آگہی : فرح بھٹو

اس نے پلکوں پر مسکارے کا آخری کوٹ لگایا اور آئینے سے ذرا دور ہٹ کر خود کو ناقدانہ نگاہوں سے دیکھا کمرے میں قدم رکھتی ارمین ٹھٹک کر وہیں رک گئی شرمین کا لشکارے مارتا حسن آئینے سے منعکس ہوکر اس کی آنکھیں خیرہ کرنے لگا شرمین ایڑیوں کے بل گھومی ‘میں کیسی لگ رہی ہوں ‘ بہت پیاری , اگر کھلے بالوں کو پن اپ کرکے اسکارف لپیٹ لو تو قسم سے عربی حسن کو مات دے دو گی, ارمین کی بات پر اس نے برا سا منہ بنایا گھر میں ایک تم عجوبہ کافی ہو صاف طور پر اس کے مکمل ڈھکے وجود پر چوٹ کی گئی تھی شرمین عورت کو صرف اپنے ‘مرد’ کے لئے سنگھار کا حکم ہے اچھا بڑی بی بس کردو ‘شرمین نیک عورتوں کے لئے نیک مرد اور بری عورتوں کے لئے برے مرد ہیں’ ارمین نے ہمت نہیں ہاری جتنا ہم برائی کی طرف متوجہ ہونگے اتنا اچھائی سے محروم شریک حیات پائیں گے ” تم نے ارحم کو دیکھا ہے میرا مستقبل قریب کا شریک حیات کیا کہتی ہو اس کے بارے میں ” شرمین کا لہجہ چیلنج کرتا ہوا تھا ارمین ہمیشہ کی طرح چپ رہ گئی ان کے خاندان کا سب سے وجہہ سنجیدہ مزاج اور ذہین لڑکا ارحم جو ہمیشہ لئے دیئے رہتا شرمین کا اس کے ساتھ نکاح ہوچکا تھا رخصتی شرمین کے ماسٹرز مکمل ہونے کے بعد متوقع تھی ارمین کو بعض دفعہ حیرت ہوتی کہ نکاح شدہ ہوکر بھی وہ ہر آنکھ سے اپنے حسن کا خراج لینے کے لئے کیوں تیار رہتی ہے ارحم کی جاب اسلام آباد میں تھی اور وہ کراچی چکر لگاتا رہتا تھا ہزار گز پر بنے اس خوبصورت بنگلے کے تین پورشنز میں تین بھائی اور ان کے اہل و عیال رہائش پذیر تھے بڑے بھائی نعیم جو ارحم کے والد تھے بیرون ملک رہتے تھے یہاں ارحم کی والدہ ایک بیٹی اور بیٹے کے ساتھ رہائش پذیر تھیں منجھلے بھائی فہیم کی دو بیٹیاں شرمین اور ارمین تھیں اور چھوٹے بھائی عظیم کے دو جڑواں بیٹے تھے ایک ماحول میں پل کر جوان ہوئی دونوں بہنیں فطرتا ایک دوسرے سے بہت مختلف تھیں ارمین نرم طبعیت حساس اور مذہبی رجحان رکھنے والی لڑکی جبکہ شرمین فیشن کی دلدادہ حدود و قیود سے باغی لڑکی تھی ,,بقول شرمین وہ زندگی کے ہر لمحے سے خوشی کشید کررہی ہے پریکٹیکل لائف میں قدم رکھنے سے پہلے انجوائے کرنا ضروری ہے یہ اس کا نقطہ نظر تھا جس سے ارمین ہرگز متفق نہیں تھی وہ ارحم کو بھی ذیادہ لفٹ نہیں کرواتی تھی کہ کہیں اس کی ذاتیات میں دخل اندازی نہ شروع کردے ارحم بھی ایک حد میں رہتا تھا حالانکہ دونوں کی رضامندی سے یہ رشتہ طے پایا تھا شرمین کالج کی طرف سے شمالی علاقہ جات کی سیر کو جارہی تھی اور بے حد پرجوش بھی تھی کپڑوں کا انتخاب جیولری میک اپ اور ڈھیر سارا الا بلا ارمین خاموشی سے تیاریاں دیکھ رہی تھی ‘ اوکے میری بے وقوف بہن پندرہ دنوں تک بائے بائے ,, میری طرح زندگی کو انجوائے کرنا سیکھو جلنا کڑھنا چھوڑ دو’ جاتے ہوئے ارمین کو پیار کرکے نصیحت کی تو وہ پھیکے سے ہنس دی پندرہ روزہ ٹور شرمین کی زندگی کا یادگار ٹرپ تھا اس نے خوب زندگی انجوائے کی شمالی علاقاجات کی خوبصورت فضاؤں میں تتلی بن کر اڑی پھر یہ لمحے ہاتھ کہاں آنے تھے آخری دن اسلام آباد کے ایک ہوٹل میں لنچ کرکے ان کے گروپ کو ٹرین میں واپس گھروں کو لوٹنا تھا شرمین خوب مزے سے لنچ کرتے ہلہ گلہ کر رہی تھی کہ اچانک اس کی نظر ہوٹل میں داخل ہوتے ارحم اور اس کے ساتھ بے حد ماڈرن لباس پہنے چہلیں کرتی لڑکی پر پڑی شرمین کے ہا تھ سے چمچ چھوٹ کر پلیٹ میں گر گیا جبکہ ارحم سب سے بے نیاز اس لڑکی میں مگن کچھ دور جاکر بیٹھ گیا وہ اس لڑکی سے شوہر جیسا برتاؤ کررہا تھا جائز بیوی کو چھوڑ کر,,, شرمین نے ایک صدمے کی کیفیت میں یہ منظر دیکھا اور اس کے کانوں میں ارمین کے الفاظ گونجنے لگے "نیک عورتوں کے لئے نیک مرد اور بری عورتوں کے لئے برے مرد” اور وہ سر تھام کر رو پڑی.

فرح بھٹو

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.