یہ نہیں اصلِ گلستاں، حاصلِ گلستاں ہے اور جوشِ بہار…

یہ نہیں اصلِ گلستاں، حاصلِ گلستاں ہے اور
جوشِ بہار پر نہ جا، مرحلۂ خزا ں ہے اور

شاخ پہ کھِل کے ٹوٹنا، پیشِ نسیم لوٹنا
قسمتِ یاسمن ہے اور، طاقتِ باغباں ہے اور

حجلۂ یاسمن کہاں ، خارو خسِ چمن کہاں
برق و شرر کو لاگ ہے، جس سے وہ آشیاں ہے اور

دیر و حرم میں سر جھُکے، سر کے لیے یہ ننگ ہے
جھُکتا ہے اپنا سر جہاں، وہ دروآستاں ہے اور

قطعِ تعلقات بھی، قیدِ تعلقات ہے
توڑ کے رشتۂ وفا، مجھ سے وہ بدگماں ہے اور

دل سے چھپا چھپا کے یوں، آپ کو پوجتے ہیں ہم
جیسے بجائے دل کوئی عشق میں رازداں ہے اور

علمِ نِکاتِ زندگی، ضبطِ کمالِ آگہی
فطرتِ راز جُو ہے اور، منصبِ رازداں ہے اور

راہ جدا، سفر جدا، رہزن و راہبر جدا
میرے جنونِ شوق کی منزلِ بے نشاں ہے اور

ایک سفیرِ احتساب، ایک نفیرِ انقلاب
نعرۂ شیب ہے جُدا، نغمۂ نوجواں ہے اور

کشمکش خیال میں قطع سفر ہی ہو نہ جائے؟
کوششِ راہبر نہ دیکھ، جذبۂ کارواں ہے اور

ایک نوائے سوز و رَم ، ایک میں سوزو نم، نہ رَم
نغمۂ قدسیاں ہے اور نالۂ خاکیاں ہے اور

لذتِ درد کے عوض، دولتِ دو جہاں نہ لوں
دل کا سکون اور ہے، دولتِ دو جہاں ہے اور

ساغرِؔ مست اُٹھ کے خود، قبلِ سحر اُنڈیل لے
تیرے سُبو میں کچھ ابھی بادۂ ارغواں ہے اور!​

(ساغرؔ نظامی)

جواب چھوڑیں