ایشیا کپ میں پاکستان کرکٹ ٹیم کی شرمناک شکست کا ذمّہ دار کون؟

ایشیا کپ کرکٹ ٹورنامنٹ میں پاکستانی ٹیم بھارت اور بنگلہ دیش سے بری شکستیں کھانے کے بعد فائنل کی دوڑ سے باہر ہو گئی جس سے پاکستانی کرکٹ شائقین میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔کپتان شاہد خان آفریدی کے بڑے بڑے پتلے نذرِ آتش کیے جا رہے ہیں اور انھیں کپتانی سے ہٹائے جانے کی ڈیمانڈ بھی کی جا رہی ہے۔تاہم اب تک پی سی بی حکام ، سلیکشن کمیٹی ، کوچ یا کپتان میں سے کسی نے بھی شکست کی ذمّہ داری قبول نہیں کی۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اتنی بری کارکردگی کا ذمّہ دار کون ہے؟کیا پاکستان ٹیم کی صلاحیت ہی اتنی رہ گئی ہے کہ وہ متحدہ عرب امارات جیسی کمزور ٹیم سے بھی بہ مشکل جیت سکے یا پاکستان میں کرکٹ کا ٹیلنٹ ہی ختم ہو گیا ہے؟اگر ایسا ہے تو کیا وجہ ہے کہ ٹیسٹ کرکٹ جو کرکٹ کی مشکل ترین صنف ہے اس میں پاکستانی ٹیم تسلسل کے ساتھ شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کر رہی ہے۔ سابق کپتان اور چیف سلیکٹر عامر سہیل کی رائے میں فرق مصباح الحق اور یونس خان کی وجہ سے ہے اور اگر یہ دونوں کھلاڑی ٹیسٹ ٹیم سے بھی نکل گئے تو ٹیسٹ ٹیم کی حالت بھی ون ڈے اور ٹی ٹوینٹی جیسی ہوجائے گی۔میری نظر میں تو ایشیا کپ میں ٹیم کی خراب کارکردگی کی ذمّہ داری چئیرمین پی سی بی سے لے کر ٹیم کے تمام کھلاڑیوں پر عائد ہوتی ہے۔ پی سی بی نے اُس وقت جب کہ شاہد آفریدی کا انٹرنیشنل کیرئیر اختتام کے قریب تھا اور ان کی ذاتی کارکردگی بھی ناقص تھی انھیں کپتان بنا دیا ۔ اسی طرح مسلسل خراب کارکردگی کے باوجود وقار یونس کو کوچ برقرار رکھا۔ سلیکشن کمیٹی نے میرٹ پر ٹیم منتخب کرنے کی بجائے با اثر لوگوں اور میڈیا کا دبائو قبول کرتے ہوئے ٹیم کا انتخاب کیا۔ انور علی جو کہ کلب لیول کے بائولر ہیں انھیں بار بار موقع دیا ۔ خرم منظور جنھیں ٹی ٹوینٹی کرکٹ کے لیے موزوں ہی نہیں سمجھا جاتا اور جو پاکستان سپر لیگ کی بھی کسی ٹیم میں منتخب ہونے میں ناکام رہے انھیں ایشیا کپ اور ورلڈ ٹی ٹوینٹی جیسے اہم ٹورنامنٹس کے لیے ٹیم کا حصہ بنا دیا گیا۔کوچ وقار یونس کی جانب سے کوئی بھی خاص پلاننگ دیکھنے کو نہیں ملی۔میچز کے لیے ٹیم کمبی نیشن بھی درست نہ تھا۔ گزشتہ برس سے ٹیم کی فتوحات میں اہم رول ادا کرنے والے سٹرائیک فاسٹ بائولر وہاب ریاض کو محض ایک میچ کی خراب کارکردگی پر ٹیم سے باہر بٹھا دیا گیا۔ اسی طرح گزشتہ کئی میچز میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے آل رائونڈر عماد وسیم کو بھی نہیں کھلایا گیا۔ کپتان شاہد آفریدی کے میچ کے دوران میں اہم مواقع پر کیے گئے فیصلے سمجھ سے بالاتر تھے۔ یوں لگتا ہے کہ ۲۰ سال کرکٹ کھیلنے کے باوجود بھی انھیں اندازہ نہیں کہ کس موقع پر کس بائولر کو استعمال کرنا چاہیے۔ان کی اپنی کارکردگی بھی غیر متاثر کن رہی۔ٹیم کے کھلاڑی بھی اس شکست کے برابر ذمہ دار ہیں ۔خاص کر نوجوان کھلاڑی بار بار مواقع ملنے کے باوجود اپنے انتخاب کو درست ثابت نہیں کر سکے۔ اگر ورلڈ ٹی ٹوینٹی ٹورنامنٹ میں ٹیم کی جیت کا کوئی امکان پیدا کرنا ہے تو مصباح الحق سے درخواست کی جائے کہ وہ انٹرنیشنل ٹی ٹوینٹی کرکٹ سے ریٹائرمنٹ واپس لے کر اس ایونٹ میں ٹیم کی قیادت سنبھالیں۔ ان کی ٹیم میں موجودگی سے کمزور بیٹنگ لائن اپ کو بھی سہارا مل جائے۔مصباح الحق حال ہی میں پاکستان سپر لیگ میں اپنی کپتانی میں اسلام آباد یونائیٹڈ کو چیمپئین بنوا چکے ہیں۔اور ورلڈ ٹی ٹوینٹی ٹورنامنٹ کے بعد کسی نوجوان کھلاڑی کو طویل مدت کے لیے کپتان مقرر کیا جائے۔

[box type=”shadow” align=”aligncenter” class=”” width=””]ورلڈ ٹی ٹوینٹی کے لیے پاکستانی اسکواڈ میں بھی چند تبدیلیاں نا گزیر ہیں۔ عمران فرحت، آصف علی،صہیب مقصود اور بلاول بھٹی کو شرجیل خان، خرم منظور ،محمد حفیظ اور انور علی کی جگہ موقع دیا جانا چاہیے۔[/box]

بے ساختہ : ڈاکٹر کاشف رفیق

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.