ممتاز قادری سے جنید جمشید تک ……

یہ کہانی اس شخص کی ہے جسے دنیا ۔۔۔ خیر جانے دیجئیے دنیا کی باتوں کو کس نے سمجھا؟ دنیا کی نظریں کہاں دوراندیش ہیں؟ کہاں دنیا والے با حیا کو با حیا ہی مرنے دیتے ہیں .یہ دنیا تو کسی کو جینے بھی نہیں دیتی مرنے بھی نہیں دیتی اور گزرنے کو راستہ بھی نہیں دیتی لیکن اس دنیا میں شامل کون ہے؟ میں آپ اور ہم سب ……چلیں میں آپکو کچھ سال پیچھے لے جاتی ہوں یہ قصہ ہے ایک ایسے لڑکے کا جو میرے ماموں کے ساتھ کرکٹ کھیلتا تھا دو چار گلیاں چھوڑ کر رہتا تھا بڑ ادبو سا تھا کبھی اپنے حق کے لئیے بھی آواز نہ اٹھاتا اسکے بارے میں سب کی حتمی رائے تھی کے یہ چیونٹی بھی نہیں مار سکتا اب آتے ہیں.
آج کی دنیا میں واپس دنیا اسے ممتاز قادری کے نام سے جانتی ہے وہ شخص جسکی معصومیت کی گواہی اسکے دوست احباب دیتے تھے … پھر اسے ایک مولوی ٹکرایا مولوی بھی وہ جو راولپنڈی کی مسجدوں میں مشہور ہے اسکا ہم نام اقدار کی مسند پر نہ ہوتے ہوئے بھی گردن میں سریا ڈالے گھومتا ہے اس مولوی کی دعا میں شامل ہونا سب کے سب کار ثواب سمجھتے ہیں اسکے علاقے کی کوئی بھی مزہبی تقریف اسکے بغیر ادھوری سمجھی جاتی ہے اس مولوی کے ٹکرانے کی دیر تھی سلمان تاثیر کے حوالے سے ممتاز قادری کو یقین ہو گیا کے یہ شخص گستاخ رسول صلی اللّہ علیہ والہ وسلم ہے اور اسے جہنم واصل کرنا ہر صورت ضورری ہے اب اگر یہ مان لیجئیے کہ ممتاز قادری نے محض مولوی صاحب کے کہنے پر قتل کیا تو یہ انکے جذبہ ایمانی کے عین خلاف ہے فیض الحسن چوہان جو کے ممتاز قادری کے دیرینہ دوستوں میں سے ایک ہے اور آخری ملاقات سے ایک مرتبہ پہلے ملنے گئے . ان سے ممتاز قادری نے فرمائش کی "صاحب نعت سنائیں ” . وہ ڈگمگا گئے .بڑا آئیں بائیں شائیں کرنے کی کوشش کی لیکن قادری صاحب نے وضو ہونے نہ ہونے کے بہانے کو ٹال کر کہا اللہ نیت دیکھتا ہے ایسا کہتے ہوئے انہوں نے اپنا سینہ ٹھونکا فیض الحسن صاحب نے نعت شروع کی بیچ راستے میں ا ٹک گئے ممتاز قادری نے کہا اب میں سناتا ہوں انہوں نے نعت پڑھنا شروع کی تو جیل کے سبھی قیدی سلاخوں سے چمٹ گئے .سماں بندھ گیا .آخری دن سفید رنگ کی گاڑی قادری صاحب کےگھر کے باہر آ کر رکی اور کہا گیا کہ قادری صاحب کی طبعیت خراب ہے ساتھ چلیں گھر والوں کا جگر گوشہ اتنے عرصے سے جیل میں قید تھا اتنے بیبا بچے تو وہ بھی نہ تھے کہ بنا استفسار اٹھ کر چل پڑتے پہلے پوچھا لیکن چھٹی حس کچھ غلط ہو جانے کی خبر دے رہی تھی.
آخری ملاقات میں قادری صاحب نے اپنے بیٹے سے نعت بھی سنی اور اپنے سسرالیوں کو بطور خاص بلوا کر ملاقات بھی کی ممتاز قادری کو اپنے والد سے شکوہ تھا کے رحم کی اپیل کی ہی کیوں ؟ وہ اب صرف شہادت چاہتے تھے .ان کے ورثہ میں ان کے دوست کے لئے لکھی گئی شاعری ہے اور ان کے والد کے لئے ایک چیز ہے …اب وہ چہز کیا ہے یا تو مرحوم جانتے ہیں یا ان کے والد .لوگ اب انکے گھر آتے ہیں اور ضعیف الاعتقادی یہ کے انکے والد کے ہاتھ اور گھٹنوں کو چھوتے ہیں چومتے ہیں .

ہم تھوڑا زیادہ ہی اندر چلے گئے .ذرا باہر نکل کر دیکھیں .ایک شخص ہے اسے مسلمان ہونے پر فخر ہے اور میرا خیال ہے بحثیت مسلمان یہ فخر جائز بھی ہے .اسلام ایک ایسا مذہب ہے جو مناظرے میں بھی جیت جائے مکالمے میں بھی, حیات میں بھی اور ضابطہ حیات میں بھی. ایسے شخص کو معلوم ہوتا ہے کہ گستاخ نبی صلی اللّہ علیہ والہ وسلم ہے اور دندناتا اور اکڑتا پھر رہا ہے وہ یہاں وہاں ہاتھ پاؤں مارتا ہے اور کسی کو راستہ دکھانے کو کہتا ہے اور راستہ دکھانے والا اسے کہتا ہے کہ اسکو مار دینا بہتر ہے .وہ بھلا کیوں خضر کی نہ سنتا.وہ اختیار میں ہوتے ہوئے کیسے صرفِ نظر کرتا.
جس معاشرے مین قانون کی کوئی نہ سنتا ہو اس معاشرے میں من مانی کرنے کا حق نفس دے ہی دیتا ہے میرا دل میری زبان اور میرا دماغ اس معاملے میں اتنے ہی مخمے میں ہیں جتنا کوئی بھی محقق ہو سکتا ہے جتنا کوئی بھی غیر جانبدار شخص ہوسکتا ہے .میں نے اس واقعے کو ہر نظر سے دیکھا اور ہر زاویے سے پرکھا ہے.میں مسلمان ہو اور کفر کے فتوے سے ڈرتی ہوں مجھے اس معاشرے میں رہنا ہے اور کچھ منطقی جواز تلا شنے ہیں جو کہ سیکولر برادری کے لئے سکون بن سکیں . اب آتے ہیں سلمان تاثیر کی طرف جس نے نواز شریف کے پرانے دور حکومت میں بد ترین تشدد برداشت کیا صرف ایک نیکر میں کھڑا کر کے اسے مارا گیا رانا ثنا اللہ اور سلمان تاثیر میں اینٹ کتے کا بیرتھا وہ ٹی وی جیل جو مشرف کی سر پرستی میں سلمان تاثیر نے لانچ کیا اس پر جس قسم کا مذاق رانا صاحب کا اڑایا جاتا تھا وہ کسی بھی شخص کو بھولا ہوا نہیں . سلمان تاثیر نے جب آسیہ مرزا کو بچانے کی کوشش کی اور اپنی زبان پر قابو نہ رکھ پایا تو مخالفین کو اپنے حریف کو چت کرنے کا اچھا موقع ملا .پیسہ لگایا گیا اور اس معاملے کو اتنی ہوا دی گئی جتنی دی جا سکتی تھی.
یہ وہ رخ ہے جس پر ہم نظر نہین ڈالتے اب آپکے سامنے والے رخ پر روشنی ڈالنے سے پہلے آسیہ مرزا کے کردار پر روشنی ڈالنا ضروری ہے کہ وہ کیا تھی اور اس نے آخر ایسا کیا کر دیا تھا ؟آپ مسلمان ہیں کوئی آئے اور بائبل ہاتھ میں پکڑا کر کہے اسکی قسم اٹھاؤ تم نے فلاں کام نہیں کیا آپ کہیں گے جاؤ یار میں بائبل کو نہیں مانتا دوسری دفعہ وہ پھر آئے تو آپ اسکا ہاتھ جھٹکیں گے اور تیسری یا چوتھی دفعہ آپ بائبل کو بھی اٹھا کر پھینک سکتے ہیں .
اب مت کہیے گا کہ نہیں آپ تو ایسا نہیں کریں گے. آپ بائبل اٹھا کر چوم کر کسی اونچی جگہ رکھیں گے اور پھر کھینچ کر تھپڑ اس شخص کے منہ پر ماریں گے. نہیں آپ ایسا نہیں کر سکتے .کوئی بھی شخص ایسا نہیں کر سکت.ا اتنی ہمت اتنی برداشت صاحبو کس میں ہے ؟ لیکن یہ بھی جناب والا حقیقت ہے کہ پاکستان اسلام کے نام پر بننے والا ملک ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اقلیتوں کو تحفظ فراہم کرنا اگر حکومت کی ذمہ داری ہے تو اکثریت کے جذبات کا خیال کرنا بھی واجب ہے .اقلیت کو بھی اکثریت کے احساسات کی پرواہ کرنی چائیے.. کہنے والے کہتے ہیں کہ آسیہ مرزا کو محفوظ زندگی دینے کے علاوہ توہین رسالت کے قانون کو کالا قانون کہنے جیسی گستاخی بھی سلمان تاثیر سے سر زد ہوئی میں نے خود ویڈیو کلپ سنا ہے انہوں نے آئین میں موجود توہین ِ رسالت کی ایک مخصوص شق کا کالا قانقن کہا …..توہین ِ رسالت کی وجہ سے دی جانے والی سزا کو کالا قانون کہا.اور اسکو اگر کالا قانون کہا ہے تو کیا وہ کسی فرشتے نے بنایا تھا؟ نہیں انسان نے بنایا تھا اور انسان سے غلطی وہ سکتی ہے.کیا آپ نے وہ شق پڑھی کیا اس میں ذرہ برابر تبدیلی کر کے لینڈ مافیا کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کو روکا نہیں جاسکتا ؟ کسی کو بھی مارنے کا آسان ترین ذریعہ اسے گستاخ رسول صلی اللّہ علیہ والہ وسلم کہو اور مار دو.پیچھے سے جائیداد پہ قبضہ کر کے بیٹھ جاؤ .ثبوت تو کوئی مانگے گا نہیں …..فکر کاہے کی؟
انصاف اوپر سے نہیں ہورہا .اگر حکومت سزا تجویز کر دیتی تو ممتاز قادری کیوں قانون ہاتھ میں لیتا …..لیکن نہیں حکومت نے نہ سلمان تاثیر کو بچایا نہ ممتاز قادری کو.دونوں جانوں کو کٹھ پتلی سمجھا گیا .جب تک اوپر سے انصاف شروع نہیں ہو گا تب تک نیچے والے مطمئن نہیں ہوں گے آپ خود ہی بتائیں آزادی کا شور ڈالنے والا میڈیا ممتاز قادری کے جنازے کے حوالے سے کچھ بھی بتا کیون نہ سکا ؟ جب کسی ہندوستانی فلم سٹار کی کمر میں درد اٹھتا ہے تو وہ تو بتایا جاتا ہے لیکن اس دن کی ہنگامی چھٹی اور شہر میں لوگوں کی سیلاب سی آمد کی کوئی خبر نہیں .لعنت ایسی صحا فت پر جو اپنا منہ بند کر لے. وہ صحافی نہیںجس نے منہ بند کرلیا . جس نے کوریج کی اور اپنی رائے دی وہی صحافی ہیں .یہ بحثیت صحافی انکا فرض تھا کے پریس کارڈ کی آڑ میں جہاں آسائشیں ہتھیانے کے چکر میں رہتے ہیں وہیں سچ کو بھی پیش کرتے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عجیب ہے یہاں کا قانون اور قانون لاگو کرنے والے ادارے.معزز بننے والے اشخاص اور جدی پشتی عزت کے بھوکے گیڈر .یہاں جسکو سر پر بٹھاؤ وہ اپنا رنگ دکھاتا ہے چاہے چیف جسٹس افتخار چوہدری ہو یا راحیل شریف صاحب ہو .خاموشی اس کرسی پر زیب نہیں دیتی. ہزاروں ذمہ داریاں بلاتی ہیں .لیکن ریمنڈوس تو بھرے بازار میں قتل کر کے جا سکتا ہے لیکن اپنوں کو ہم نے زندہ نہیں چھوڑنا ایک کو مقتول بنانا ہے دوسرے کو قاتل پھر دونوں کو شہداء کا نام دینا ہے .آپ اور میں کون ہوتے ہیں شہادت کا قتل کا فیصلہ کرنے والے؟ اپنے اعمال دیکھے ہیں ؟ اپنے گریبان میں جھانکا ہے؟ بساند بھرے جسموں کو لئے معاشرے کی اصلاح کرنے چلے ہیں .حیف صد حیف!
عجیب تر تو عوام ہے اگر ممتاز قادری کا احساس تھا تو پہلے بھنگ پی کر سوئے ہوئے تھے؟ پہلے احتجاج کرتے جب انکو پھانسی دے دی گئی تو باہر نکل آئے. تف ہے سب پر حیف صد حیف ! ہمین ڈرامہ دکھایا جاتا ہے اور ہم کٹھ پتلیون کی طرح شاہ کی انگلیوں پر ناچنے لگ جاتے ہیں بھنبھوڑنے لگ جاتے ہیں میں سمجھی تھی کہ ڈرامہ ختم ہو چکا ہے اور میں اپنا حصہ ڈالنے میں دیر کر بیٹھی ہوں لیکن جنید جمشید پر حملہ اسی سلسلے کی کڑی ہے.بے چارا ناچتا گاتا رہتا تو بہتر تھا عزت تو رہتی .ہم کسی کو انسان ہونے کی گنجائش ہی نہیں دیتے . کوئی معافی مانگ لیتا ہے تو ہم معاف کیوں نہیں کر دیتے .وہ اللہ سے توبہ کرتا ہے اسکا معاملہ کم ازکم اللہ کے سپرد کم از کم اس وقت تک کیوں نہیں کر دیتے کہ جب تک وہ دوبارہ وہ غلطی نہ دہرائے.
ہم خود کون ہیں ؟ ہم خود کیا ہیں؟ جنکے بچے قرآن اٹھائے مسجد پڑھنے جاتے ہیں اور راستے میں ٹھوکر لگنے سے خود گرنے سے قرآن پاک کو بھی گرا بیٹھتے ہیں حرم میں اس کو تکیہ بنا لیتے ہیں لیکن عمل نہیں کرتے.شرفاء کی شادی میں اپنی ہی بیٹیاں ناچتی ہیں .ساری رات فلموں سے چپکے بیٹھے رہتے ہیں . ہم کون ہیں کسی کو شہید یا مجرم ٹھہرانے والے ؟ ہم آن دا سکرین ایکٹ دیکھتے ہوئے آف دا سکرین نظر کیوں نہیں ڈالتے ؟ جب تک کوئی اور سلمان تاثیر قتل نہین ہو گا قانون پر نظر ثانی نہیں کی جائے گی یہ میں بھی جانتی ہوں اور آپ بھی دوسرون کو سدھارنے کے بجائے خود کو سدھاریں .کسی کو مار کر گالیاں دے کر احساس نہ دلائیں کہ وہ کم درجے پر فائز ہے.درجہ بندی کا معیار صرف تقوی ہے .
آئیں دیا جلائیں اپنے اندر روشنی کریں .

مریم جہانگیر

جواب چھوڑیں