عورت مغرب کی نگاہ میں اور اسلام کی پناہ میں

شیکسپئیر نے کہا تھا کہ عورت ایسی کتاب ، تصویر اور دبستان ہے کہ جس میں ساری دنیا بستی ہے، جو تمام دنیا کی پرورش اور تربیت کرتی ہے۔ ارسطو کا قول وہ پیمانہ ہے جو ترقی یافتہ قوموں کی تعمیر و ترقی کا شاندار نمونہ ہے اور وہ کہتا ہے "عورت کی ترقی اور تنزلی پر قوم کی ترقی یا تنزلی کا انحصار ہوتا ہے”۔سقراط کا قول ہے "مرد آنکھ ہے تو عورت اس کی بینائی، مرد پھول ہے تو عورت اس کی خوشبو۔ اگر دنیا عورت نہ ہوتی تو آنکھ نے رنگ، شاعری بے کیف اور ادب پھیکا ہوتا۔ عورت کا دل ہمیشہ چاند کی طرح بدلتا رہتا ہے لیکن اس کا باعث ہمیشہ مرد ہوتا ہے۔کویہ عورت اپنے آپ کو اس وقت تک خوبصورت نہیں سمجھ سکتی جب تک اس نے خوبصورت لباس نہ زیب تن کر رکھا ہو۔گھر میں عورت دوست ہے، پردیس میں علم و ہنر۔ عورت زخم معاف کر دیتی ہے مگر خراشوں کو نہیں بھولتی۔گوئٹے نے کہا ہے "میرے خیال میں مرد جھوٹ بولنے کے لئے پیدا ہوئے اور عورتیں یقین کرنے کے لئے”۔لارڈ بائرن کہتا ہے کہ ایک خوبصورت عورت میرا پسندیدہ مہمان ہے۔ عورت ایک ایسا پھول ہے جو اپنی خوشبو سے مرد کے چمنستانِ حیات کو مہکا دیتی ہے۔عورت کے محبت بھرے دل سے اچھی چیز دنیامیں نہیں ہے۔بچےکی پیدائش وہ خوشگوار سزا ہے جو عورت کو برداشت کرنا ہی پڑتی ہے۔عورت مرد سے زیادہ محنتی، سمجھدار اور نیک ہے۔بھلائی کے کام اس سے اس طرح سرزد ہوتے ہیں جیسے آسمان سے بارش برستی ہے۔عورت زمین کی دلکش اور جادو اثر نظم کا نام ہے۔روسی ضرب المثل ہے کہ دس عورتوں میں ایک روح ہوتی ہے۔عورت سے باتیں کرتے وقت وہ سنیئے جو اس کی آنکھیں کہتی ہیں۔شیکسپئر کا ایک اور قول ملاحظہ کریں۔”کنواری لڑکی کی زبان نہیں ہوتی، صرف خیالات ہوتے ہیں۔ جب عورت تنہائی میں گنگنانے یا مسکرانے لگے اور بار بار اس کے ہاتھ بالوں سے کھیلنے لگیں تو سمجھ لیں کہ اسے کسی سے محبت ہو گئی ہے۔البانیہ کی ایک کہاوت ہے عورت مرد کا رشتہ ہی انسان کا سب سے پہلا سماجی رشتہ ہے۔شیکسپئر نے ایک اور جگہ کہا "اے عورت تو مجسمہ جلوہ گری ہے اور دنیا پر بغیر فوج کے حکومت کرنا تیرا ہی کام ہے”۔ جان ملٹن کا قول دیکھئے”عورت کے آنسوؤں کو بند کرنا سمندر کے غضب ناک طوفان کو روکنےسے مشکل ہے۔” نپولین نے کہا ” یہ صحیح ہے کہ میَں نے ملکوں اور تاجوں کو روند ڈالالیکن یہ کس درجہ ماتم انگیز حقیقت ہے کہ میَں ایک عورت سے شکست کھا گیا اور اس کے دل کو فتح نہ کر سکا۔” ایک ایرانی کہاوت ہےکہ عورت کا پیار اس چشمے کی مانند ہوتا ہے جو کبھی خشک نہیں ہوتا۔ حکیم الامت ڈاکٹر علامہ محمد اقبال کی تصویرِ کائنات میں رنگ و نور کا نظارہ فرمائیں ” جو شخص عورت کی تعظیم نہیں کرتا وہ سب سے پہلے اپنی ماں، بیٹی، بہن ، بیوی کے وجود کی نفی کرتا ہے۔ عورت کا مقام بہت بلند ہے۔ عورت خود تشہیری حربوں کی آڑ میں مصنوعات کی مانند ارزاں نرخ پر ملکی و غیر ملکی منڈیوںمیں اشتہار بن گئی ہے اور اپنی نسوانی عظمت گنوا بیٹھی ہے۔اسلام میں عورت کا مقام بہت بلند ہے اور اس کے حقوق کی پرزور وکالت اسلام ہی کرتا ہے۔تہذیب و تمدن اور علم و معرفت، فنون و علوم میں جب یونان اور روم اوجِ ثریا کی بلندیوںکو چھو رہے تھے مگر عورت کی تعظیم اور اس کی عظمت کے انکاری تھے۔اہلِ یونان کا اپنا نظریہ نسواں تھا ۔ وہ آگ سے جل جانے اور سانپ کے ڈسنے کا علاج ممکن تصور کرتے تھےلیکن عورت کو ایک زہر ناک شر کہتے تھے۔ اور وہ کہتے تھے کہ تمام دنیاوی آفات اور مسائل و آلام کی بنیاد عورت ہے۔قدیم رومی قوانین کا مطالعہ کریں تو پتہ چلتا ہے کہ شوہر کے لامحدود اختیارات تھے۔ وہ نہ صرف بیوی کو گھر سے باہر نکال سکتا تھا بلکہ اسے قتل کرنے کا بھی مجاز تھا۔عورت اس کی نگاہ میں ایک غلام، باندی لونڈی سے زیادہ نہ تھی جو شوہر کی چاکری اور خدمت کے لئے وقف تھی۔سترویں صدی میں روم میں اکابرین کی کونسل نے قرار دیا کہ عورت میں روح ہی موجود نہیں ہوتی۔اگر کوئی مذہب عورت کو اس کی عظمت، احترام، عفت، عزت دیتا ہے تو وہ صرف اور صرف اسلام ہے۔ جو مرد کے مساوی حقوق کا علمبردار ہے۔عورت کے معاشی بوجھ سے لے کر اس کی حفاظت تک مرد کے فرائض میں شامل ہے۔اس حوالے سے مرد کو ایک درجہ برتری حاصل ہے۔ معروف حقوق عورت کو بھی اسی طرح حاصل ہیں جس طرح مرد کو حاصل ہیں۔مرد پر ذمہ داریوں کا بوجھ زیادہ ہے اسی لئے اسے قوام کہا گیا۔اسلام نے عورت کو چودہ سو سال پہلے حقوق دے دئیے، جب عورت ذلت کی زندگی بسر کر رہی تھی۔رشتوں کی کوئی پہچان نہ تھی۔عورت کو زندہ دفن کر دینا عام تھا۔مغرب نے تو سترویں اور اٹھارویں صدی میں عورت کا حقوق دینا شروع کئے۔ مغرب ایک مسلمان عورت کے متعلق سوچتا ہےکہ وہ ابایہ پہنتی ہے، حجاب کرتی ہے ، گھر کے اندر بند رہتی ہے، ظلم سہتی ہے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اسلام کی تو تعریف ہی حضرت خدیجہ کے تعمیری اور تاریخی کردار سے شروع ہوتی ہے۔ہماری تو اسلامی تاریخ عورت کی حکمت و دانائی اور بہادری کے کرداروں سے بھری پڑی ہے۔عورت حجاب کرے یا نہ کرےاسے اپنی حدود کا پتہ ہے۔عورت ہر رو پ میں خوبصورت ہے ۔ بیٹی ہو تو رحمت، بہن ہو تو عزت، بیوی ہو تو محبت،ماں ہو تو قدموں تلےجنت۔
مولانا مودودی نے اپنی شہرہ آفاق کتاب "پردہ” میں جو عورت کی پر کشش تصویر کشی کی ہے وہ دیدہ عبرت ہے۔انھوں نے لکھا ہے ” سنسیات پر بدترین قسم کا لٹریچر شائع کیا جا رہا ہے جو مدرسے اور کالجوں کے طلبا و طالبات تک کثرت سے پہنچتا ہے۔ عریاں تصویریں اور آبرو باختہ عورتوں کی شبیہیں ہر اخبار، ہر رسالے اور ہر گھر ہر دوکان کی زینت بن گئی ہیں۔ گھر گھر اور بازارمیں گراموفون کے وہ ریکارڈ بج رہے ہیں جن میں نہایت رقیق اور گندے گیت بھرے جاتے ہیں۔ سینما کا سارا کاروبار جذباتی شہوانی کی انگخیت پر چل رہا ہے۔اور پردہ سیمیں پر فحش کاری اور بے حیائی کو ہر شام اتنا مزین بنا کر پیش کیا جاتا ہے کہ ہر لڑکے اور لڑکی کی نگاہ میں ایکٹر اور ایکٹرسوں کی زندگی اسوہ حسنہ بن کر رہ جاتی ہے۔مولانا کی روح اگر آج ہمارا کلچردیکھ لے تو زیادہ پریشان ہو جائے۔مولانا نے جس دور کی منظر کشی کی وہ دور تو پھر بھی موجودہ زمانے سے بہتر تھا۔ اقبال اپنے کالم میں عورت کو عفت، شرم، حیا اور عصمت کے تحفظ کے ساتھ ساتھ تمام شعبہ ہائے زیست میں کام کرنے کی پوری آزادی اور زندگی کی تمام سرگرمیوں میں بھرپور کردار ادا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
آج کی عورت بین الاقوامی حالات وواقعات کا گہراشعور وا دراک رکھتی ہے اور انشااللہ اکیسویں صدی کے تقاضوں کو ملحوظِ خاطر رکھتے ہوئے خواتین کے اندر جو بیداری کی لہر پیدا ہوئی ہے وہ ظلمت و افلاس کو چیرتی ہوئی رنگ و نور بکھیرتی چلی جائے گی اور اب اس کے اس سفر کو کوئی روک نہ پائے گا۔ آج ہم اضطرابی ماحول میں عورت کے کردار پہ بات کر رہے ہیں وہ بہت ہی نازک لمحہ ہے۔ اس وقت وزیرستان سے لے کر بلوچستان تک کے عوام عدمِ تحفظ کا شکار ہیں ۔ اس ماحول میں عورت کا کردار ملک کی اقتصادی ترقی میں قابلِ قدر ہے۔

ڈاکٹر عمرانہ مشتاق : دل کی بات

جواب چھوڑیں