی بوندیں فرش پر گرنا شروع ہوگئیں۔
’’دیکھو ناں! جانِ من مجھے بھی درد محسوس نہیں ہوتا۔کہاں محسوس ہوتا ہے؟مجھے بس تمھاری ضد ،انا، نافرمانی اور بیوفائی محسوس ہوتی ہے۔‘‘ہوش سے بیگانہ ہوتے ہوئے اب اُس نے پاگلوں کی طرح دونوں ہاتھوں میں کانچ کے ٹکڑے دبوچ لیے تھے۔
’’حکم گستاخی معاف! مگر ایک بری خبر ہے۔‘‘کھلے دروازے سے بنا اجازت داخل ہونے والے رحیم بخش نے ہانپتی اور پریشان کن آواز میں کہا تو اُس نے بری طرح سے چونکتے ہوئے پیچھے مڑ کر دیکھا۔
’’بڑی حویلی سے فون آیا ہے۔بڑی بیگم صاحبہ کی حالت بہت خراب ہے ۔اُنھیں شہر کے ہسپتال میں لے جایا گیا ہے۔‘‘رحیم بخش گھبرائی ہوئی آواز میں تیزی سے بتانے لگا۔ اردگرد بکھرے کانچ کے ٹکڑے اور جازم کے ہاتھوں سے بہتے لہو نے اُسے خوفزدہ سا کردیا تھا۔
’’کیا؟ یہ کیا کہہ رہے ہو تم؟ امی جان۔۔۔۔۔۔‘‘اُس نے بے یقینی اور غصے کے عالم میں لہو ٹپکاتے ہاتھوں سے رحیم بخش کا گریبان پکڑ لیا تھا۔
’’حکم سچ کہہ رہا ہو۔۔۔جلدی کیجیے ۔‘‘رحیم بخش تھوک نگلتے ہوئے ہکلایا تو وہ اُسے ایک جھٹکے سے چھوڑتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا۔اِس اطلاع نے جیسے اُس کے پیروں تلے زمین ہی کھینچ لی تھی۔اُس کی آنکھوں کے سامنے ذکیہ بیگم کا چہرہ لہرا رہا تھا۔رحیم بخش فوراً اُس کے پیچھے بھاگا وہ اِس حالت میں اپنے مالک کو اکیلا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا۔
’’میں نے آپ کو بہت ستایا ہے۔۔۔میں نے آپ کے ساتھ اچھا نہیں کیا۔۔۔آپ سے خود کو چھین لیا۔۔۔آپ کو تنہا چھوڑ دیا۔۔۔۔میں اپنی دنیا میں اِتنا مگن رہا کہ آپ کا خیال تک نہیں رکھ پایا۔‘‘جتنی تیز رفتار سے وہ گاڑی چلا رہا تھا ،سوچیں اُتنی ہی برق رفتاری سے بھاگنے لگی تھیں۔
’’آپ کو کچھ نہیں ہوسکتا۔۔۔میں آپ کو کچھ نہیں ہونے دونگا۔۔۔مجھے آپ کی ضرورت ہے۔۔۔مجھے معاف کردیں۔۔۔مجھے معاف کردیں امی جان!‘‘اُس نے سپیڈ اور بڑھائی تو ساتھ والی سیٹ پر بیٹھے رحیم بخش نے دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا لیے۔
گاؤں سے شہر تک کا رستہ خاصا طویل تھا۔ذکیہ بیگم کا فون اُن کی ایک خاص خادمہ کے پاس تھا۔وہ بار بار اُس ملازمہ سے اُن کی طبیعت پوچھ رہا تھا جو اُس وقت اُن کے ساتھ تھی۔ہر بار کوئی تسلی بخش جواب نہ آیا تو اُس کی پریشانی شدت اختیار کرگئی۔ہاتھ پیر برف ہورہے تھے تو دماغ اُبلنے لگا۔وہ کسی بھی قیمت پر اِس رشتے کو کھونا نہیں چاہتا تھا۔ایک یہی تو رشتہ بچا تھا اُس کے پاس۔کچھ گھنٹوں بعد وہ مطلوبہ ہسپتال پہنچا تو ذکیہ بیگم کو دیکھنے کی طلب اور بڑھ گئی،مگر یہ جان کر اُسے حیرت کا شدید جھٹکا لگا کہ ذکیہ ارشد خان کے نام کا کوئی مریض وہاں داخل نہیں تھا۔
’’ہوسکتا ہے امی جان کسی اور ہسپتال میں ہوں۔‘‘اُس نے بڑبڑاتے ہوئے ایک بار پھر کال ملائی تو رابطے کا واحد راستہ بند ہوچکا تھا۔اُس کی پریشانی اور بے چینی میں مزید اضافہ ہوگیا تھا۔
’’حکم ہمیں شہر کے باقی بڑے ہسپتال بھی دیکھ لینے چاہیے۔‘‘رحیم بخش نے اُس کے چہرے کی پریشانی بھانپ لی تو فوراًً مخلصانہ تجویز دینے لگا۔
’’ہاں ۔۔۔ہاں ۔۔۔تم ٹھیک کہتے ہو ۔‘‘اُس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے رحیم بخش کی رائے کی تائید کی۔اُس کا دماغ سن ہوچکا تھا ، ذکیہ بیگم کی زندگی کے متعلق طرح طرح کے خیالات اور وہمے سر اُٹھا رہے تھے۔
تسلی کے لیے اُس نے شہر کے سب بڑے ہسپتال چھان مارے ،لیکن ہر طرف سے ناکامی کا سامنا ہوا تھا۔اچانک اُسے اپنا دل گھٹتا ہوا محسوس ہوا اور اِس گھٹن نے اُس کی توجہ ایک خدشے کی طرف مبذول کرا دی جو کچھ دیر پہلے تک اُس کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا۔
*****
’’بڑی بی بی جی آپ یہاں۔۔۔۔مگر آپ تو۔۔۔‘‘ ذکیہ بیگم نے جونہی حویلی کا داخلی رستہ عبور کرنے کے بعد حویلی کے اندرونی حصے میں قدم رکھا تو چاچی شگو اُنھیں سامنے دیکھ کر بے تحاشہ چونک گئیں۔یکلخت اُن کے چہرے کا رنگ اُڑ گیا تھا۔
’’میں جب پہلے یہاں آئی تھی تب ہی اِس حویلی کی غیر معمولی فضا نے مجھے بے چین کردیا تھا۔بتاؤ مجھے حقیقت کیا ہے؟ میں سب جاننا چاہتی ہوں۔‘‘ذکیہ بیگم نے حکمانہ انداز میں حیران و پریشان کھڑی چاچی شگو سے استفسار کیا۔
’’میں ایک معمولی سی خادمہ ہوں۔۔۔میں کچھ نہیں جانتی بڑی بی بی۔۔۔مجھے کچھ نہیں معلوم۔‘‘چاچی شگو گھبرائی ہوئی آواز میں کہتے ہوئے نفی میں سر ہلانے لگیں۔
’’سب جانتی ہوں تم ! تمھاری اِن مکار آنکھوں میں حویلی کا ہر راز پنہاں ہے۔ مت بھولو! جتنی طاقت جازم خان کے پاس ہے اُس سے کہیں زیادہ میرے پاس۔اگر تم نہیں بولو گی تو آج کے بعد تمھاری زندگی کا ہر دن موت سے بھی بدتر ہوگا۔ ‘‘ ذکیہ بیگم نے درشت لہجے میں دھمکی دیتے ہوئے آنکھیں نکال کر کہا تھا۔
’’میں ایسا نہیں کرسکتی بی بی جی۔میں سمجھ گئی ہوں کہ آپ یہاں کیوں آئی ہیں،مگر میں آپ کا ساتھ نہیں دے سکتی۔‘‘چاچی شگو ہراساں ہوتے ہوئے بے چارگی سے بولیں۔ڈر اور گھبراہٹ نے اُن سے آدھا اعتراف تو کروا لیا تھا۔
’’میں حویلی کا چپّہ چپّہ چھان مارونگی اور حقیقت خود واضح ہوجائے گی ،لیکن تمھاری اِس خاموشی پر تمھیں بخشا نہیں جائے گا۔‘‘ذکیہ بیگم نے چہرے پر مزید سختی لاتے ہوئے بے رحم لہجہ اختیار کیا۔
’’حکم ہمیں جان سے مار دیں گے۔۔۔اُن کے ہاں دغابازی کی کوئی رعایت نہیں ہے بی بی۔‘‘چاچی شگو نے خوف سے سہمتے ہوئے دونوں ہاتھ جوڑے۔
’’مت بھولو اے خادمہ! میں اُس ظالم کی ماں ہوں۔ظلم کرنے پر آئی تو اُس سے زیادہ مظالم ڈھاؤنگی تم پر۔‘‘ذکیہ بیگم غیض و غضب سے تقریباً چلا اُٹھی تھیں۔
’’ہم آپ کے حکم کے غلام ہیں۔۔۔ہمیں آزمائش میں مت ڈالیے۔۔۔ہم آپ دونوں کی بیچ کی اِس جنگ میں پس جائیں گے۔‘‘چاچی شگو کو کوئی اور حل نظر نہ آیا تو وہ اُن کے پیروں میں گر کر گڑگڑانے لگیں۔
’’اگر میں جازم خان سے یہ کہہ دوں کہ تم نے ہی مجھے اِس حویلی میں بلایا ہے اور میری مدد کی ہے تو کیا وہ تمھارا اعتبار کرے گا ؟کیا وہ تمھیں زندہ چھوڑ دے گا؟نہیں۔۔۔وہ میرا اعتبار کرے گا۔‘‘ذکیہ بیگم نے فراست سے آنکھوں کی پتلیاں سکیڑتے ہوئے دوسرا حربہ استعمال کیا تو چاچی شگو کی آنکھیں دحشت سے پھیل گئیں۔
’’یہ ظلم مت کیجیے گا۔۔۔یہ ظلم مت کیجیے گا بی بی۔۔۔میں ایک غریب عورت ہوں۔۔۔مجھ پر ترس کھائیے۔‘‘چاچی شگو نے ترس طلب آواز میں روتے ہوئے رحم کی اپیل کی تو ذکیہ بیگم کا دل ایک پل کے لیے پسج گیا۔
’’تم میری مدد کروگی تو تمھیں اِس کا صلہ ملے گا۔۔۔ ہر چیز کی ذمہ دار میں ہونگی۔۔۔میری زبان پر بھروسہ کرو۔۔۔تم میں سے کسی کا بال بھی بیکا نہیں ہوگا۔‘‘ذکیہ بیگم نے لحظہ بھر کا توقف کیا اور پھر نرم پڑتے ہوئے کہا۔اُن کی آنکھوں میں تحفظ دیتے احساس کی واضح جھلک تھی ۔ چاچی شگو نے گہری سانس لی اور صاحبہ کے اِس حویلی میں آنے کے بعد سے اب تک کی ایک ایک بات آنسو پونجھتے ہوئے بتا نے لگی۔چاچی شگو نے اُن راستوں کا پتا بھی بتا دیا تھا جن کی تلاش ذکیہ بیگم کی منزل کو تھی۔صاحبہ کی آزمائشوں بھری زندگی اور جازم خان کی سفاکیت کی داستان سن کر ذکیہ بیگم کا دماغ سنسنانے لگا اور چہرے کا رنگ متغیر ہوگیا ۔تاسف کے احساس سے اُن کے جسم میں سوئیاں سی چبھنے لگیں۔اُنھیں اپنے ہاتھ پیر کانوں سے دھواں اُٹھتا ہوا اور دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوا۔پشیمانی کی یہ گھڑی اُن کی زندگی کی سب سے اذیت ناک گھڑی تھی۔وہ سوچ بھی نہیں سکتی تھیں کہ اُن کا پلایا ہوا نفرت کا زہر کتنی زندگیوں کا سکون ایسے نگل لے گا۔اُن کی آنکھوں سے آنسو رواں ہوچکے تھے ۔اُنھیں اِس پل اپنے آپ سے شدید نفرت محسوس ہوئی۔
’’بی بی جی جلدی کیجیے۔۔۔اِس سے پہلے کہ حکم آجائیں۔‘‘چاچی شگو نے اُنھیں کندھے سے پکڑ کر ہلایا تو جیسے اُن پر چھایا صدمے کا جمود ایک پل کے لیے ٹوٹ گیا۔
’’باہر میرے خادم موجود ہیں۔۔۔جاؤ! سب ملازموں کو لے کر بڑی حویلی چلی جاؤ۔‘‘انھوں نے ممنون نگاہوں سے دیکھتے ہوئے اگلا حکم جاری کیا تو چاچی شگو اثبات میں سر ہلاتے ہوئے فوراً وہاں سے چلی گئیں۔
ذکیہ بیگم پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں۔وہ ظلم و ستم کی پرانی جڑیں نہیں اُکھاڑ سکتی تھیں،مگر اب اُن جڑوں کو مزید پھیلنے سے روکنا ضرور چاہتی تھیں۔اُنھیں اُن سارے گناہوں کا کفارہ ادا کرنا تھا جو اُن سے اور اُن کے لخت ِ جگر سے ہوئے تھے۔
’’نہیں۔۔۔میں تمھارا سامنا نہیں کرسکتی صاحبہ۔۔۔میں کس منہ سے تمھارا سامنا کروں۔۔۔میں کیسے اُس شیطان کے حصّے کی معافی تم سے مانگوں،جسے میں نے ہی پیدا کیا۔۔۔کس طرح تمھارے کھلے ہوئے زخموں پر مرہم رکھوں۔۔۔تمھارے پہاڑ جیسے صبر کے آگے میں کونسا حرفِ تسلی بولوں۔۔۔میں کیسے تمھاری برباد ہوئی زندگی پر اظہارِ افسوس کروں۔۔۔کیسے تم سے کہوں صاحبہ کہ یہ دکھ درد بھول جاؤ۔‘‘زینے پر پیر رکھتے ہی ذکیہ بیگم کے دل نے اُن کے آگے پچھتاؤں کی ایک دیوار کھڑی کردی اور تلخ حقیقتوں کی یہ دیوار عبور کرنے کا حوصلہ اُن میں بالکل بھی نہیں تھا۔وہ پُرسوچ انداز میں واپس پلٹیں اور دائیں طرف واقع چھوٹی سے راہداری کی طرف چل پڑیں۔ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ اپنی ہی حویلی میں چل رہی ہوں۔تنگ بل کھاتی ہوئی کئی راہداریوں سے گزرتے ہوئے اُنھیں ذرہ بھی اجنبیت یا خوف محسوس نہیں ہوا ۔اچانک ایک چھوٹے سے دروازے کے پاس پہنچ کر وہ رک گئی تھیں۔دروازہ کھولنے سے پہلے اُن کا دل لرزہ اور ہاتھ ایک بار ضرور کانپے تھے۔دروازہ اندر کی طرف دھکیلتے ہی جیسے وہ سکتے کی کیفیت میں آگئیں۔ایک کونے میں بیہوش پڑا سیف کا وجود اور فرش پر جابجا لگے خون کے دھبّے جازم کی درندگی کے گواہ تھے۔وہ کچھ پل یہ دردناک منظر اپنی بھیگی آنکھوں سے دیکھتی رہیں ،اورر پھر بھاگتے ہوئے آگے بڑھیں ۔
’’سیف۔۔۔سیف۔۔۔اُٹھ جاؤ میرے بچے۔۔۔ہوش میں آؤ۔۔۔میں تمھیں لینے آئی ہوں۔۔۔تمھیں لینے آئی ہوں۔‘‘سیف کا سر گود میں رکھتے ہوئے وہ اُسے زور زور سے جھنجھوڑتے ہوئے بولیں۔آنکھوں سے بہنے والے ندامت کے آنسو سیف کے چہرے پر گر رہے تھے۔اچانک سیف کی آنکھیں کھلیں تو وہ ٹکٹکی باندھ کر اُنھیں دیکھنے لگا۔یہ وہی عورت تھی جسے وہ ماں سمجھتا تھا،اُس کی گود میں چھپ کر اپنی ساری محرومیوں کو بہلانا چاہتا تھا اور وہی عورت کبھی اُس کی ماں نہ بن سکی تھی۔آج وہ اُس کے سامنے تھیں تو وہ کیونکر یقین کرتا۔
’’سیف اُٹھو ۔۔۔اُٹھو میرے بچے ۔۔۔چلو یہاں سے ۔۔۔جازم تمھیں مار دے گا۔۔۔اور میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پاؤنگی۔‘‘ذکیہ بیگم نے سر جھکاتے ہوئے رندھی ہوئی آواز میں کہا تو سیف اُٹھ کر بیٹھ گیا۔اُس نے محسوس کر لیا تھا کہ یہ خواب نہیں ،حقیقت ہے۔
’’ممانی جان آپ یہاں! خدا کے لیے یہاں سے چلی جائیے ،اِس سے پہلے وہ یہاں آجائے۔‘‘سیف نے کمزور لہجے میں التجا کی تھی۔
’’سیف ۔۔۔سیف۔۔۔مجھے معاف کردو۔۔۔میں نے تم سے تمھارا بچپن چھین لیا۔۔۔تم سے زندگی کی ہر خوشی چھین لی۔۔۔میں ہمیشہ تمھارے خواب اور خواہشوں کے رستے میں کھڑی رہی۔۔۔جس عزت، نام، پیار کے تم حقدار تھے ۔۔۔میں نے وہ سب چھین لیا تم سے ۔‘‘ذکیہ بیگم نے زار و قطار روتے ہوئے دونوں ہاتھ باندھ لیے تو سیف ہکّا بکّا سا اُنھیں دیکھنے لگا۔
’’مت کہیے ایسا ممانی جان۔۔۔میں چین سے مر بھی نہیں سکوں گا۔۔۔مجھے گنگار مت کیجیے۔۔۔آپ کو اپنی محبوب شئے کا واسطہ ۔۔۔چلی جائیں یہاں سے ۔‘‘ سیف نے آگے بڑھ کر اُن کے بندھے ہوئے ہاتھ کھول دئیے تھے۔
’’میں ایک ہی صورت میں یہاں سے جاؤنگی ۔۔۔جب تم مجھے معاف کروگے۔۔۔جب تم میرے ساتھ چلو گے میرے بیٹے۔‘‘ذکیہ بیگم نے ایک ضدی بچے کی طرح مضبوطی سے اُس کا ہاتھ پکڑ لیا تھا۔
’’میرے دل میں آپ کے لیے کوئی شکایت نہیں ہے ،اگر پھر بھی آپ میری ذات پر کوئی عنایت کرنا چاہتی ہیں تو چھوٹی بی بی کو لے جائیے۔اُن کی زندگی مزید برباد ہونے سے بچا لیجیے۔‘‘سیف نے اپنا دوسرا ہاتھ ذکیہ بیگم کے ہاتھ پر رکھتے ہوئے ملتجیانہ انداز میں کہا تھا۔
’’نہیں سیف ظلم کو چھپا کر ظلم کو ہرایا نہیں جاسکتا۔صاحبہ تب آزاد ہوگی جب جازم اپنے نفس سے رہا ہوگا۔میں اُسے بھگا کر نہیں لے جا سکتی ورنہ ! جازم کبھی نہیں لوٹ پائے گا ۔‘‘
’’امی جان۔۔۔باہر آئیے۔۔۔میں کہتا ہوں باہر آئیے۔‘‘ اِس سے پہلے سیف کچھ کہتا۔جازم خان کی جلالی آواز پر اُن دونوں نے چونک کر دروازے کی طرف دیکھا تھا۔جازم کا دھواں دھواں ہوتا چہرہ اور اُبلتی ہوئی آنکھیں صاف بتا رہی تھیں کہ وہ سر تا پیر غصّے کی آگ میں جل رہا ہے۔ذکیہ بیگم اِس صورتحال کے لیے پہلے سے تیار تھیں۔اُنھوں نے محبت پاش نظروں سے سیف کو دیکھتے ہوئے اُس کا ماتھا چوما اور قید خانے سے باہر آگئیں۔ذکیہ بیگم کی اِس حرکت اور محبت نے جازم خان کے دل میں لگی آگ کو مزید بھڑکا دیا تھا۔اُس نے آگے بڑھ کر ایک خونخوار نگاہ سیف کے چہرے پر ڈالی اور زور دار آواز کے ساتھ قید خانے کا دروازہ بند کردیا۔
’’اِس دو ٹکے کے معمولی نوکر کی خاطر آپ نے مجھ سے جھوٹ بولا۔اپنے سگے بیٹے ،اپنے خون سے۔۔ایسی کیا قیامت آگئی تھی کہ آپ کو یہ کھیل رچانا پڑا۔‘‘ذکیہ بیگم کے آمنے سامنے آتے ہی وہ ادب و لحاظ سے عاری اونچی آواز میں کرختگی سے بولا تھا۔
’’مجھے جھوٹ بولنا پڑا۔۔۔تمھارے جھوٹ کو بے نقاب کرنے کے لیے۔۔۔تمھاری جھوٹی دنیا کی حقیقت جاننے کے لیے۔۔۔تمھارے اُس ظلم سے پردہ اُٹھانے کے لیے جس نے نجانے کتنی زندگیاں برباد کر ڈالیں۔‘‘ذکیہ بیگم نے اُس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے ملامتی انداز سے افسوس بھری آواز میں جواب دیا تھا۔
’’کوئی ظلم نہیں کیا میں نے۔۔۔وہ بے وفا عورت اور یہ گھٹیا نوکر اِسی لائق ہیں۔‘‘دیوار پر درشتی سے ہاتھ مارتے ہوئے وہ مزید بد لحاظ ہوا۔
’’ یہ بیوفائی تمھاری آزمائش ہے ۔۔۔تمھاری اُس زیادتی کی سزا ہے جو تم نے جیون کے ساتھ کی۔۔۔تم اِتنے ظالم کیسے بن گئے جازم۔۔۔تم اِتنے بے رحم کیسے ہو سکتے ہو۔۔۔ایک لڑکی تمھاری خاطر مر گئی۔۔۔اور ایک گھٹ گھٹ کر مر رہی ہے۔‘‘ذکیہ بیگم بولتے بولتے سسک پڑی تھیں۔
’’نہیں ہوں میں ظالم ۔۔۔نہیں ہوں قصور وار۔۔۔کچھ غلط نہیں کیا میں نے۔۔۔ہر شخص اپنی غلطی کی سزا بھگت رہا ہے۔۔۔اپنی غلطی کی۔‘‘اُس کے لفظ ایک لمحے کے لیے کانپ اُٹھے تھے۔وہ ہیجانی انداز میں چیخے لگا۔
’’اور تم کس غلطی کی سزا بھگت رہے ہو ؟تم کس گناہ سے بے چین ہو؟تم کس عذاب میں مبتلا ہو۔‘‘ذکیہ بیگم کی آواز اور آنکھیں جیسے اُس کا آئینہ بن گئی تھیں۔
’’آخر کیا چاہتی ہیں آپ ؟‘‘ اُس آئینے میں اپنے آپ کو جلتا دیکھ کر وہ ایک غیر متوقع سوال کر گیا تھا۔
’’میری طرح اپنے گناہوں، غلطیوں کا اعتراف کرو۔۔۔اور جو صاحبہ چاہتی ہے اُسے دے دو۔۔۔اِسی میں تمھارا سکون ہے میرے بچے!‘‘ذکیہ بیگم ترحم بھری نگاہوں سے اُسے دیکھتے ہوئے مزید آبدیدہ ہوئیں۔
’’پہلے وہ آزادی چاہتی تھی۔۔۔اب وہ سیف چاہتی ہے ۔۔۔تو کیا میں اُسے سیف دے دوں؟‘‘بلند آواز پوری حویلی میں گونجی اور اُس نے دونوں ہاتھ سلگتی ہوئی کنپٹیوں پر رکھ دئیے۔
’’ہاں۔۔۔۔۔دے دو۔‘‘ذکیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اُسے باہوں میں سمیٹ لیا تھا۔
’’نہیں۔۔۔ہرگز نہیں۔۔۔چلی جائیے۔۔۔اگر آپ پھر یہاں آئیں تو میں اُن دونوں کے ساتھ ساتھ خود کو بھی ختم کردونگا۔۔۔سب کچھ مٹا دونگا۔۔۔پوری حویلی کو تہس نہس کردونگا۔‘‘اُس نے ذکیہ بیگم کو تقریباً پیچھے دھکیلا ۔ دیوانگی انتہا پر پہنچ چکی تھی۔وہ چیختا چلاتا وہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا اور ذکیہ بیگم نے لرزتے ہوئے قدم واپسی کے رستے کی طرف بڑھا دئیے تھے۔
شام تک سب نوکر حویلی واپس آچکے تھے۔جازم خان کے جنون نے ذکیہ بیگم کو خوف میں مبتلا کردیا تھا۔اُن سے نہ جازم کا قہر برداشت ہوا تھا نہ اُس کی تکلیف۔وہ ماں تھیں اپنے بیٹے کو اُس کے کیے کی سزا نہیں دے سکتی تھیں،مگر یہ سزا بھی کم نہ تھی کہ طاقت اور غرور کے نشے نے جازم کو اپنے ہی تخت سے نیچے گرا دیا تھا۔بعض اوقات اپنوں سے لیا جانے والا انتقام اپنے آپ سے بدلہ لینے کے مترادف ہوتا ہے۔وہ سزائیں دیتے دیتے اپنے ہی ہاتھوں مات کھارہا تھا کیونکہ سزا پانے والوں نے گردن نہیں جھکائی تھی۔اُس نے کسی نوکر سے کوئی سوال نہیں کیا اور چپ چاپ اپنے کمرے میں بند ہوگیا۔اُسے ایک آخری وار کرنا تھا اور ستم کی یہ بازی سب کی زندگی بدلنے والی تھی۔
*****
وہ جو ایک شرط تھی وحشت کی اُٹھا دی گئی کیا
میری بستی کسی صحرا میں بسا دی گئی کیا
پورا چاند بادلوں سے آنکھ مچولی کھیل رہا تھا اور رات اندھیرے میں ڈوب کر بھی روشنی کے کناروں پر ٹھر چکی تھی۔چند دن پہلے کی منہ زور ہوائیں بند دروازے اور کھڑکیوں پر ہلکی سی دستک دینے میں مگن تھیں مگر اُن کی سانسوں کی آواز اُس سے بھی کم تھی۔اندر باہر لہو کی گردش بڑھاتی ہوئی ،لمحوں کی نبض روکتی ہوئی پراسرار سی خاموشی تھی۔ نہ صرف باہر کا موسم اپنے اصلی رنگ سے ہٹ چکا تھا بلکہ اندر کا عالم بھی کسی اجنبی کیفیت کے شکنجے میں تھا ۔یوں لگتا تھا کوئی بھی شئے اپنے آپ میں نہ تھی بس اِک وہی پورے ہوش و حواس میں اُسے اطمینان سے دیکھ رہا تھا۔اُس کے پرسکون انداز میں اِس قدر انہماک تھا جیسے وہ سامنے کھلی کتاب کو لفظ لفظ گھول کر پینا چاہتا ہو۔صاحبہ کو وہ آج اُس بستی کا مکیں لگ رہا تھا جس کے مقدر میں بس صحرا کی خاک تھی۔ سرمئی بغاوت سے بھری نظروں پر نظریں جمائے ہوئے اُسے بیس منٹ گزر چکے تھے،لیکن یہ نظر پیار کی نہیں تھی،کچھ کھوجتی اور تلاشتی ہوئی آر پار اُترنے والی نظر تھی۔اُس نے اپنے جذبات کو ابھی تک زبان نہیں دی تھی اور صاحبہ نے بھی چپ رہ کر اُس کا حصار نہیں توڑا تھا۔صاحبہ نے پلکوں کو جنبش نہ دینے کی سزا دے رکھی تھی تو اُس نے دل کو نہ دھڑکنے کی۔ایسا ساکت لمحہ یا تو محبت میں ہوتا ہے یا نفرت میں جب نگاہوں کو نگاہوں سے کہنے سننے کی رضامندی دی جاتی ہے ،لفظوں کے اُمڈتے سیلاب کو آنکھوں تک آنے دیا جاتا ہے ،مگر لبوں کو بھیگنے کی اجازت نہیں ہوتی۔بس تیر جیسی نظریں باز جیسی آنکھوں سے خاموشی کی جنگ لڑتی ہیں۔ایسا لمحہ اُن دونوں کی زندگی میں کافی دیر سے آیا تھا اور یہ محبت کا لمحہ ہرگز نہیں تھا۔
وہی لہجہ ہے مگر یار تیرے لفظوں میں
پہلے اک آگ سی جلتی تھی بجھا دی گئی کیا
’’اگر وہ تمھیں نہ ملا تو کیا۔۔۔۔مر جاو گی؟‘‘اچانک اُس کے لب ہلے اور صاحبہ کی پلکیں۔
’’محبت کا جسم جب ایک لافانی جذبے کا سرور پا لے تو اُس میں مرنے کا تصور نہیں ہوتا ۔محبت میں دیا جلانے سے غرض ہوتی ہے، اِس بات سے نہیں کہ اُس دیے کی روشنی منتوں میں بسے شخص تک پہنچتی ہے یا نہیں۔‘‘سنتے سنتے اُسے صاحبہ کی آنکھیں بڑی اور روشن نظر آنے لگی تھیں۔
’’تو تمھیں اُس کے مرنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا؟اُس کی موت کے ساتھ تمھارا عشق فنا نہیں ہوگا؟‘‘جازم نے اُسی کیفیت میں بے اختیار پہلو بدلتے ہوئے اگلا سوال کیا تھا۔
’’میں جس مقام پر کھڑی ہوں وہاں سانسوں کی ڈوری ٹوٹنے سے فرق نہیں پڑتا،کیونکہ اِس مقام پر دو روحوں کا وجود ایک ہوا کرتا ہے۔‘‘صاحبہ کے الفاظ نہیں پگھلتا ہوا سیسہ تھا،جازم کو اپنا سر پھٹتا ہوا محسوس ہونے لگا۔
’’کیا ہے اُس عام سے شکل والے میں ایسا؟ کیا ہے ایسا جو جازم خان میں نہیں؟‘‘ وہ سیخ پا ہوتا ہوا اپنی جگہ سے اُٹھ کھڑا ہوا ۔سکوت کا لمحہ پوری طرح سے ٹکڑے ٹکڑے ہوچکا تھا۔
’’اُس کے اندر عشق ہے اور تمھارے اندر ایک خلا۔۔۔وہ پورا آسمان ہے اور تم زمین کا ایک ٹکڑا بھی نہیں۔۔۔وہ عشق کے رنگ بانٹنے والا فقیر ہے ۔۔۔تم بے رنگ بادشاہ۔۔۔تم نے بہت سے رنگ دیکھے ہونگے۔۔۔اگر عشق کا رنگ دیکھنا ہے تو سیف کی آنکھیں دیکھو۔۔۔صبح کی طرح روشن چمکتی ہوئی آنکھیں صرف اُن لوگوں کی ہوتی ہیں جو کسی کی زندگی میں اندھیرے نہیں بھرتے۔‘‘وہ پر سکون انداز میں چلتی ہوئی اُس کے سامنے آگئی تھی۔
’’خاموش ۔۔۔مت کرو صاحبہ۔۔۔مت کہو ایسے۔۔۔واپس آجاؤ۔۔۔اِس بے نام عشق کو چھوڑ دو۔۔۔اپنے گناہ کا اعتراف کرلو۔۔۔میں تمھاری ساری سختیاں ختم کردونگا۔۔۔ہر سزا معاف کردونگا۔۔۔میرے سامنے جھک جاؤ۔۔۔اپنی ہار مان لو۔‘‘جازم کی کپکپاتی غصیلی آواز میں کچھ بے چارگی سی تھی۔
’’ہاہاہا۔۔۔اِتنے کمزور اِتنے بے بس ہوگئے ہو کیا تم؟ جب ہاتھ اُٹھانے سے بات نہیں بنی تو ہاتھ جوڑ کر جنگ ختم کرنا چاہتے ہو۔‘‘
’’بکواس بند کرو اپنی۔‘‘صاحبہ کی تمسخرانہ ہنسی اور الفاظ اُسے سر تا پیر سلگا گئے تو اُس نے بے قابو ہوتے ہوئے دایاں ہاتھ اُٹھا دیا تھا۔ایسے کئی تھپڑ صاحبہ کئی بار کھا چکی تھی ۔اُس کے چہرے کی مسکراہٹ نے جازم کو یہ باور کرایا کہ جیسے یہ تھپڑ اُسے نہیں جازم نے اپنے منہ پر مارا ہے۔
’’تم اِس قابل ہی نہیں ہو کہ میں اب تمھیں بیوی بنا کر رکھو اور نہ اِس قابل کہ تمھیں آزاد کردوں۔‘‘جازم نے اُسے حقارت سے دیکھتے ہوئے تحقیر بھرے انداز میں کہا۔
’’جب میں کسی قابل ہی نہیں ہوں تو اپنے وقت کو میرے لیے کیوں برباد کر رہے ہو۔یا اِس کھیل کو ختم کردو یا مجھے فنا کردو۔‘‘وہ اُس کے قریب آتے ہوئے بلند حوصلے سے نڈر لہجے میں بولی تھی۔اُس کی آنکھوں میں موت کا کوئی خوف نہیں تھا۔
’’میں جانتا ہوں۔۔۔میں سارے دروازے کھول بھی دوں تو تم نہیں بھاگو گی۔۔۔اِس لیے میں تمھیں اُس کے پاس بھیجونگا۔۔۔بولو ! جانا چاہتی ہو اپنے محبوب کے پاس؟‘‘جازم نے اُس کی بلا خوف نگاہوں کے سامنے وہ سنہری موقع رکھا کہ وہ کچھ پل کے لیے ہکّا بکّا رہ گئی۔
’’تمھارا اِتنا ظرف نہیں ہے جازم خان۔‘‘وہ محظوظ ہوتے ہوئے نخوت سے مسکرائی تھی۔
’’کیا تمھارا اِتنا حوصلہ ہے۔‘‘جازم نے اپنے چیلنج سے اُس کی ہنسی نوچنی چاہی۔
’’تم کئی بار آزما چکے ہو مجھے۔۔۔اِس سوال کی اب گنجائش ہی کہاں باقی ہے۔‘‘اُس نے پر اعتماد لہجے میں جواب دیا تو جازم کے پاس اُسے اگلے امتحان میں ڈالنے کے سوا کوئی راستہ نہ بچا تھا۔
’’جاؤ صاحبہ آج میں تمھیں نہیں روکو نگا۔۔۔تمھارا رستہ تمھیں خود بتا دے گا کہ تمھاری منزل کہاں ہے۔۔۔جاؤ۔۔۔جا سکتی ہو تو چلی جاؤ سیف کے پاس۔۔۔ اپنے عشق کے پاس۔‘‘جازم نے اعلانیہ اجازت دیتے ہوئے کمرے کا دروزہ کھول دیا تو صاحبہ نے لحظہ بھر کے لیے اُسے متعجب نگاہوں سے دیکھا،مگر دروازے کے باہر قدم رکھتے ہی اُس کی ساری حیرانی دور ہوگئی۔یہ کیسے ممکن تھا کہ جازم خان اُس کے عشق کو آسانی سے تسلیم کرلے۔۔۔اُسے فتح کا تاج پہنا کر اپنی ہار مان لے ۔اُس کے سامنے جازم کی جارحیت اور درندگی کی ایک اور مثال تھی۔کمرے کے سامنے سے زینوں تک دہکتے انگاروں کا ایک رستہ بنا دیا گیا تھا اور وہ سمجھ گئی تھی کہ یہ رستہ وہی ختم ہوگا ۔۔۔۔ جہاں سیف ہے!!!
’ ’یہ عشق نہیں آساں اِتنا ہی سمجھ لیجے
اک آگ کا دریا ہے اور ڈوب کے جانا ہے ۔‘‘
جازم گنگناتے ہوئے بلند آواز میں ہنسا تو ہنستا چلا گیا۔صاحبہ کو یقین ہوگیا تھا کہ اُس کا گھمنڈ پاگل پن بن چکا ہے۔
’’تم بس یہ بات کہہ سکتے ہو۔۔۔سچ میں کر دیکھاؤنگی۔‘‘صاحبہ نے اپنا دایاں پیر دروازے کے کنارے پر رکھتے ہوئے اُسے نیچا دیکھایا تھا۔
’’کیا تم چل سکتی ہو اِس رستے پر؟‘‘جازم نے ایک بار پھر اُس کی ہمت کو للکارا۔
’’اِس راستے پر تو صرف عشق والے ہی چل سکتے ہیں۔‘‘صاحبہ کی روشنی سی بھری آنکھیں اُس کی بہادری کی گواہ تھیں۔
’’اگر تم اُس تک پہنچ گئی تو میں مان لونگا تمھارا عشق سچاّ ہے ۔۔۔اور میری انا۔۔۔میرا تعلق ۔۔۔میرا وقار جھوٹا۔‘‘جازم خان آج کا کھیل انصاف سے کھیلنا چاہتا تھا۔
’’حویلی کے سارے آئینوں میں تمھارا جھوٹا عکس تمھارا منتظر ہے۔خدا حافظ!‘‘یہ کہتے ہی وہ دروازے سے یوں بھاگتے ہوئے نکلی جیسے تتلی بند مٹھی سے آزاد ہوتی ہے۔
’’قدم ڈگمگائے تو راستہ بدل لینا صاحبہ ۔‘‘اُس نے طنز بھری آواز میں چلّا کر بلند و بالا قہقہہ لگایا۔جسے وہ ان سنا کرتی ہوئی آگے بڑھ گئی تھی۔
وہ ہر درد چبھن جلن سے بے نیاز بھاگتی ہوئی جارہی تھی۔۔۔اُسے لگا وہ آج رک گئی تو کبھی جیت نہ پائے گی۔۔۔بھاگتے بھاگتے اُس نے آنکھیں بند کرلی تو چاروں طرف پھول ہی پھول اُگ آئے ۔۔۔اُس کے سامنے سینکڑوں ستارے تھے جو اُس کا ہاتھ پکڑ کر اُسے خود سے ملانے لے جارہے تھے۔۔۔روح کو ایسی بے خودی کی پرواز ملی کہ کوئی تکلیف جلتے قدموں کو روک نہ پائی۔۔ ۔وہ اور تیز بھاگی ۔۔۔وہ اپنے آپ میں کہاں تھی۔۔۔وہ اپنے آپ میں نہیں تھی ۔۔۔وہ تو کوئی اور تھی ۔۔۔وہ صاحبہ نہیں ۔۔۔عشق تھی۔۔۔عشق کا ایسا مظاہرہ جازم اور حویلی کے نوکروں نے پہلی بار دیکھا تھا۔۔۔پوری حویلی کی سانس رک گئی تھی۔۔۔وقت تھم گیا تھا۔۔۔دیکھنے والی سب آنکھیں اُس کے آگے جھک گئیں۔۔۔کچھ کمزور دل خادماؤں نے اپنے ہونٹوں اور کانوں پر انگلیاں رکھ لی تھیں۔
’’سیف ۔۔۔سیف۔۔۔ سیف۔‘‘دیواروں پر جلتے عکس میں صاحبہ کا عشق تھا۔۔۔چھت پر لٹکتے فانوس میں صاحبہ کا عشق تھا۔۔۔چاروں طرف لگے شیشوں میں درر نہیں، ہار نہیں، بس جیت تھی، بس عشق تھا۔
’’سیف۔۔سیف۔‘‘ وہ دو بار لڑکھڑاتے ہوئے نیچے گری تو سیف کا نام اُس کے لبوں سے پوری شدت سے نکلا۔پیروں کے ساتھ ساتھ اُس کے ہاتھ بھی جھلس گئے تھے،مگر آنکھوں کے سامنے سیف کا چہرہ اِس تپتے صحرا میں بارش کی ٹھنڈی پھوار کی طرح تھا۔
’’رک جاؤ۔۔۔رک جاؤ صاحبہ۔۔۔مت بڑھو آگے۔۔۔مت آؤ یہاں۔‘‘زنجیروں سے جکڑے سیف نے کھلے دروازے سے پہلی بار اُس کا نام پکارا ۔قید خانے کا دردوازہ جان بوجھ کر کھولا گیا تھا تاکہ صاحبہ کی درد بھری چیخیں سیف سن سکے۔ اُس کے لیے یہ لمحہ جان نکلنے جیسا تھا،مگر اُسے ایک جگہ باندھ کر اِتنا بے بس کردیا گیا کہ وہ ایک زندگی کو بچانے کے لیے آخری کوشش بھی نہیں کرسکتا تھا۔
’’میں آرہی ہوں سیف ۔۔۔میں آرہی ہو۔۔۔وہ اِس جذبے کو مات نہیں دے سکتا ۔۔۔نہ ہمیں جدا کرسکتا ہے ۔‘‘ سیف کی آواز نے اُس کے جنون اور حوصلے کو اور بڑھا دیا تھا۔وہ دھواں دھواں منظر سے ہوتی ہوئی قید خانے کے قریب پہنچی تو جازم خان ہارے ہوئے جواری کی طرح پیچھے دیوار سے جا لگا۔
راستہ اور امتحان دونوں ختم ہوچکے تھے ۔قید خانے کے اندر داخل ہونے تک اُس کے پیر بری طرح سے جھلس گئے تھے اور اب اُس کی ہمت، اُس کا جنون اور اُس کی جنگ بھی ختم ہوچکی تھی،کیونکہ اُس کی منزل سامنے تھی۔
’’سیف ف ف ف ف ف۔‘‘وہ اُس کا نام لمبی سانس کے ساتھ لیتے ہوئے اُس کے سامنے گر گئی تھی اور سیف نے زنجیروں سے جکڑے ہاتھوں سے اُسے اپنے آپ میں سمیٹ لیا تھا۔
*****
ملن کی گھڑی بیشک مختصر تھی ، مگر اُس کا اثر صدیوں تک رہنے والا تھا۔کبھی کبھی ایک جھلک ہی کرب کو راحت میں بدل جاتی ہے ،کبھی کبھی ایک نظر ہی طویل انتظار کی اذیت کو زائل کردیتی ہے ۔ صاحبہ کو تو صرف ایک نظر ہی نہیں اُس کے لمس کا سرور بھی ملا تھا جسے پاتے ہی اُس نے آنکھیں بند کر لی تھیں۔سب کے لیے وہ درد اور تکلیف سے بے حوش تھی ،مگر یہ وہ جانتی تھی کہ وہ اُس لذت میں گم ہے جو ایک تھکے ہارے مسافر کے سوکھے لبوں پر چند قطرے پانی کے گرنے سے نصیب ہوتی ہے ۔یہ وہ راحت تھی جو بنا سائبان کے بھٹکے ہوئے قدموں کو اپنا ٹھکانہ اپنا آشیانہ مل جانے پر ملا کرتی ہے۔ سیف کی خوشبو سیف کا احساس اُسے اندھیرے کے پار اُس طلمساتی خواب میں لے گیا تھا،جو نہ ٹوٹ سکتا تھا نہ توڑا جاسکتا تھا۔انگارے ٹھنڈے کردئیے گئے تھے ،لیکن جو آگ حویلی کے کونے کونے میں اِس سچّے جذبے نے بھڑکائی تھی اُسے بجھانا اب کسی کے اختیار میں ہی کہاں تھا۔
’’اُٹھ جاؤ صاحبہ۔۔۔تم ابھی نہیں جا سکتی۔۔۔تم ابھی نہیں مر سکتی ۔۔۔میں نے ایک بار محبت کو قبر میں اُتار دیا ہے۔۔۔میں پھر کسی محبت کو مرتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا۔۔۔میں پھر یہ حوصلہ نہیں کرسکتا۔‘‘سیف نے بندھے ہوئے ہاتھوں سے اُسے جھنجھوڑنے کی کوشش کی۔اُسے لگا اُس کی گود میں صاحبہ کا نہیں جیون کا چہرہ ہے۔وہی جیون جس نے اپنے آپ کو آگ میں جھونک دیا تھا۔جسے کھونے کے بعد اُس نے عشق کو پایا تھا اور اب وہ اُسی عشق سے صاحبہ کی صورت مل رہا تھا۔
’’کبھی محبت کا چہرہ جل جاتا ہے تو کبھی پاؤں۔۔۔مگر یہ پھر بھی دیکھتی ہے۔۔۔پھر بھی چلتی ہے۔۔۔یہ رکتی نہیں ہے۔۔۔یہ جھکتی نہیں ہے۔‘‘سیف اُس کا چہرہ دیکھتے ہوئے پہلی بار محبت سے بولا تھا۔اُس کے آنسو صاحبہ کا چہرہ بھگو رہے تھے تو صاحبہ کا جذبہ اُس کا دل۔
’’میں جانتا ہوں تم مجھے سن رہی ہو۔۔۔تم مجھے سننا ہی چاہتی تھی ناں۔۔۔سنو صاحبہ میری ختم ہوتی زندگی کی تم آخری امید ہو۔۔۔مجھے تمھارا ساتھ چاہیے۔۔۔مجھے تمھاری بہت ضرورت ہے۔‘‘ اپنی جکڑی ہوئی انگلیاں اُس نے صاحبہ کے لبوں پر رکھیں تو مدھم سانسوں نے جیسے پھر سے زندگی سے ملا دیا تھا۔
’’میں مانتا ہوں تم مجھ سے بہت محبت کرتی ہو۔۔۔۔اور اِس بہت محبت نے میرے بنجر دل میں پھول کھلا دیئے ہیں۔۔۔میں تمھارا روٹھنا برداشت نہیں کر پاؤنگا۔۔۔میں اِس خوشبو کی جدائی نہیں سہہ پاؤنگا۔‘‘اُس نے مِنت بھرے لہجے میں صاحبہ کو ایسے مخاطب کیا جیسے وہ پلکیں گرائے اُسے ہی سن رہی ہو۔
’’ہم ایک ہیں۔۔۔ہم آزاد ہیں۔۔۔ہم عشق ہیں صاحبہ۔۔۔سنو سنو ۔۔۔ہوائیں پرندے ستارے سب یہی کہہ رہے ہیں۔‘‘وہ بچے کی طرح پچکارتے ہوئے اُسے اُن آوازوں کی طرف متوجہ کر نے لگا،جو شاید صاحبہ اُس کے ساتھ ہی سن رہی تھی۔
اِس سے پہلے وہ اپنا دل اور کھول کر سامنے رکھتا اُسی پل چاچی شگو دیگر خادماؤں سمیت قید خانے میں داخل ہوئیں اور صاحبہ کو اپنے ساتھ لے گئیں۔خادماؤں کی روتی آنکھیں پشیمان چہرے دیکھ کر اُسے ڈھارس ہوئی تھی کہ صاحبہ جلد ہی آنکھیں کھول دے گی۔یوں تو وہ چلی گئی تھی،مگر قید خانہ معطر کر گئی ۔اُس کا احساس سیف کے دامن پر جو رہ گیا تھا۔
ہوگا یہ معجزہ بھی
زندگی لوٹ کر آئے گی پھر
چند ستمگروں نے دوا کی ہے
درد کو مٹنا ہی پڑے گا
چاچی شگو سے جو بن پایا اُس نے صاحبہ کو حوش میں لانے کے لیے کیا۔آج پہلی بار تھا کہ وہ اُس درد اذیت جلن کو کم کرنے کی کوشش میں لگی ہوئی تھیں جس سے اُن کی مالکن بے نیاز تھی۔
’’ظلم ہے یہ۔۔۔ظلم کی انتہا ہے۔۔۔ظالم ہے وہ۔۔۔اور ہم سب بھی ظالم ہیں۔‘‘چاچی شگو نے بلند آواز میں روتے ہوئے دہائی دی تو باقی خادمائیں بھی زار و قطار رونے لگیں۔آج وہ صرف صاحبہ کی تکلیف بڑھ جانے پر نہیں بلکہ اپنی انسانیت مرجانے پر بھی رو رہی تھیں۔
’’آپ کو اُٹھنا ہوگا۔۔۔اُٹھنا ہوگا۔۔۔آپ نے یہ پوری جنگ لڑی ہے ۔۔اب تو ہم جیسی تماش بینوں کو کٹھ پتلیوں کو سزا دینے کا وقت ہے۔۔۔اب تو آپ کی جیت منانے کا وقت ہے۔‘‘اُنھوں نے شفقت سے صاحبہ کے سفید چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے خود کو ملامت کی گہری کھائی میں گرتا ہوا محسوس کیا۔
’’ہم شرمندہ ہیں بہت شرمندہ۔۔۔آپ سے اپنے آپ سے۔۔۔انسانیت سے ضمیر سے۔۔۔ہم کبھی خود سے آنکھیں نہیں ملاسکتیں ۔۔۔کبھی نہیں۔‘‘چاچی شگو کی شکست خوردہ آواز میں آہ و بکا کرتی کئی آوازیں شامل ہوچکی تھیں۔
’’آنکھیں کھول دیجیے بی بی۔۔۔اگر آج آپ نے آنکھیں نہیں کھولیں تو ہم پر معافی کے سب در بند ہو جائیں گے۔‘‘چاچی شگو نے ڈوبتے دل کے ساتھ اُس کے پیر آزردگی سے پکڑے تو تمام خادمائیں اُن کی تقلید میں آگے بڑھیں۔اُن سب کی عرش تک جاتی ہوئی دعائیں تھیں اور سیف کی محبت کہ چوبیس گھنٹے بعد صاحبہ نے ایک بار پھر اِس دنیا کو دیکھا تھا۔
ٌٌٌٌ*****
سامنے دیوار پر نصب بڑے آئینے کے سامنے وہ اپنی شاہی کرسی پر اُسی شان کے ساتھ بیٹھا اپنے ہی عکس کو غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔اُس کا چہرہ پہلے جیسا نہیں تھا،نہ اُس کی آنکھیں۔۔۔اُس کے چہرے پر شکست کی تحریر لکھی جاچکی تھی اور اُس کی آنکھیں بار بار وہ تحریر پڑھ کر سنا رہی تھیں۔۔۔شروع سے اب تک کی کہانی میں وہ بھاگتا ہی رہا تھا۔۔۔وہ کہیں نہیں رکا تھا۔۔۔اُس نے وہ سانس نہیں بھری تھی جو زندگی کی اصل حقیقت بیان کر جاتی ہے۔۔۔کڑی مسافت کے بعد پہلی بار اُسے ٹھرنے سانس لینے کا موقع ملا تھا۔۔۔پہلی بار اُسے ہر شئے محسوس ہورہی تھی۔۔۔طویل سفر ۔۔۔لاحاصل تھکان۔۔۔بے نام منزل ۔۔۔یکدم آئینے کے اندر دھواں سا بھرنے لگا تھا۔۔۔وہ تو جلانے والا تھا۔۔۔مگر اُس نے جلتے دیکھا۔۔۔ایک گنگار شخص کو۔۔۔ایک مغرور عکس کو۔۔۔اچانک اُس نے ایک کے بعد ایک سگریٹ جلا کر نیچے پھینکنا شروع کردی اور دوسرے ہاتھ میں پکڑی شراب کی بوتل سے کچھ قطرے ہر جلتی سگریٹ پر گرانے لگا۔۔۔جلانے بجھانے کا یہ کھیل جانے کتنی ہی دیر چلتا رہا،مگر ہر گزرتے پل کے ساتھ اُس کی اذیت دوگنی ہوتی جارہی تھی۔
’’تم ہار گئے ہو جازم۔۔۔وقت محبت رشتے ۔۔۔تم سب ہار گئے۔۔۔صاحبہ جیت گئی ہے۔۔۔سیف فتح پا چکا ہے۔۔۔جیون سرخرو ہو گئی ہے۔۔۔اور تم۔۔۔تم بس ہار گئے ۔۔۔سب کچھ ہار گئے۔‘‘شیشے میں دیکھائی دیتے اُس کے دھندلے عکس نے اُس پر ہنسنا شروع کردیا تھا۔
’’شش ۔۔۔شش ۔۔۔نہیں۔۔۔ایسا کیسے ممکن ہے ۔۔۔ایسا کیسے ہو سکتا ہے کہ میں ہار جاؤں۔۔۔جازم خان کو ہارنا نہیں آتا۔۔۔جازم خان ہار نہیں سکتا۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا اور منہ پر انگلی رکھ کر اپنے عکس کو خاموش کروانے والے انداز میں سرگوشی کرنے لگا۔
’’ہر ہارا ہوا اُجڑا ہوا شخص ایسے ہی بولتا ہے۔۔۔خود فریبی کا یہ دھواں ابھی تمھیں حقیقت سے دور کر رہا ہے۔۔۔جلد ہی تم اپنی شکست قبول کرلو گے۔‘‘عکس چپ کہاں رہنے والا تھا وہ مزید ٹھوس لہجے میں بولا۔
’’تم جھوٹے ہو۔۔۔فریبی ہو۔۔۔تم جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘اب کی بار وہ سخت لہجے میں سرگوشی کرتے ہوئے جھنجھلایا تھا۔
’’فریبی تو تم ہو۔۔۔کب تک اپنے آپ کو دھوکہ دو گے۔۔۔تمھارے اِس گھمنڈ نے تمھیں کہیں کا نہیں چھوڑا۔۔۔دیکھو تمھارے پاس پتھر کی حویلی اور بے جان مورتیاں ہیں۔۔۔کوئی زندہ انسان تمھارے پاس نہیں۔۔۔اکیلے رہ گئے تم۔۔۔بالکل تنہا۔‘‘اُس کی آواز جتنی دھیمی تھی اُس کا عکس اُتنا ہی گلا پھاڑ کر بولنے لگا۔
’’تمھارے آگے ہاتھ جوڑتا ہوں۔۔۔مت کہو ایسا ۔۔۔مت کہو ایسا۔۔۔نہیں ہوں میں اکیلا۔۔۔سب میرا ہے۔۔۔سب کچھ میرے پاس ہے۔‘‘اُس نے بلند آواز میں پورے وثوق سے چیخ کر کہا اور دونوں آنکھیں سختی سے بند کرکے پیچھے ہونے لگا۔چند آنسو اُسے بے خبر رکھتے ہوئے اُس کی گالوں پر پھسل گئے تھے۔
’’یہ کیا۔۔۔تم تو رو پڑے۔۔۔تم تو مرد ہو۔۔۔تم تو وڈیرے ہو۔۔۔تم تو بہادر ہو۔۔۔تم تو حاکم ہو۔۔۔تم تو طاقت ور ہو۔۔۔تم تو جازم خان ہو ۔۔۔تم کیسے رو سکتے ہو آخر!‘‘عکس آئینے سے نکل کر اُسے زور زور سے جھنجھوڑتے ہوئے تمسخر اُڑانے لگا ۔
’’مت بولو۔۔۔چپ ہوجاؤ۔۔۔چھوڑ دو مجھے ۔۔۔چھوڑ دو مجھے ۔۔۔میں پاگل ہو جاؤ نگا ۔۔۔پاگل ہوجاؤنگا۔‘‘بے بسی کی انتہا پر جاکر اُس نے چلاتے ہوئے شراب کی آدھی بوتل شیشے پر دے ماری۔وہ اپنے ہی عکس کو سینکڑوں ٹکڑوں میں تقسیم ہوتا دیکھ کر وحشت زدہ سا ہوا اور کھینچ کھینچ کر سانسیں لیتے ہوئے پیچھے دیوار سے جا لگا۔
’’چلے جاؤ۔۔۔میں تمھاری کوئی بات نہیں سننا چاہتا۔۔۔چلے جاؤ۔۔۔۔میں تم سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتا۔۔۔چلے جاؤ جازم خان۔۔۔یہاں سے دور کہیں چلے جاؤ۔‘‘اُس نے ہر ٹکڑے میں نظر آتے اپنے عکس کو جیسے حکم دیا اور دونوں ہاتھوں سے چہرہ پکڑ کر کانپنے لگا۔
’’میں تمھیں اور نہیں دیکھ سکتا جازم خان۔۔۔تمھیں اور نہیں سن سکتا۔۔۔تمھیں دیکھ کر میرا دل پھٹنے لگا ہے۔۔۔تمھاری باتیں۔۔۔تمھاری ہر بات میرا گلا گھونٹ رہی ہے۔۔۔مجھ پر رحم کرو۔۔۔میں نے ہمیشہ تمھارا ساتھ دیا۔۔۔خدا کے واسطے اب میرا ساتھ چھوڑ دو۔‘‘کپکپاتے لبوں سے کہتے ہوئے وہ اپنے آپ میں سمٹ کر نیچے جھک سا گیا تھا۔
’’نکلو میرے اندر سے۔۔۔نکلو میرے اندر سے۔۔۔چھوڑ دو میرا وجود۔۔۔چھوڑ دو میرا دل۔۔۔تم نے مجھے برباد کردیا۔۔۔نفرت ہے مجھے تم سے۔۔۔شدید نفرت جازم خان!‘‘اچانک اُس کا سر اوپر اُٹھا اور ایک زور دار ابکائی کے ساتھ اُس نے ساری شراب باہر انڈیل دی جو وہ کچھ دیر پہلے پی چکا تھا۔
’’کوئی بھی نہیں ہے۔۔۔کوئی بھی نہیں ہے میرے پاس۔۔۔یہ سگریٹ۔۔۔یہ شراب۔۔۔یہ ٹوٹا ہوا آئینہ۔۔۔باقی سب کہاں ہیں۔۔۔کہاں چلے گئے تم سب۔۔۔میرا بچپن۔۔۔میری حویلی۔۔۔امی جان۔۔۔جی جی جیون۔۔۔کوئی تو آواز دے۔‘‘وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا اور دوڑتا ہوا کھڑکی کے پاس آگیا جیسے کسی کو پکار رہا ہو۔کتنی ہی دیر وہ باہر خلاؤں کو گھورتا رہا دفعتاً ذہن میں ایک جھماکا سا ہوا تو وہ تقریبا دوڑتے ہوئے جہازی سائز بیڈ کے دوسری طرف رکھی لکڑی کی بڑی الماری کی طرف بھاگا۔ایک ہی پل میں الماری سے ایک ایک چیز نکال کر نیچے پھینک دی گئی تھی۔اُس نے یہی کہیں کچھ سنبھال کر رکھا تھا جس کے کھونے کے دھڑکے نے اُس کی حالت پاگلوں جیسی کردی۔اچانک فائلوں کے اندر رکھے ڈھیروں کاغذوں کو عجلت میں ٹٹولتے ہوئے ہوا میں اچھالا گیا تو کہیں سفید لفافے میں لپٹا اُسے وہ خط نظر آیا جیسے دیکھ کر اُس کی جان میں جان آگئی تھی۔اِس لفافے میں کسی نے اپنی آخری خوشبو قید کی تھی اور وہ یہ خوشبو ایک بار پھر محسوس کرنا چاہتا تھا۔اُس نے شدت سے کپکپاتے ہاتھوں میں تھاما وہ خط کھولا۔۔۔۔جیون کا چہرہ اور ہلتے ہوئے لب اُس کے سامنے تھے۔
’’یہ شادی کا خواب کتنا خوبصورت ہوتا ہے ناں۔۔۔
لڑکیاں آنکھیں بند کرتی ہیں تو اِرد گرد پریاں سرگوشی کرتی ہیں۔۔۔تتلیاں گیت گاتی ہیں۔۔۔خوشبوئیں جھومنے لگتی ہیں۔۔۔کئی راگ۔۔۔کئی دھنیں سماعتوں میں ایسے رس گھولتی ہیں کہ ہاتھ اِس خواب کی انگلی پکڑتے ہیں اور زمین کو چھوڑ دیتے ہیں۔۔۔
تمھاری سنگت میں یقین مانو! میں نے کتنے پل کتنے لمحے کتنے دن زمین پر پاؤں نہیں رکھا۔۔۔۔
میں اِس خواب میں آنکھیں رکھ کر سوتی تھی اور اِسی خواب کے تکیے پر سر رکھ کر کئی کئی راتیں جاگتی تھی۔۔۔
یہ خوبصورت سپنا تم نے مجھے دیکھایا تھا جازم۔۔۔۔وہ لال جوڑا تم لے کر آئے تھے۔۔۔
جانتے ہو جب تم نے مجھے سر عام ٹھکرا دیا، بھری محفل میں رسوا کیا ،وہ لال جوڑا میرا کفن بن گیا تھا۔۔۔
مر تو میں اُسی دن گئی تھی جس دن یہ جان پائی کہ تم میرے ساتھ جینا نہیں چاہتے۔۔۔
میں نے یہ تکلیف صرف جسم یا دل تک محسوس کی ہوتی تو میرے آنسوؤں سے آہیں ٹپکتیں۔۔۔لبوں سے بددعائیں نکلتیں۔۔۔مگر یہ درد تو میری روح میں آکر ٹھر گیا ہے ۔۔۔
یہ محبت کا پہلا درجہ نہیں ہے کہ میں ’’جیون حیات ‘‘جازم کے ساتھ جازم جیسا کرکے جاؤں۔۔۔
یہ محبت کا آخری مقام ہے اور عشق کا پہلا پڑاؤ۔۔۔بالکل اُس لاعلاج مرض کی آخری سٹیج جیسا جہاں کوئی دعا کوئی دوا شاید میرے زندگی سے دور جاتے قدم روک نہ پائے ۔۔۔۔
جانتے ہوئے اِس مقام پر بددعائوں کا سہارا نہیں لیا جاتا۔۔۔آہوں کا آسرا نہیں کیا جاتا۔۔۔بس ایک حصار باندھا جاتا ہے۔۔۔
اِس حصار کو تم میری دعا سمجھ لو، آخری خواہش، یا آخری وعدہ۔۔۔میں تمھیں لاعلاج نہیں چھوڑنا چاہتی۔۔۔
میری قربانی کا تقاضا یہی ہے کہ تم اِس قربانی کو مانو۔۔۔میرے آنسوؤں کی تمنا یہی ہے کہ تم اِ ن آنسوؤں کی وقعت پہچانو۔۔۔میرے درد کا مداوا یہی ہے کہ تم یہ درد کسی اور کو نہ دو۔۔۔میرے عشق کا حاصل یہی ہے کہ تم عشق کو سمجھو۔۔۔
میری دعا تمھارے حق میں ہے کیونکہ میرا دل کبھی تمھارے خلاف نہیں ہوا۔۔۔
میں نے تمھیں اُس موسم میں بھی چاہا جب گلاب کھلے تھے۔۔۔میں نے تمھیں اُس موسم میں بھی چاہا جب سارا چمن اُجڑ چکا تھا۔۔۔
میرا عشق تب بھی قائم رہا جب تمھارا پیار سامنے تھا۔۔۔میرا عشق تب بھی زندہ رہا ۔۔۔جب تم نے راستہ بدل لیا۔۔۔۔
میں جانتی ہوں کہ تم اب زندگی سے کیا چاہتے ہو۔۔۔کیا چاہنے والے ہو۔۔۔
تمھارے سامنے نئی محبت کا سمندر ہے اور حُسن کے ستاروں سے جھلملاتا فلک۔۔۔
مگر میری دعا ہے تم یہ سمندر پار نہ کر پاؤ۔۔۔۔
تم یہ آسمان چھو نہ سکو۔۔۔
جب تک تم محبت کو جان نہ لو۔۔۔سمجھ نہ لو۔۔۔محبت تمھیں حاصل نہ ہو۔۔۔
جب تک تم دل اور روح کی خوبصورتی کا فلسفہ پڑھ نہ لو ،روپ کے کسی بھی دلکش صفحے کو چھو نہ پاؤ۔۔۔
میں نہیں چاہتی تم ایسے ہی جازم رہو۔۔۔
میں نہیں چاہتی کہ کوئی اور جیون پیدا ہو۔۔۔
میں نہیں چاہتی کہ تم اِس جہاں یا اُس جہاں کبھی میرے سامنے آؤ تو تمھاری آنکھوں میں۔۔۔غرور ہو۔۔حوس ہو۔۔سفاکیت ہو۔۔۔۔
میں تمھیں اُجلا دھلا پاک دیکھنا چاہتی ہوں۔۔۔
بالکل ویسے جب تم سات سال کی عمر میں سفید کرتا پہنے باغ میں بھاگ کر میرے پاس آتے تھے۔۔۔۔
شاید میری یہ باتیں آج تمھیں غصہ دلائیں۔۔۔ہو سکتا ہے تمھیں یہ کبھی تکلیف دیں۔۔۔۔
ممکن ہے تم اپنے نفس کی تسکین کرلو ۔۔۔لیکن یاد رکھنا کہ حاصل کرنے اور جیتنے میں فرق ہوتا ہے۔۔۔۔
اگر میری کوئی بھی بات تمھارے دل میں رہ گئی تو ۔۔۔تو تم حسن اور عشق کے گرد جال بنو گے۔۔۔اپنی محبوب چیز پر پہرے بیٹھاؤگے۔۔۔اپنی پسندیدہ چیز کو سینت سینت کر رکھو گے۔۔۔اُس امیر شخص کی طرح جس کی جمع پونجی ساری دولت تمام عمر تجوری میں پڑی رہ جاتی ہے،مگر اُسے نصیب نہیں ہوتی۔۔۔
میری دعا ہے تمھیں حسن اور عشق نصیب ہو،مگر تب جب تم بدل جاؤ۔۔۔۔
تمھارے اردگرد کھینچا گیا میرا یہ حصار۔۔۔تمھارے آس پاس رہنے والی میری یہ دعا تمھیں تب تک عشق اور سکون کے سچّے موسموں سے ملنے نہیں دے گی۔۔۔جب تک تم اپنے اندر انسانیت کا دروازہ کھول نہیں لیتے۔۔۔۔
نہ ہو کر بھی بس تمھاری!
جیون حیات۔۔۔
*****
کیوں چلتے چلتے رک گئے ویران راستو
تنہا ہوں آج میں ذرا گھر تک تو ساتھ دو
وہ گاڑی سے باہر نکلا تو کچھ دیر حسرت بھری نظروں سے حویلی کو دیکھتا رہا۔یہی وہ جگہ تھی جہاں سے زندگی کی بہاریں شروع ہوئی تھیں اور اب وہ گزری بہاروں سے کچھ پل اُدھار لینے آیا تھا۔۔۔یہی وہ جگہ تھی جہاں محبت نے جنم لیا تھا اور اب وہ دفنائی گئی محبت سے کچھ سانسوں کی بھیک مانگنے آیا تھا۔۔۔یہی وہ جگہ تھی جہاں اُس نے ہر رشتہ اپنی مرضی سے چھوڑا تھا اور وہ یہ دیکھنے آیا تھا کہ کیا اب بھی کوئی اُس کا منتظر ہے۔بری یادوں اور اچھی یاداشت کا کھیل بڑا ہی عجیب ہے انسان مستقبل کے رستے پر سفر نہیں کرسکتا،وہ بھی نہیں کر پایا تھا اُسے بھی واپس لوٹنا پڑا تھا۔کچھ انسانوں کو محبت اور زندگی کی اہمیت بڑی دیر سے سمجھ آتی ہے۔۔۔ہر خسارے۔۔۔ہر طوفان۔۔۔ہر کمی کے بعد۔۔۔اُنھیں اپنے اندر کا کھوکھلا پن محسوس ہوتا ہے۔وہ بھی بڑی دیر سے جان پایا تھا کہ وہ کچھ بھی نہیں ہے،کچھ بھی نہیں۔
’’چھوٹے بابا آپ؟‘‘اُس نے بیرونی دروازے سے اندر قدم رکھا تو پودوں کو پانی دیتے مالی بابا فوراً دوڑ کر آئے اور اُس سے بغل گیر ہوگئے۔اُن کے چہرے پر کوئی شکوہ نہیں تھا بلکہ آنکھوں میں محبت کا ایک سمندر تھا ۔وہ اُسے آج وہی معصوم بچہ سمجھ کر دل صاف کر چکے تھے، جسے کبھی اُنھوں نے اپنی گود میں کھلایا تھا۔
’’اپنے آنسو مجھ جیسے انسان کے لیے ضائع مت کیجیے۔‘‘اُس نے تسلی دینے والے انداز میں اپنا ہاتھ مالی بابا کے کندھے پر رکھا تو اُن کی بھیگی نگاہیں شکر ادا کرتے ہوئے آسمان کی طرف اُٹھ گئی تھی۔وہ جان گئے تھے کہ وہ جازم خان ہے،مگر پہلے والا نہیں۔وہ کچھ دیر مالی بابا کے گلے لگ کر کھڑا رہا اور پھر آگے بڑھ گیا۔
یہ پہلی بار تھا جب وہ داخلی راستے کے دونوں اطراف لگے پھولوں کو غور غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔لال گلابوں کی پنکھڑیوں پر اُنھیں لگانے والی کی تصویر تھی تو سفید کلیوں کے اُجلے رنگ میں اُن کے ساتھ جھومنے والی کی جھلک۔اُس نے ایک ایک پھول کو چھو کر دیکھا ۔۔۔وہ چاہتا تھا آج ہر پھول اُس سے شکایت کرے۔۔۔پھولوں سے ملنے کے بعد وہ اُس ستون کے پاس آیا جس سے وہ بچوں کی طرح جھولا کرتی تھی۔۔۔اُس کا دل کیا یہ ستون اُس سے خفا ہو ۔۔۔اُسے دیکھنا بھی گوارا نہ کرے۔۔۔حویلی کے اندرونی حصے کی حدود میں آتے ہی وہ سب آئینے اُس سے ٹکرائے تھے جو کسی کی صورت کے وفادار تھے۔۔۔اُس نے خواہش کی کہ ہر آئینہ اُس سے جھگڑا کرے۔ ۔۔ہر شئے کو نظر بھر بھر کر دیکھتا وہ جیون کے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔۔۔کمرے کی ہر چیز کو دھیان سے دیکھتے ہوئے اُس نے اعتراف کیا کہ جیون نہ صرف زندہ انسانوں کو بلکہ بے جان چیزوں کو بھی محبت سے رکھنے والی تھی۔۔۔اُس نے میز پر رکھی ہوئی شاعری کی کتابوں میں سے وہی کتاب اُٹھا لی جو وہ کبھی سینے سے لگائے اُس کے سامنے آئی تھی۔
’’آؤ میں تمھیں محبت پر ایک نظم سناتی ہوں۔مذاق تھوڑی ہے ۔اِس کتاب میں لکھی ہے۔‘‘وہ اپنے پسندیدہ شاعر کی کتاب ہاتھ میں پکڑے اترا کر کہتی ہوئی اُس کے سامنے بیٹھ گئی تھی۔
’’ غور سے سننا ۔۔۔کیونکہ تمھیں شاعری کی ذرہ بھی سمجھ نہیں!‘‘اُس نے جان بوجھ کر جازم کو چھیڑا تو وہ بھی شرارت کرتے ہوئے اُس کے قریب آبیٹھا ۔
تم جب چاہے
کوئی تحفہ دے دو
وہ دن خود خاص بن جائے گا
تم ہاتھ پکڑ کر ساون کا گیت چھیڑو
بارش خود ملنے آجائے گی
تم جب بھی ہنسو گے میرے پیا
بہاروں کو آنے کا موقع ملے گا
تم محبت پکاروں گے تاریک راتوں میں جب
یہ چاند دیکھنا ساتھ چلے گا
یوں تو
غموں کے پتے بھی گرے گے
خفگی کے کانٹے اُگے گے
رسموں کے طوفان اُٹھے گے
ٓاگر تم ساتھ ہوگے
آنکھ برسے گی نہیں ، دل تھکے گا نہیں
محبت کا موسم !!!
بیتے گا نہیں۔۔۔۔
ابھی اُس نے آدھی نظم ہی پڑھی تھی کہ جازم سو گیا تھا۔اُس نے غصے سے اُس کا دایاں کان کھینچا تو وہ ایک جھٹکے سے جاگ گیا۔آج پھر وہ اُس یاد میں سو گیا تھا۔آج اُس نے وہ نظم پوری پڑھی تھی ،ا ور یہ نظم اُس کے کسی پسندیدہ شاعر کی نہیں بلکہ جیون حیات کی تھی جو کتاب کے اندر آخری صفحے پر اُس نے اپنے نام سے لکھی تھی۔
’’جانے کیا کیا سوچتی تھی تم اور میں نے کیا کردیا۔‘‘اُس نے ایک کرب سا اندر اُترتا ہوا محسوس کیا اور کتاب کو وہیں رکھ کر کمرے سے باہر نکل آیا۔
اِس کے بعد وہ اپنے کمرے میں چلا آیا تھا۔۔۔جہاں سب سے پہلے اُس نے جیون کو محبت کا گیت سنایا تھا۔۔۔جہاں عزت کے مقام کی حقدار چاہت کو اُس نے نفس کے قدموں میں گرایا تھا۔۔۔اور جہاں سے وفا کی بھیک مانگتی جیون کو وہ دھکّے مار کر نکال چکا تھا۔اپنا کمرہ اُسے وہ سفاک جگہ جیسا لگا جہاں کسی بے گناہ کو پھنسی دی جاتی ہے۔۔۔معصوم رشتے قتل کیے جاتے ہیں۔یہاں آکر اُس کا سانس مزید تنگ ہونے لگا تھا ۔اُس نے جلدی سے اِس کمرے کو بند کردیا پھر کبھی نہ کھولنے کے لیے۔پوری حویلی میں بے سبب گھومنے کے بعد وہ ذکیہ بیگم کے حجرے کی طرف بڑھ گیا تھا۔
’’تم نے میرا مان بچا لیا۔۔۔مجھے میری نظروں میں پھر سے اُٹھا دیا۔۔۔تم آگے آخر۔۔۔تم لوٹ آئے میرے بیٹے۔‘‘ذکیہ بیگم نے آگے بڑھ کر اُسے گلے لگایا تو وہ بچوں کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رو دیا۔ایسے وہ تب رویا تھا جب بچپن میں اُس کے پیروں میں کانچ چبھا تھا۔ذکیہ بیگم نے اُسے رونے دیا۔وہ جانتی تھیں کہ آج پھر وہ ویسے ہی درد میں مبتلا ہے ،ویسے ہی اندر باہر سے لہولہان ہے۔
’’میں چاہتا تھا وہ میرے راستے سے ہٹ جائے جس کے لیے میں نے ایک غلط راستہ چنا۔۔۔شاید ہر گناہ سے پہلے انسان اندھا ہو جاتا ہے۔۔۔مجھے بھی اُس وقت کچھ نظر نہیں آرہا تھا۔۔۔میری منصوبہ بندی میں کہیں بھی اُس کی موت نہیں تھی۔۔۔مگر اُس نے خود کو ما ر دیا ۔۔۔میری وجہ سے میری خاطر۔۔۔میں سچ کہتا ہوںاپنی شادی شدہ زندگی کا ایک بھی دن چین سے نہیں گزارا میں نے۔۔۔وہ کبھی میرے خیال میں آتی تو میں اور ستم ڈھاتا۔۔۔وہ کبھی میرے خواب میں آتی تو میں مزید ظلم کرتا۔۔۔اپنے نفس اور انا کے پیچھے بھاگتے بھاگتے میں گر گیا ہوں۔۔۔ میں تھک گیا ہوں اپنے اندر کے انسان سے ۔۔۔مجھے اپنی پناہ میں لے لیجیے کہ میرے بے چین دل کو قرار آئے۔۔۔میرا دل پتھر کا ہوچکا تھا،مگر اِس میں درد ہے بہت درد ۔۔۔میں اور نہیں سہہ سکتا۔۔۔مجھے ایسی دعا دیجیے کہ جازم خان پھر سے نیا ہو جائے۔۔۔اچھا ہوجائے۔ ‘‘وہ دیوانہ وار ہاتھوں سے اپنے بالوں کو نوچتے ہوئے ذکیہ بیگم کے قدموں میں گر گیا تھا۔
’’وہ کتنی قیمتی تھی۔۔۔کتنی۔۔۔یہ احساس مجھے اُسے کھو دینے کے بعد کیوں ہوا ہے۔۔۔میرے ہاتھوں پر اُس کا لہو ہے۔۔۔صاحبہ اور سیف کی بربادی کی لکیریں ہیں۔۔۔میں کس قدر ظالم اِنسان ہوں کہ میں نے اپنے آپ کو بھی نہیں بخشا۔۔۔میں نے خود کو بھی مٹا ڈالا امّی جان۔‘‘وہ یوں دھاڑیں مار مار کر رو رہا تھا جیسے کوئی اُس کا اپنا مر گیا ہو۔ذکیہ بیگم کے اندر ایک بار پھر ندامت اور گناہ کا احساس گہرا ہوا اور اُن کے آنسو ٹپ ٹپ اُس کے سر پر گرنے لگے ۔
’’مجھے آج کوئی درس دیجیے امّی جان۔۔۔بتائیے کہ سچّی محبت کیا ہے؟۔۔۔خونی رشتے کیا ہیں؟ عزت کیا ہے؟ بتائیے مجھے۔۔۔سمجھائیے مجھے کہ جب کسی کا دل توڑا جاتا ہے تو کیسی سزائیں ملتی ہیں۔۔۔جب زندگیوں سے کھیلا جاتا ہے تو کیسے عذاب اُترتے ہیں۔۔۔جب گھمنڈ کا ساتھ دیا جاتا ہے تو کیسے خاک ہوتا ہے انسان۔‘‘اُس کی پچھتائی آواز اور آنسوؤں کی شدت نے ذکیہ بیگم کو ملامت کی گہری کھائی میں دھکیل دیا تھا۔
’’کاش! زندگی میں کچھ سبق پھر پڑھے جاتے پھر دہراے جاتے تو زندگی اپنی زیادتیاں ہمیں معاف کردیتی۔محبت تمھارے اندر اُتر چکی ہے۔احساس کے دیپ جل چکے ہیں۔بس اِس روشنی کو پھیلا دو جازم۔‘‘ذکیہ بیگم نے جھک کر دونوں ہاتھوں سے اُس کا چہرہ تھاما اور اُس کے آنسو صاف کرتے ہوئے ایک بار پھر اُسے گلے سے لگا لیا۔
’’میں کچھ بھی کرلوں وہ واپس نہیں آسکتی۔۔۔وہ مجھے معاف نہیں کرسکتی۔۔۔وہ پھر سے میرا یقین نہیں کرسکتی۔۔۔وہ پھر سے میری نہیں ہوسکتی۔‘‘ذکیہ بیگم کے کندھے پر سر رکھ کر وہ زور زور سے ہچکیاں لیتے ہوئے سسک رہا تھا۔
’’تم جاؤ اُس کے پاس۔۔۔تمھارے یہ آنسو اُس کی معافی ہے۔۔۔تمھاری یہ ندامت اُس کی معافی ہے ۔۔۔تمھاری یہ تڑپ اُس کی معافی ہی ہے۔۔۔جیون جیسے نیک دل کبھی کسی سے خفا نہیں رہتے۔۔۔کبھی کسی سے بدلہ نہیں لیتے۔۔۔اُس نے دیکھو تمھیں بدل دیا۔۔۔وہ اب بھی تمھاری ہے۔۔۔تمھارے دل میں ہے۔۔۔تم بات کرو۔۔۔وہ ضرور سنے گی۔‘‘ذکیہ بیگم نے اُس کے بال سہلاتے سہلاتے محبت سے کہا تو وہ سر اُٹھا کر اُنھیں متعجب نظروں سے دیکھنے لگا۔
’’کیا نئے پرندے اُڑا دئیے جائیں تو پرانے پرندوں کو مار دینے کا جرم معاف ہوجاتا ہے؟‘‘وہ بمشکل سانس کھینچ کر بولا۔ذکیہ بیگم کو اُس کی لال آنکھوں میں امید کی روشنی نظر آئی تھی۔
’’ہاں میرے بچے! یہ اُنھی بے جان پرندوں کی دعا ہوتی ہے جو زندہ پرندوں کو آزادی دلاتی ہے۔۔۔ہم دونوں اپنی انا کے پنجرے توڑ چکے ہیں۔۔۔جاؤ باقی کے پنجرے بھی توڑ دو جازم!‘‘ذکیہ بیگم نے اُس کے سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جیسے اُس کی امید کو یقین کی ڈوری سے باندھا۔وہ ایک جھٹکے سے اُٹھا اور فوراً حجرے سے نکل گیا۔اُسے اب وہی جانا تھا جہاں جانے میں اُس نے دیر کردی تھی۔
*****
تپتے صحرا میں دو گھونٹ پانی آسانی سے نہیں ملتا۔۔۔سوکھی پتیوں میں زندہ خوشبو کا احساس مشکل سے دریافت ہوتا ہے۔۔۔خالی آنکھیں کونے کھدروں میں چھپے خواب کا پتا جلدی نہیں دیتیں۔۔۔نفرت کے پجاری محبت کا درس سیکھ بھی لیں تو کچھ پل تک یقین نہیں آتا۔۔۔یہ سب ہوتا ہے۔۔۔یہ سب حقیقت ہے۔۔۔مگر اِس کے پیچھے محبت کی جستجو رہتی ہے۔۔۔دعاؤں کا ہاتھ ہوتا ہے۔
اُس کے اندر کی محبت اور انسانیت یکدم نہیں جاگی تھی بلکہ محبت نفرت کی یہ جنگ اُس نے تب سے اپنے اندر لڑنا شروع کردی تھی جب سے وہ پیدا ہوا تھا۔بس اِس جنگ سے آگاہی اُسے صاحبہ ہی دے پائی تھی اور اِس جنگ کو لڑنے کی جستجو جیون۔نفرت اور ظلم کا پرچم بلند رکھنے کے لیے وہ اپنی جھوٹی محبت سے بہت لڑا تھا،مگر ایک سچّی محبت کا پودا بھی تو اپنی جگہ موجود تھا جس کے بیج جیون نے اُس کے دل میں بوئے تھے۔ضد انا غرور کی پتھریلی زمین پر خود سے لڑتے لڑتے جب ہار مقدر ٹھری تو وہ پودا اُسے تب نظر آیا۔پہلی بار اُس پر ادراک ہوا تھا کہ اُس کے اندر بھی کچھ سرسبز ہے۔۔۔اُسے دھلنے میں۔۔۔مہکنے میں۔۔۔محبت تک پہنچنے میں ایک پل نہیں لگا تھا۔۔۔ایک مدت لگی تھی۔
مالی بابا اُسے قبرستان تک چھوڑ کر واپس جا چکے تھے۔وہ اُس کی قبر سے دور کچھ فاصلے رکھ کر کچی زمین پر بیٹھ گیا تھا۔وہ کچھ دیر خشک آنکھوں سے قبر کو ایسے دیکھتا رہا جیسے کوئی دھندلی تصویر غور سے دیکھتا ہے،اور اُس تصویر میں اپنے محبوب کو پاکر آس بھری نظروں کی تشنگی مٹاتا ہے۔اچانک اُسے کچھ یاد آیا تو وہ لرزتے ہوئے قدموں کے ساتھ اُٹھا اور دامن میں سمیٹ کر لائی کلیاں قبر پر گرا نے لگا۔جمع کی گئی ہمت ختم ہونے لگی تو وہ پیچھے لگے درخت کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا ہوگیا۔
’’میں خالی ہاتھ گیا تھا۔۔۔
خالی ہاتھ نہیں آنا چاہتا تھا۔۔۔
تمھیں کلیاں پسند تھیں۔۔۔
کلیاں ہی لایا ہوں۔۔۔
میں تم سے معافی مانگنے نہیں آیا۔۔۔
میں جانتا ہوں میرا گناہ قابلِ معافی نہیں ہے۔۔۔
میں تمھیں یہ بھی بتانے نہیں آیا کہ میرے اندر برسوں سے سوئے انسان کی آنکھ کھل چکی ہے۔۔۔
کیونکہ آنکھ کھل بھی جائے تو کچھ خساروں کی تلافی نہیں ہوتی۔۔۔
میں محبت کو سمجھنے کا دعوی کرنے کے لیے بھی نہیں آیا۔۔۔
کیونکہ محبت مجھ جیسوں کو کم ہی پسند کرتی ہے۔۔۔
کبھی تم میرے پاس آئی تھی۔۔۔مجھ سے بولنا چاہتی تھی۔۔۔میرے ساتھ جینا چاہتی تھی۔۔۔
تب میرا دل نہیں مانا ۔۔۔
آج اُسی دل کی مان کر آیا ہوں۔۔۔
یہ تمھاری محبت کی اعلی ظرفی ہے کہ تم مجھے یہاں تک لے آئی۔۔۔
ورنہ شاید زندگی مہلت نہ دیتی اور انا توفیق۔۔۔
امی جان کہتی ہیں میرے یہ آنسو تمھاری معافی ہے۔۔۔میری یہ ندامت تمھاری معافی ہے۔۔۔میری یہ تڑپ تمھاری معافی ہے۔۔۔اگر وہ سچ کہتی ہیں تو میں تمھارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔۔۔
کتنی عجیب بات ہے کہ ایک خالی کھوکھلے ،درندہ صفت اِنسان کو بھی محبت نے آسرا دے دیا۔۔۔
یہ محبت مجھے تمھاری محبت کی قربانی سے ملی ہے۔۔۔
اور تمھاری دعاؤں کی کرم نوازی سے۔۔۔
میں اِس احسان کے لیے تمھارا شکریہ ادا کرنے آیا ہوں۔۔۔
تم پھر سے نہیں آسکتی۔۔۔اور نہ میں گزرے وقت میں جا سکتا ہوں۔۔۔ورنہ تمھارے قدموں میں گر جاتا۔۔۔
ہاتھ باندھے کھڑا رہتا۔۔۔
آنسوؤں کو رکنے کی اجازت نہ دیتا۔۔۔
مگر کچھ اختیار میں نہیں رہا۔۔۔
میں بس اِتنا کرسکتا ہوں کہ اپنے سر کا یہ غرور ساری عمر کے لیے تمھارے قدموں میں رکھ جاؤں۔۔۔
اور اپنی سرکش نگاہیں اِس زمین کو سونپ دوں۔۔۔
میری سزا یہی ہے اور انعام بھی۔۔۔‘‘
نادم آنکھیں ساری برساتیں بہا چکی تو آسمان پر زور سے بادل گرجے۔اُس نے سر پر بندھے سفید رومال کو اُتارا اور عقیدت کے ساتھ جیون کے پیروں میں رکھ دیا۔ایک اُجلی مسکراہٹ اُس کے چہرے کا احاطہ کرچکی تھی۔کیونکہ اُس کے دل میں جنم لینے والی محبت کی یہ نشانی اب میلی نہیں ہوسکتی تھی۔
*****
انوکھے الگ راستے اِس کے
اپنی منزل بھی جدا رکھتا ہے
عشق کو آسان سمجھنے والو
عشق محشر سی ادا رکھتا ہے۔۔۔
ہاتھ میں بے خودی کا کاسہ ہے
سر پر سایہ ہے دعاؤں کا
کوچہ ِ یار میں دھمال ڈالے یہ
بس زیارت کی صدا رکھتا ہے
عشق کو آسان سمجھنے والو
عشق محشر سی ادا رکھتا ہے۔۔۔
فلسفہ جانے نہ دنیاداری کا
ہوش مند کچھ ،تو کچھ سر پھرا ہے یہ
آپ کو تو بنا لیتا ہے
’میں‘ میں ’تم‘ کی جگہ رکھتا ہے
عشق کو آسان سمجھنے والو
عشق محشر سی ادا رکھتا ہے۔۔۔
قدموں کی آہٹ پر جھوم اُٹھتا ہے
بنا کر ٹھکانہ محبوب کی چوکھٹ پر
بند آنکھوں میں کھلی آنکھیں ہیں
روح کے پار نگاہ رکھتا ہے
عشق کو آسان سمجھنے والو
عشق محشر سی ادا رکھتا ہے
مر کے جیتا ہے،جی کر مرتا ہے
ڈوب کر من میں پھر اُبھرتا ہے
کھو کر پانے کی دعا ہے اِس کو
ختم سے ابتدا رکھتا ہے
عشق کو آسان سمجھنے والو
عشق محشر سی ادا رکھتا ہے۔۔۔
پہن کر گھنگھرو خیال کے ہر دم
رقص میں ساری عمر رہتا ہے
آگ ایسی کہ تسکینِ جاں
درد ایسا جو دوا رکھتا ہے
عشق کو آسان سمجھنے والو
عشق محشر سی ادا رکھتاہے۔۔۔۔
*****
اُس وقت وہ حویلی کے بڑے کمرے میں بیٹھا خود کو چھوٹا محسوس کررہا تھا۔دور سے سنائی دیتی بیڑیوں میں جکڑے پاؤں کی چھم چھم بتا رہی تھی کہ صاحبہ کو اُس کے پاس ہی لایا جارہا ہے۔جوں جوں وہ اُس کے قریب آرہی تھی وہ اُتنا ہی کسی اور کے قریب جارہا تھا۔وہ اُس کے سامنے آئی تو اُس نے ایک آخری نظر اُس کے چہرے پر ڈالی۔وہ بہت کمزور لگ رہی تھی۔۔۔اپنی عمر سے کئی گناہ بڑی ۔۔۔کئی صدیوں کی بیمار،مگر اُس کا چہرہ روشن تھا،اِس قدر روشن کہ جازم خان کی آنکھیں پھر اُسے دیکھنے کی تاب نہ لا سکیں۔
’’کھول دو ساری زنجیریں۔‘‘اُس نے اونچی پشیمان آواز میں اپنے خادم کو جیسے حکم دیا۔صاحبہ نے سر اُٹھا کر جازم خان کو دیکھا تو دیکھتی ہی رہ گئی۔یہ وہ جازم خان نہیں تھا جس نے اُسے اذیتوں کی انتہا تک پہنچایا تھا۔۔۔یہ وہ جازم خان نہیں تھا جس نے اُسے گم نامی کے اندھیروں میں چھپایا تھا۔۔۔یہ وہ جازم خان نہیں تھا جس سے محبت اور عشق کوئی واسطہ نہیں رکھنا چاہتے تھے۔۔۔یہ تو کوئی اور تھا۔۔۔کوئی اور۔۔۔نام وہی تھا۔۔۔مگر انسان وہ نہیں۔صاحبہ کواُس کے چہرے پر وہی روشنی نظر آرہی تھی جس روشنی سے نظر چرا کر وہ زمین کی طرف دیکھ رہا تھا۔صاحبہ کے چہرے پر آسودہ سی مسکراہٹ پھیل گئی کیونکہ عشق کی لو وہاں جل چکی تھی ،جہاں یقین کیا،اُس کا گمان بھی نہ گیا تھا۔
’’اکژ ہم تب جھکتے ہیں جب اگلے انسان کو پوری طرح سے توڑ چکے ہوں۔۔۔
تب کوئی معافی زندگی کے لیے اہم نہیں ہوسکتی،لیکن ایک عنایت موت کی آخری ہچکی کو تسکین ضرور دے سکتی ہے۔۔۔
ایک عنایت صیاد اور پنچھی کے مردہ تعلق میں ایک سانس ضرور پھونک سکتی ہے۔۔۔
جاؤ مالا ۔۔۔اِس حویلی کے پار تمھاری زندگی ہے۔۔۔
تمھاری آزادی ہے ۔۔۔
اِس قید کا حاصل ہے۔۔۔
اِس حویلی کے باہر تمھارا عشق ہے۔۔۔
جاؤ۔۔۔آج کوئی دروازہ۔۔۔کوئی جازم تمھارا راستہ نہیں روکے گا۔۔۔
جاؤ مالا ۔۔۔تم آزاد ہو۔۔۔آزاد ہو۔۔۔آزاد ہو۔۔۔‘‘
اُس نے سر اُٹھا کر بلند آواز میں اعلان کرتے ہوئے صاحبہ کو نا صرف اُس کا نام لوٹایا بلکہ اِس بے نام رشتے سے بھی آزاد کردیا۔
’’کہتے ہیں جب کسی سے سچی محبت ہوجائے تو اُس کا صدقہ اُتار دینا چاہیے۔۔۔آج میں تمھاری محبت کی خاطر دو پنچھیوں کو آزاد کرتا ہوں جیون!‘‘ وہ آنکھیں بند کرتے ہوئے جیسے جیون سے مخاطب ہوا۔مالانے ایک نظر اُسے دیکھا اور جتنا تیز بھاگ سکتی تھی بھاگی۔اُس کا سفید آنچل ہوا میں ایسے اُڑ رہا تھا جیسے کسی پرندے کو نیا آسمان مل گیا ہو۔پوری حویلی نے آزادی کاایساخوبصورت منظر کبھی نہیں دیکھا تھا۔ہر آنکھ اشکبار تھی،ہر دل شکرگزار تھا۔اُس کے چند قدموں سے پہلے حویلی کا بڑا دروازہ کھول دیا گیا تھا۔سامنے سیف اُس کا منتظر تھا ۔کئی پرندے خوش ہوتے ہوئے ہوا میں ایک ساتھ اُڑے تھے۔مالانے گردن اُٹھا کر عشق کے آسمان کو مسکرا کر چھو لیا اور دوسری طرف جازم نے گردن جھکا کر سکون سے عشق کی قبر پر سر رکھ دیا تھا۔
ختم شد
*****

آرٹسٹ ردا فاطمہ

جواب چھوڑیں