طنز کی کاٹ اور مزاح کی چاٹ : ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

سنجیدہ ادبی تخلیق کاروں کی موجودگی میں حسین احمد شیرازی کا طنز و مزاح پر مبنی تیسرا ایڈیشن "بابو نگر”کا منظرِ عام پر آ جاناادبی دنیا میں خوشگوار اضافہ ہے۔ میَں محسوس کرتی ہوں کہ لوگوں کو مسکرانے یا قہقہہ لگانے کے لئے جو چیز تحریک دے سکتی ہے وہ خوبصورت مزاح اور طنز کا چابک ہی ہو سکتا ہے۔ بابو نگر کی مقبولیت در اصل فلسفیانہ خشک تحریروں کی فراوانی ہی کی وجہ سے ہے۔بابو نگر کے خالق حسین احمد شیرازی کا تصنیف و تالیف کا سفرربعہ صدی سے زائد عرصے پر محیط ہے۔ کسٹم، ایکسائز اور سیلز ٹیکس سے متعلق گورنمنٹ سے ایوارڈ یافتہ مصنف کے دل میں کیا خیال آیا کہ وہ اچانک طنز و مزاح کی وادی میں مسکراہٹوں کے پھولوں کی مالا تیار کرنے لگ گئے۔1983 میں اسلام آباد میں آل پاکستان طنز ومزاح کانفرنس میں جب شیرازی نے اپنا مضمون "لوٹ کے بدھو گھر سے آئے” پڑھا تو چائے کے وقفے میں کانفرنس کے مہمانِ خصوصی جنرل شفیق الرحمان ان کے پاس آئے اور ان کا ہاتھ پکڑ کر نیرنگِ خیال کے مدیر سلطان رشک کے پاس لے گئے اور ان سے کہا کہ رشک صاحب آئندہ اپنے رسالے میں شائع کرنے کے لئے مضمون کے تقاضے کا فون مجھے کرنے کی بجائے شیرازی صاحب کو کیا کریں۔ جنرل شفیق الرحمان کے اس بلیغ اشارے پر سلطان رشک نے تعمیل کی۔ نیرنگِ خیال کے قاری دنیا میں جہاں جہاں پائے جاتے ہیں، شیرازی نے اپنی مسکراہٹوں کے پھول طنز ومزاح کی تحریروں کے ذریعے ان پر نچھاور کئے۔
مزاح ہنسانے والی بات کو کہتے ہیں۔ جہاں تک طنز کا تعلق ہے وہ معاشرے کی ناہمواریوں اور اپنے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کے خلاف صدائے احتجاج ہے۔طنز چونکہ تلخ ہوتا ہے اس لئے اس میں مٹھاس پیدا کرنے کے لئے طنز نگار مزاح کا سہارا لیتے ہیں تا کہ طنز قابلِ مطالعہ بن جائے اور شیرازی نے یہ دونوں کام بخوبی سر انجام دیئے ہیںحسین احمد شیرازی کی طنز بھی مزاح کے بہت قریب ہے۔دونوں طرف لطف اندوز ہونے کی خوبیاں موجود ہیں۔ دنیائے ظرافت کے بابائے ظرافت سید ضمیر جعفری جیسے مزاح نگار نے اس کتاب کی موجودگی کو مسکراہٹوں کی فراوانی قرار دیا ہےاور کہا ہے کہ جہاں یہ کتاب ہو گی وہاں مسکراہٹوں کا قحط نہیں ہو سکتا۔ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے کلمات بھی ایک سند کی حیثیت رکھتے ہیں۔وہ کہتے ہیں کہ شیرازی صاحب کی کتاب میں یہ بہت بڑی خوبی ہے کہ قاری کے ہونٹوں پر تبسم اس وقت تک کھلا رہتا ہے جب تک مضمون ختم نہیں ہو جاتا۔ عطاالحق قاسمی ان کے بارے میں رقم طراز ہیں جہاں تک ان کی تصنیف بابو نگر کا تعلق ہے تو یہ ایک لحاظ سے شہاب نامہ کی ایک کڑی ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ بیورو کریٹ حسین احمد شیرازی نے اپنے دورِ ملازمت کے واقعات تحریر کرتے ہوئے اگر کہیں کسی کے بارے میں کوئی سخن دسترانہ بات کی تو ایسے کہ
انیس ٹھیس نہ لگ جائے آبگینوں کو
کی پیروی کرتے نظر آئے۔جسٹس میاں محبوب احمد کے الفاظ میں جناب شیرازی صاحب کی کتاب پڑھتے ہوئے قاری کو روایت اور جدت، تفنن اور تفکر دونوں سے بیک وقت واسطہ پڑتا ہے۔حسین احمد شیرازی نے معاشرے کے خدو خال کو جس آنکھ سے دیکھا ہے اس میں منافقت، جھوٹ کے تپتے ہوئے صحرا میں جھلسا دینے والی تپش اور تمازت میں بابو نگر اعتدال اور خوش گوار ماحول تخلیق کرتی ہے۔بابو نگر کے مصنف کی سب سے بڑی خوبی یہ ہے کہ جب وہ معاشرے میں ناہمواریوں کی ایک مسلسل چلتی ہوئی لکیر دیکھتے ہیں تو ان کا طنز تیر و نشتر کا کام دیتا ہے۔یہی وہ اصلاحی کام ہے جہاں بڑے بڑے فلسفی اس کو حل کرنے میں عاجز آ جاتے ہیں وہاں شیرازی اس کو حل کرتا دکھائی دیتے ہیں۔یہ بڑی خوبصورتی سے وہی نتائج، امن کا راستے میں نکال لیتا ہے جسے ڈھونڈنے میںباقی لکھاری لفظی تلخی سے قارئین کے دل کو ٹھیس پہنچا جاتے ہیں۔ بابو نگر کی حیثیت یا افادیت جو آج ہے، میَں بقول ضمیر جعفری کے ۡوثوق سے کہہ سکتی ہوں کہ آنے والے وقتوں میں یہ کتاب دانائی کا مینار سمھجی جائے گی۔ بابو نگر کے مصنف کا حوصلہ قابلِ تحسین ہے کہ اس نے بیش بہا آنسوؤں کا نذرانہ پیش کیا تب جا کر یہ کتاب منصہ شہود پر جلوہ گر ہوئی۔
شفق لہو میں نہائی، سحر اداس ہوئی
کلی نے جان گنوا دی شگفتگی کے لئے
شیرازی نے الفاظ کی جادوگری یا افکار کی شیرازہ بندی سے سامانِ انبساط باہم نہیں پہنچایا بلکہ ایک فوٹو گرافر کی طرح معاشرے کے اُبلتے ہوئے مسائل کی تصویر کشی کی ہے اور اپنی بے ضرر تحریر سے لوگوں کے دلوں میں شادمانی کے چراغ روشن کئے ہیں۔یہی وہ چراغ ہیں جن کی لوَ انسان کے اندر کے اندھیروں کوچمک عطا کرتی ہے۔ شیرازی کی طنز میں کاٹ اور مزاح میں چاٹ ہے۔دونوں کا حسین امتزاج روح کو متبسم کر دیتا ہے۔ خبطی بابو کے کردار کو اس طرح طنز و مزاح کا جامہ پہنا کر معاشرے کے خدو خال کوجس درست انداز میں پیش کیا اس میں شیرازی کا عمیق مشاہدہ محسوس ہوتا ہے۔شخصیات کے بتوں کی پرستش کا احوال آپ نے بڑی خوبی سے بیان کیا ہے۔ اگر وہ ان واقعات کو مزاح کی چاشنی نہ دیتے تو ان کا بیان کرنا بیان سے باہر تھا۔ایک مشہور واقعہ جس خوبصورتی سے حسین احمدشیرازی نے رقم کیا ہے اس خوبصورتی سے آپ بھی حظ اٹھایئے اور ان کے طنز میں کاٹ اور مزاح میں چاٹ کو محسوس کیجئے۔ ” مشہور واقعہ ہے کہ ایک دفتر میں آگ لگ گئی ۔ شعلے آسمان سے باتیں کر رہے تھے، چند لوگ ایک درخت کے نیچے آرام سے بیٹھے تھے۔ ان سے کسی گزرنے والے شخص نے پوچھا ، بھائی صاحب آپ اس دفتر میں کام کرتے ہیں؟ جواب ملا ، جی ہاں! پھر مشورہ دیا گیا کہ اس آگ کو بجھانے کے لئے کچھ کریں تو وہ بولے وہی تو کر رہے ہیں۔ یہاں بارش ہونے کی دعا ہو رہی ہے۔
راستہ ہے کہ کٹتا جاتا ہے
فاصلہ ہے کہ کم نہیں ہوتا

تبصرے بند ہیں، لیکن فورم کے قوائد اور لحاظ کھلے ہیں.