وہ جو کھو گئے : ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

دل کی بات، ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

وہ جو کھو گئے

انتظار حسین بھی اس جہانِ فانی سے جاودانی کی جانب کوچ کر گئے۔ان کی ذات کے کئی حوالے ہیں۔ فنِ لطیفہ کی ہر صنف پر پوری قدرت رکھتے تھے۔ وہ صحافی، ادیب، کالم نگار اور تنقید نگار تھے۔ سیاسی کالم نگاروں کے معرکہ آراء  ماحول میں ادبیت سے بھرپور انتظار حسین کا کالم اپنی نوعیت کا واحد کالم تھا جس کو ہر کالم نگار پڑھتا تھا۔ تنقید اور تحسین کے لئے ان کے ہاں جو طرز رائج تھی وہ اشرافیہ کے دور کی یادگار رہے گی۔بڑے ہی نستعلیق انسان تھے۔ ان کے افکار کی روشنی آج بھی ہمیں جہالت کے اندھیروں میں منزل کا سراغ فراہم کرتی ہے۔ انتظار حسین ادبی حوالے سے پوری دنیا میں پہچانے جاتے تھے۔ انھیں کتنے ہی ایوارڈ اعترافِ ادب کے طور پر ملے۔ پاکستان کی حکومت نے انھیں پرائڈ آف پرفارمنس اور بعد میں ستارہ امتیاز سے نوازا۔ فرانس کی حکومت نے بھی آپ کو سراہااور آفیسر آف دی آرٹس اینڈ  لیٹرز ایوارڈ سے نوازا۔ اکیس دسمبر انیس سو تئیس کو بھارت کے صوبے اتر پردیش میں دبائی (میرٹھ) کے مقام پہ پیدا ہونے والے اس جلیل القدر فرزند کو دنیا نے آسمانِ صحافت سے لے کر آسمانِ ادب پر آفتاب و ماہتاب کی طرح دھمکتے دیکھا۔ انتظار حسین کے پانچ ناول، سات شارٹ سٹوریز کے مجموعے، تین تنقید کی کتابیں منظرِ عام پر آئیں۔آپ کے افسانوں کو پاکستان میں ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں جہاں جہاں اردو بولی اور پڑھی جاتی ہے، پزیرائی حاصل ہوئی۔ ان کی تخلیقات کے انگریزی، فرانسیسی، ہندی، بنگلہ اور کئی زبانوں میں تراجم ہوئے۔ انھیں خود کئی زبانوں پہ عبور حاصل تھا۔ انھیں نے میرٹھ کالج سے بی اے کیا۔ پھر اردو اور انگریزی میں ماسٹرز کیا۔ ان کے والد ان کو مذہبی سکالر بنانا چاہتے تھے مگر انہوں نے ادب کے میدان کا انتخاب کیا۔ادبی زندگی کی ابتدا شاعری سے کی۔ نون میم راشد کی ماورا سے گہرا اثر قبول کیا۔ لیکن جلد افسانہ نگاری کی طرف آ گئے۔تعلیم مکمل کرنے کے بعد صحافت کے شعبے سے منسلک ہو گئے۔ریڈیو پاکستان پر بھی کالم نگاری کرتے رہے۔ روزنامہ امروز، مشرق، ڈان اور ایکسپریس سے وابستہ رہے۔ ان کا پہلا افسانوی مجموعہ گلی کوچے 1953 میں شائع ہوا۔ ان کا شمار علامتی کہانیوں کے بانیوں میں ہوتا ہے۔اپنی بائیو گرافی”چراغوں کا دھواں” میں انھوں نے اپنی زندگی کے پچاس سال کی یادیں بیان کی ہیں۔ تمام واقعات بڑے افسانوی اور اپنے خاص انداز میں بیان کئے ہیں۔کیسے انھوں نے انڈیا سے پاکستان کا سفر کیا، کافی ہاؤس اور ٹی ہاؤس کی یادیں، مارشل لاء کے زمانے کی پابندیاں تحریر کی ہیں۔ جنرل ضیا الحق کے زمانے کے بعد” نیا گھر” کے نام سے دس سالوں کی روداد لکھی۔انھوں نے اپنے دھیمے لہجے کی قوت کو بڑے بڑے ادیبوں اور شاعروں سے تسلیم کروایا۔صحافت کے میدان میں آپ نے "لاہور نامہ” کے نام سےجب اپنےکالم کا آغاز مشرق سے کیا تو ادارتی صفحے پر اداریئے سے پہلے انتظار حسین کا کالم پڑھا جاتا تھا۔”لاہور نامہ” کو بے پناہ شہرت حاصل ہوئی۔ انتظار حسین اور روزنامہ مشرق لازم و ملزوم تھے۔ آپ بلا کے افسانہ نگارتھے۔انھوں نے اپنی تحریروں سے جو شہرت حاصل کی ان کا شمار دنیائے ادب میں سرِ فہرست رہے گا۔ 1987 میں انھوں نے اپنا ناول "بستی” لکھا اور ایک کردار” ذاکر”سے پاکستان کی تاریخ بیان کی۔اس ناول کو ملکی اور بین الاقوامی ایوارڈوں سے نوازا گیا۔90 سال کی عمر میں بھی آپ سرگرم تھے۔ اور بے شمار مذاکروں اور تقریبات میں صدارتی کرسی پر جلوہ افروز ہوتے۔ انتظار حسین کی جو تحریریں نصف صدی پہلے شائع ہوئیں وہ آج بھی یوں محسوس ہوتا ہے کہ عصرِ حاضر کے حالات و واقعات سے بالکل ہم آہنگ ہیں۔ڈرامہ نگاری میں بھی انتظار حسین نے نئے رجحانات کو جنم دیا اور ڈرامے میں موجود روایات سے بغاوت کی۔اس وقت لاہور شہر میں ہر روز ادبی فورموں پر بہت کام ہو رہا ہے۔ مگر اب اس میلے میں انتظار حسین دکھائی نہیں دے گا۔جس رفتار سے اربابِ نظر نظروں سے اوجھل ہو رہے ہیں، اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی اس بھیڑ میں عظیم انسان کم ہو رہے ہیں۔ انتظار حسین، فاطمہ ثریا بجیا، ندا فاضلی، محی الدین نواب جیسے گہر زمین کے سینے میں چھپ گئے۔ ہم نے ہمیشہ انسانوں کو زیرِ لحد کھو جانے کے بعد یاد کیا۔انتظار حسین جیسے عظیم انسان کا انتظار اگر ہم صبحِ قیامت تک بھی کرتے رہیں پھر بھی اس فانی دنیا میں وہ واپس نہیں آئیں گے۔ہم سب کو بھی اسی طرف جانا ہے جہاں ہمارے ادب کے میرِ کارواں چلے گئے ہیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو سب سے زیادہ چلتا ہے۔ پوری مخلوق اپنے خالق کی طرف بالآخر لوٹ رہی ہے۔ ان کے انتقال سے اردو ادب کا ایک دور ختم ہو گیا۔ پاکستان اور ہندوستان کے صفِ اول کے ادیبوں میں ان کا شمار ہمیشہ ہوتا رہے گا۔
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہمیں سو گئے داستاں کہتے کہتے
 وہ نمونیہ کے باعث نیشنل ہسپتال لاہور میں زیرِ علاج رہنے کے بعد 2 فروری 2016 کو انتقال کر گئے۔ان کی شریکِ حیات عالیہ بیگم 2007 میں پہلے ہی انتقال کر چکی تھیں۔ ان کے ہاں اولاد نہ تھی مگر وہ کتابوں کو اپنی اولاد سمجھتے تھے۔کسی نے ان کے جنازے پہ کہا تھا کہ یہ صدی کا جنازہ جا رہا ہے۔ حق ان کی مغفرت کرے۔

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.