اردو زبان پوچھتی ہے،

مجھے ہے حکم اذاں میں نے کیا ہجر میں مرنا ہے یہ ماں پوچھتی ہےمیرے بیٹے ہیں کہاں اردو زبان پوچھتی ہے، اردو ہماری قومی زبان سہی مگر یہ نام نہاد اپر کلاس کی زبان ہرگز نہیں اور نا ہی یہ سرکاری و دفتری زبان ہے. اردو کا اثر ہمارے دل و دماغ پر کتنا ہی گہرا کیوں نہ ہو ہم ماڈرن بننے کے لیے اپنی گفتگو میں انگریزی کے الفاظ استعمال کرتے ہیں تا کہ سننے والے کو پتہ چل جاۓ کہ میں بھی پڑھا لکھا ہوں. سمندر پار بسنے والے پاکستانیوں کی ایک مجبوری ہے کہ ہر کوئی اردو نہیں سمجھتا تو مقامی زبانوں میں بات کرنی پڑتی ہے لیکن پاکستان میں بسنے والے پاکستانیوں کی حالت بھی یہ ہے کہ ڈاکٹر سے کوئی بات بھی کہنی ہو کوئی تکلیف بتانی ہو تو انگریزی کا سہارا لے کر بات کریں گے، اس کی وجہ جاننے کی کوشش کریں تو پتہ چلے گا کہ ان کے نزدیک اپنی زبان میں کہی گئی بات زیادہ سنگین ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ کچھ دوست انگریزی مغلظات کا برا نہیں مانتے. ہو سکتا ہے کہ اردو بولنے، لکھنے اور پڑھنے والے کچھ دوست میری بات سے اختلاف کریں اور دیگر زبانوں کو ہی جذبات کا اظہار کا بہترین ذریعہ سمجھتے ہوں. زمانہ ہی کچھ ایسا ہے کہ انگریزی بولنا ہی باعث شان سمجھا جاتا ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ سے مرعوب ہو جائیں تو اس کا آسان نسخہ یہ ہے کہ منہ ٹیڑھا کر کے ایک خاص ادا سے انگریزی کے لفظ چبا چبا کر ادا کریں اور بالفرض آپ کی انگریزی کمزور ہے تو اس کا حل یہ ہے کہ دوران گفتگو انگریزی کے بھی ہاتھ پاؤں توڑیں اور بار بار کہیں کہ ”سوری میری اردو ذرا کمزور ہے.” ذرا اندازہ تو کیجیے کہ مصنوعی پن جتنا زیادہ ہو گا اتنی قدر ہو گی آپ کی لیکن اہل فکر و دانش کے نزدیک معیار کچھ اور ہیں.ہم انگریزی بول سکیں یا نا بول سکیں ہمیں اپنی زبان میں گفتگو کا سلیقہ تو ہونا ہی چاہیے. اب آپ یہ نا سمجھ لیں کہ میرے نزدیک انگریزی بولنا کوئی معیوب بات ہے بلکہ اپنی زبان کو کمتر سمجھنا معیوب ہے. عرب ممالک، ایران، فرانس، ترکی، تھائی لینڈ، اٹلی، اور جرمنی وغیرہ دنیا میں کتنے ایسے ممالک ہیں جہاں لوگ صرف اپنی زبان بولتے ہیں اور اس پر فخر بھی کرتے ہیں، اپنے معمولات میں اپنی زبان استعمال کرتے ہوئے کسی بیزاری کا اظہار بھی نہیں کرتے. آپ کو چاہے پچاس زبانوں پر عبور ہو اپنی زبان کو کبھی نہ چھوڑیں کیوں کہ اس کی مہک میں اخلاق و محبت کا وہ رچاؤ ہے جو ہمیں کسی اور زبان میں نہیں ملتا. سب انسان مختلف رشتوں کی ڈور سے ایک دوسرے کے ساتھ بندھے ہوتے ہیں مگر زبان کا رشتہ، سب سے اہم ہے اس کا اندازہ تب ہوتا ہے جب دیار غیر میں کوئی اپنی زبان بولنے والا مل جاۓ. بحثیت قوم ہم نے اردو ہی نہیں اپنا ہر اثاثہ خود اپنے ہاتھوں تباہ کیا ہے جس میں مذہب، ثقافت، زبان و اخلاقیات و احساسات سب شامل ہیں. ہم پچھلے 70 سالوں سے پہلی ترجیحی بنیاد پر انگریزی سیکھ رہے ہیں اور اب مزید یہ کہ ہم ہندی اور چینی بھی سیکھ رہے ہیں اور یہ سب کی سب نقل برائے نقل ہے. بس نہیں سیکھ رہے تو اردو کیونکہ اسے ہم گھر کی لونڈی کی طرح قدموں میں جگہ دیتے ہیں حالانکہ اس کی قدر تو ماں کی طرح کرنی چاہیے تھی لیکن ہم اپنے اس قیمتی اثاثے پر بس شرمندہ ہیں کیونکہ ہم شرمندہ قوم ہیں. لائق تحسین ہیں وہ شعرا و ادباء حضرات جو اپنی فکر سے، اپنی ادبی تخلیقات سے اس قابل قدر زبان کو زندہ رکھنے میں اپنا کردار ادا کر رہے ہیں. محمّد فیصل https://faisalpak.blogspot.com/2018/12/blog-post_27.html

Leave your vote

2 points
Upvote Downvote

Total votes: 2

Upvotes: 2

Upvotes percentage: 100.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…