شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

کیسی بخشش کا یہ سامان ہوا پھرتا ہے
شہر سارا ہی پریشان ہوا پھرتا ہے

ایک بارود کی جیکٹ اور نعرہ تکبیر
رستہ جنت کا آسان ہوا پھرتا ہے

کیسا عشق ہے ، تیرے نام پے قربان ہے مگر
تیری ہر بات سے انجان ہوا پھرتا ہے

شب کو شیطان بھی مانگے ہے پناہیں جس سے
صبح کو وہ صاحب ایمان ہوا پھرتا ہے

جانے کب کون کسے مار دے کافر کہہ کر
شہر کا شہر مسلمان ہوا پھرتا ہے

جلیل حیدر لاشاری

جواب چھوڑیں