سو سو تہمت ہم پہ تراشی کوچہ گرد رقیبوں نے خطبے…

سو سو تہمت ہم پہ تراشی کوچہ گرد رقیبوں نے
خطبے میں لیکن نام ہمیں لوگوں کاپڑھا خطیبوں نے

شب کی بساطِ ناز لپیٹو، شمع کے سرد آنسو پونچھو
نقارے پہ چوٹ لگادی صبح کے نئے نقیبوں نے

کس کو خبر ہے رات کے تارے کب نکلے کب ڈوب گئے
شام و سحر کا پیچھا چھوڑا آپ کے درد نصیبوں نے

امن کی مالا جپنے والے جیالے تو خاموش رہے
فتحِ مُبیں کے جھنڈے گاڑے شہر بہ شہر صلیبوں نے

انشا جی اب آئے ہو دو بیت کہو اور اُٹھ جاو
تمہی کہو تمہیں شاعر مانا کب سے بڑے ادیبوں نے

ابنِ انشا

از:-دلِ وحشی ص ۱۵۳

انتخاب
سفیدپوش


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
3 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    منفرد لہجے کے شاعر
    جناب اِبنِ اِنشاء
    جو۔۔۔۔
    آیا
    چھا گیا
    اور چلا گیا۔۔۔۔بقول ناصر۔۔۔۔
    گئے دنوں کا سراغ لے کر کدھر سے آیا کدھر گیا وہ
    عجیب مانوس اجنبی تھا مجھے تو حیران کر گیا وہ
    بس ایک موتی سی چھب دکھا کر بس ایک میٹھی سی دھن سنا کر
    ستارۂ شام بن کے آیا برنگ خواب سحر گیا وہ

  2. گمنام کہتے ہیں

    بہت خوب

  3. گمنام کہتے ہیں

    Zabardast

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…