کبھی جو دعوی منصور میں شک آتا ہے خیالِ …

کبھی جو دعوی منصور میں شک آتا ہے
خیالِ یار مجھے آئینہ دکھاتا ہے

وہ بات ہوں کہ جو لائی ہے جوش میں دل کو
وہ حال ہوں کہ جِسے سُن کے وجد آتا ہے

ہمیں تو آٹھ پہر رہتی ہے تمہاری یاد
کبھی تمہیں بھی ہمارا خیال آتا ہے

نہ جانے کا تو نہیں جانتے بہانہ کچھ
ہزار حیلہ نہ آنے کا تم کو آتا ہے

وہ میکدہ ہے ہمارا کہ جس میں مستوں سے
ہزار ساغرِ جم روز ٹوٹ جاتا ہے

نہ پوچھیے سِتم جوش حسرتِ دیدار
یہ جانِ زار کو آنکھوں میں کھینچ لاتا ہے

خدا کے واسطے یادِ خدا کر اے اکبرؔ
بُتوں کے عشق میں جان اپنی کیوں گنواتا ہے

اکبرؔ الہ آبادی

المرسل: فیصل خورشید


جواب چھوڑیں