اکیسویں صدی کا نمائندہ نعت گو : دلاور علی آزر

نعت کا ایک شعر عطا ہو جائے تو ایک سچا شاعر خود کو دنیا کا خوش قسمت ترین شخص تصور کرتا ہےکیوں کہ نعت تو خالصتاً عطا کا معاملہ ہے۔ مجھے اس پر کامل یقین ہے کہ نعت اپنی کوشش سے نہیں کہی جاسکتی ۔ یہ میرا ذاتی تجربہ بھی ہے۔یہ رب کی جانب سے اُن خوش نصیبوں کو بطورِ خاص عطا ہوتی ہے جو جذبۂ حبِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوتے ہیں۔ جن کے دل میں بارگاہِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم میں ہدیہ ء نعت پیش کرنے کی تڑپ موجود ہوتی ہے۔ جو اپنی شعری و دنیاوی عاقبت سنوارنا چاہتے ہیں۔ جنھیں اللہ تعالیٰ اپنے محبوب صلی اللہ علیہ وسلم کی توصیف کے لیے بطورِ خاص چن لیتا ہے۔اور ماشااللہ دلاور علی آزر نے تو ایک شعر ، ایک نعت نہیں بلکہ 72 نعوت پر مشتمل کتاب شائع کر کے سب کو حیران کر دیا ہے۔ اس کی قسمت پر رشک کیا جا سکتا ہے۔ یہ بات میرے لیے انتہائی طمانیت کا باعث ہے کہ عنفوانِ شباب ہی میں وہ جذبۂ مدحت ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے سرشار ہوگیا ہے۔ یہ عمر کا وہ حصہ ہے جب انسان اپنی دنیاوی زندگی میں ترقی، شہرت اور حسن و دولت کے حصول کو اپنا مقصد بنا لیتا ہے۔ جہاں ایک طرف بیشتر نوجوان شعراءحصولِ شہرت کی دوڑ میں سطحی شاعری تخلیق کرنے میں مصروف ہیں وہیں دوسری جانب غزل کا کامیاب شاعر ہونے کے باوجود دلاور نے اپنی ساری توجہ نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر مرکوز کر دی۔ اُس کے غزلیہ شعری مجموعوں کا چرچا ابھی تازہ تھا۔ وہ چاہتا تو اُنھی مجموعوں کے خمار میں تا دیر رہ سکتا تھا۔ مگر شاید اُس کے اندر محبتِ رسول صلی اللہ علیہ کا جذبہ اس قدر شدید ہو چکا تھا کہ ربّ ِ کریم نے اُس کی تسکینِ قلب کی خاطر اُسےنعت کی پوری کتاب لکھنے کے لیے مامور کر دیا۔
نعت گوئی فنِ شاعری کی معراج ہے۔ گویا جسے اللہ تعالیٰ نے یہ سعادت بخشی وہ فن کی معراج تک پہنچ گیا لیکن یہ شاعری کی مشکل ترین صنف اور بہت احتیاط والا کام ہے۔ اس میں حفظِ مراتب کا خیال رکھنا انتہائی ضروری ہے۔ کہ انسان فرطِ جذبات میں کوئی ایسی بات نہ کہہ جائے کہ جو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے شایانِ شان نہ ہو، جو مقامِ نبوی سے کم یا عام انسانوں کی سطح کی بات ہو یا خلاف ِ قرآن و حدیث ہو۔
اگر اُردو نعت کی روایت پر مختصر نظر ڈالی جائے تو صرف نعتیہ شاعری کے حوالے سے چند نام ہی نمایاں ملیں گے۔عام طور پر یہ رواج ہے کہ شعراء اپنے شعری مجموعوں کے آغاز میں تبرک کے طور پر ایک دو نعتیں شامل کرتے ہیں۔ اسی طرح نعتیہ مشاعرے بھی ماہِ ربیع الاول تک محدود ہیں۔ نعتیہ شاعری کی پوری کتاب لکھنا اور اُسے شائع کرنا یقیناً بہت زیادہ مستقل مزاجی، انہماک، لگن اور سب سے بڑھ کر نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم کی سیرتِ طیبہ کو ہمہ وقت اپنے سامنے رکھنے کا متقاضی ہے۔ اور دلاور علی آزر اُن خوش بخت شعراء میں سے ہے جسے یہ شرف حاصل ہوا ہے۔ جس پر وہ دلی مبارکباد کا مستحق ہے۔
یہ رتبہء بلند ملا جس کو مل گیا
” نقش” دلاور علی آزر کا اوّلین نعتیہ مجموعہ ہے جسے وراق پبلیکیشنز نے بڑے اہتمام کے ساتھ شائع کیا ہے۔اس کے کل صفحات کی تعداد 187 ہے۔ اس میں 72 نعوت شامل ہیں۔ سر ورق سادہ مگر جاذبِ نظر ہے۔ دونوں فلییپس اور پسِ ورق پر معتبر لکھاریوں کی آراء درج ہیں جن میں جلیل عالی، سرور جاوید، فیصل عجمی، طارق ہاشمی، احمد حسین مجاہد، صبیح رحمانی اور نرجس افروز زیدی شامل ہیں۔ دیباچہ عقیل ملک نے لکھا ہے جس کی جتنی بھی تعریف کی جائے کم ہے۔کسی نعتیہ مجموعے کا اس قدر فکر انگیز اور جامع دیباچہ شاذ ہی میری نظر سے گزرا ہوگا۔ اس کے علاوہ عابد سعید عابد، صبیح رحمانی اور قندیل بدر کے خوبصورت مضامین بھی کتاب کا حصہ ہیں۔ اپنی نعوت سے قبل دلاور علی آزر نے علامہ اقبال کی اُس نعت کا ایک شعر درج کیا ہے جسے نعتیہ شاعری کی معراج سمجھا جاتا ہے۔
دلاور کے غزلیہ شعری مجموعوں کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے احساس ہوا تھا کہ اُس کے اندر کائنات کے اسرار و رموز جاننے کے لیے ایک اضطراب پایا جاتا ہے، ایک حیرانی اور ایک تجسس کی سی کیفیت ہمہ وقت اُس کے ساتھ رہتی ہے۔ لیکن اُس کے جہانِ نعت میں داخل ہونے کے بعد یوں محسوس ہوتا ہے کہ حقیقت کی جانب اُس کے سفر کی منازل آسان ہو گئی ہیں جس سے اُس کا نفسیاتی انتشار ختم ہو گیا ہے اور اُس کے ذہن و قلب قرآن کے آفاقی پیغام سے منور ہو گئے ہیں۔

جس پر ترے پیغام کی گرہیں نہیں کُھلتیں
اُس پر کہاں کُھل پاتے ہیں اسرارِ دو عالم

آ کر یہاں ملتے ہیں چراغ اور ستارہ
لگتا ہے اسی غار میں دربارِ دو عالم

بخشا ہے اُس نگاہ نے ایسا یقیں مجھے
حیرت سے دیکھتے ہیں سبھی نکتہ چیں مجھے

کھینچ کر بینائی کو آنکھوں کی حد سے ایک دن
سبز گنبد کا نظارہ رنگِ جاں تک لے گیا

اُس شخص پہ کھلتی ہے زمانوں کی حقیقت
پڑھتا ہے جو فرصت سے نصابِ شبِ معراج

دلاور کی نعوت میں ایک سچے عاشقِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی تڑپ عیاں ہے۔

چیختا ہوں کہ مدینے کوئی لے جائے مجھے
لیکن آواز گناہوں میں دبی جاتی ہے

ممکن ہو اُس سے میری ملاقات ہو کبھی
وہ نور جو بلاتا ہے اپنے قریں مجھے

فقط یہ آنکھ نہیں اُن کی دید کو بے تاب
وفورِ جذب سے مشکل کے ساتھ میں بھی تو ہوں

ملا نہ اذن مدینے سے حاضری کا اگر
کروں گا کیا کہ وسائل کے ساتھ میں بھی تو ہوں

بجا کہ ملکِ عرب دور کا علاقہ ہے
مگر یہ دل جو ترے نور کا علاقہ ہے

لے کے جائیں گے جامی و آزر
اپنا اپنا قصیدہ اُن کے حضور

دلاور علی آزر کے اشعار میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے والہانہ عقیدت اور محبت کا وہی انداز جھلکتا ہے جو صوفیاء کرام اور بڑے نعت نگاروں کی شعری روایت میں ملتا ہے۔ دلاور کو اس بات کا ادراک ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت کے راستے پر چلنے والا شخص نا مراد نہیں ہو سکتا۔ نفسانی خواہشات اُس کو گمراہ نہیں کر سکتیں۔اسی لیے وہ پُر سکون دکھائی دیتا ہے۔

میں آگیا ہوں آپ کے در پر بصد خلوص
اب اپنے آپ سے کوئی خطرہ نہیں مجھے

جو کچھ ملا حضور کے صدقے سے ہے ملا
اور جو نہیں ہے اُس کی ضرورت نہیں مجھے

درود پڑھ کے قدم جب زمیں پہ رکھتا ہوں
تو خود ہی راستے ہموار ہونے لگتے ہیں

خواہشِ خواب دیدہ اُن کے حضور
سب سے پہلا قصیدہ اُن کے حضور

خاک خوشبو میں بدلتی ہے یہ کیا آمد ہے
اے گلُِ تازہ نفس اے گُلِ ریحان ِ عرب

دلاور علی آزر نے سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کی احادیث کا بخوبی مطالعہ کیا ہے جبھی تو اپنے اشعار میں سیرتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مختلف پہلوؤں اور احادیث کو سہولت کے ساتھ بیان کرنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اس کے چند اشعار دیکھیے۔

داخل جو ہوئے خواب علاقے میں احد کے
کُھلتی ہی گئی سیرتِ دُنیائے محمد

دو لخت ہوا چاند سرِ عرصہ ء دنیا
اُنگشت ہے آزر یدِ بیضائے محمد

اپنا تو اس حدیث پہ قائم شعور ہے
جو سب سے پہلے خلق ہوا اُن کا نور ہے

احد کے باب میں قربت کی خاطر
اُنہی سے استفادہ کیجیے گا

مدینے جا کے اُسی شاہِ خسرواں سے ملو
چٹائی دے کے جو ممتاز کر دیا گیا ہے

آبادی اپنی حد سے تجاوز کرے تو پھر
ایسے میں کارِ نقل مکانی حدیث ہے

کچھ اس لیے بھی غرق ہوئے ہیں گزشتگاں
ہم نے خدا کی بات نہ مانی ، حدیث ہے

اِس لیے قافلہ ء شوق نجف جاتا ہے
راستہ یہ بھی مدینے کی طرف جاتا ہے

دلاور علی آزر نے واقعہ معراجِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے زمان و مکاں کے راز سمجھنے کی سعی بھی کی ہے اور حاصل شدہ نتائج کو اپنی نعوت میں بہت سلیقے سے بیان کیا ہے۔

اک لمحہ اُلٹتا ہے ورق نظمِ زمن کا
کُھلتی ہے زمانے میں کتابِ شبِ معراج

وقت سے آگے نکل وقت سے ملنے کے لیے
کیا ازل مانگتا پھرتا ہے ابد مانگ اُن سے

بساطِ وقت لپیٹی گئی تو راز کُھلا
ازل ابد کا سرا مصطفی کے ہاتھ میں ہے

دلاور علی آزر بنیادی طور پر غزل کا شاعر ہے۔ کم عمری ہی میں اُس کا شمار عہدِ حاضر کے پختہ ترین شعراء میں ہوتا ہے۔ اس کی غزل میں فنی مہارت، فکری بالیدگی ، لہجے کا بانکپن عیاں ہے۔ وہ اپنا الگ اسلوب بنانے میں کامیاب ہوا ہے کہ اُس کی آواز لاکھوں آوازوں میں بھی آرام سے پہچانی جا سکتی ہے۔ اُس کی غزلوں میں ایک خاص طرح کا آہنگ ہے۔ جس سے قاری خود بخود اُس کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ نعت کا عمومی معاملہ بالکل مختلف ہے۔ اس میں ایک خاص اسلوب پیدا کرنا، مضمون کا تنوع اور روایت سے ہٹ کر نئی راہ نکالنا بہت دشوار کام ہے۔ لیکن دلاور علی آزر کا کمال یہ ہے اُس نے نعت میں بھی اپنا الگ اسلوب قائم کیا ہے۔ اُسی ہنرمندی کے ساتھ جس سے اُس نے غزل کہی ہے وہ نعت بھی کہنے میں کامیاب ہوا ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ نقش کا مطالعہ کرتے ہوئے آپ کو کہیں بھی یکسانیت کا احساس نہیں ہوتا۔ دلاور کی نعت دیگر نعت نگاروں سے اس طرح مختلف اور ممتاز ہے کہ اُس کی نعت کا رنگ بھی غزلیہ ہے۔ ایک اچھی غزل کے تمام تر لوازمات اُس کی نعت میں بھی موجود ہیں۔ رمزیت، ایمائیت، تہہ داری، برجستگی،نغمگی، جمالیات یہ تمام اوصاف اس کی نعت میں پائے جاتے ہیں۔ دلاور نے زیادہ تر نعوت کے لیے نئی زمینیں تراشی ہیں اور ان میں نعت کی مناسبت سے خوبصورت قوافی اور ردائف کا استعمال کیا ہے۔غیر ضروری اور عامیانہ استعارات و تشبیہات سے گریز کیا ہے۔ علائم اور تلمیحات کا بخوبی استعمال کیا ہے۔مصرعوں میں چستی اور روانی ہے جو دلاور کی ریاضت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ عام طور پر نعت میں تلازمہ کو اہمیت نہیں دی جاتی۔ مگر دلاور نے نعت میں بھی اس کا خاص اہتمام کیا ہے۔

اسی چراغ نے روشن کیا ستارہ ء نور
خمیرِ ذاتِ محمد ہے استعارہ ء نور

شاید کسی کلی کی تلاوت کا وقت ہو
مہکا ہوا نہالِ عقیدت پہ بور ہے

بنتا ہی نہیں تھا کوئی معیارِ دو عالم
اس واسطے بھیجے گئے سرکارِ دو عالم

توقیر بڑھائی گئی افلاک و زمیں کی
پہنائی گئی آپ کو دستارِ دو عالم

روشنی اُس کی مہ و مہر سے بڑھ کر نکلی
وہ ستارہ جو نمودار مدینے سے ہوا

دلاور کو اس بات کا احساس ہے کہ نعتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی صورت میں وہ خزینہ اُس کے ہاتھ میں آ گیا ہے جو اُس کی دینی و دنیاوی زندگی کو سنوارنے کے لیے کافی ہے۔ وہ اس پر مسرور بھی ہے، اللہ تعالیٰ کا شکر گزار بھی ہے اور اُسے یہ احساس بھی ہے کہ آگے بہت سنبھل کر چلنا ہے۔ وہ نعت گوئی ہی کو اپنی پہچان بنانا چاہتا ہے۔ میں اُس کے لیے دعا گو ہوں کہ اللہ تعالیٰ اُس کو نظرِ بد اور شیاطین کے شر سے محفوظ رکھے اور وہ اسی راستے پر چلتا رہے جس پر سدا چلنے کا اُس نے عزم کیا ہے۔

رہے چشمِ تصور میں مدینہ
نگہ نم ساز ہو نعتِ نبی سے

قصیدہ گوئی ہو پہچان میری
مرا اعزاز ہو نعتِ نبی سے

اُسے اصنافِ دیگر سے غرض کیا
کہ جو ممتاز ہو نعتِ نبی سے

زہے نصیب کہ روشن ہوا ہے منظرِ نعت
چمک اُٹھا مرے کشکول میں بھی اخترِ نعت

میں اُن کی مدح سرائی میں صرف ہو جاؤں
مجھے بھی لوگ کہیں پیار سے پیمبرِ نعت

اکیسویں صدی میں شاعری کا آغاز کرنے والے شعراء میں دلاور علی آزر کے علاوہ ایسا کوئی شاعر دکھائی نہیں دیتا جس نے اس قدر رچاؤ اور فنی مہارت کے ساتھ غیر روایتی اسلوب اور متنوع موضوعات کی حامل نعت کہی ہو۔نعت نگاری کی تاریخ میں دلاورکا یہ مجموعہء نعت ” نقش ” بلاشبہ ایک اہم باب کی صورت درج ہو چکا ہے۔میری رائے میں یہ مجموعہ فنِ نعت گوئی کے ارتقائی سفر میں اہم سنگِ میل ہے اور مضامین ِ نعت میں وسعت پزیری کے حوالے سے ہمیشہ زیرِ بحث رہے گا۔ آنے والے دنوں میں اس پر بہت تحقیقی اور تنقیدی کام ہونے والا ہے۔ میں خود کو بھی خوش قسمت تصور کر رہا ہوں کہ مجھ ایسے گنہگار کو بھی نعت کی اس قدر اعلیٰ کتاب پر مضمون لکھنے کا شرف حاصل ہوا۔المختصر معیار، فنی و فکری پختگی، آہنگ، متنوع مضامین اور جدید اسلوب کی بنا پر میں یہ کہنے میں حق بجانب ہوں کہ دلاور علی آزر اکیسویں صدی کا نمائندہ نعت گو ہے۔

ڈاکٹر کاشف رفیق
عباس پور، آزاد کشمیر
03جنوری 2019

Leave your vote

3 points
Upvote Downvote

Total votes: 3

Upvotes: 3

Upvotes percentage: 100.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…