معروف سندھی شاعر عبدالحفیظ بھٹی سے کچھ باتیں

تفکر: آپ کا پورا نام؟
جواب: عبدالحفیظ بھٹی

تفکر: کوئی قلمی نام؟
جواب: حفیظ بھٹی

تفکر: ۔کہاں اور کب پیدا ہوئے؟
جواب: 10جنوری 1992 تحصیل شہدادکوٹ سندھ میں پیدا ہوا  ۔

تفکر: تعلیمی قابلیت؟
جواب: قائدِ عوام یونیورسٹی نواب شاھ سے کمپیوٹر میں انجینئرنگ کی ہے ۔

تفکر: ابتدائی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
جواب : اپنے ہی تحصیل شہدادکوٹ کے ایک پرائمری سکول میں حاصل کی ۔

تفکر: اعلٰی تعلیم کہاں سے حاصل کی؟
جواب: قائدِ عوام یونیورسٹی نوابشاہ سے حاصل کی ۔

تفکر: ۔پیشہ؟
جواب: ایک پرائیویٹ کمپنی میں کمپیوٹر انجینئر ہوں ۔

تفکر: ادبی سفر کا اآغاز کب ہوا؟
جواب: جنوری 2016 سے آغاز کیا ۔

تفکر: اگر آپ شاعر ہیں تو نظم اور غزل میں کس شاعر سے متاثر ہوئے؟
جواب: میں حضرت واصف علی واصف ؒ  آف لاہور سے متاثر ہوا ۔

تفکر: ۔کسی شاعر یا ادیب کا تلمذ اختیار کیا؟
جواب: اپنی تحصیل کے شاعر اور میرے دوست اور محسن مرتضیٰ لغاری  سے کالم اور مقبول تونیو سے شاعری کے حوالے سے رہنمائی حاصل کی ۔

تفکر: ادب کی کونسی صنف زیادہ پسند ہے؟
جواب: نثری نظم سب سے زیادہ پسند ہے ۔

تفکر: ادب کی کس صنف میں زیادہ کام کیا؟
ادب میں نطموں اور غزلوں پر زیادہ کام کیا ہے ۔

تفکر: ۔شعری تصانیف کی تعداد اور نام؟
جواب:  شاعری اردو اور سندھی(18)
غزل (خدا کہ خیال میں )
غزل : نعت شریف (نظامِ مصطفیٰ )
غزل (عکس)
میری کمبائین شاعری (Combine Poetry )کی بوک (روشنی کے رنگ ، Colors of Light )میں تصنیف /شایع ہونی والی شاعری .. 
سندھی غزل (علامت )
سندھی غزل ( خطاکار)
سندھی غزل ( حجاب)
سندھی غزل ( احسان)
سندھی غزل (ایمان )
سندھی غزل ( دنیا )
سندھی غزل (دلدار)
سندھی غزل (تِل)
سندھی گیت (سندھڑی)

رباعی (وھم وَ حقیقت )
رباعی ( خدشہ )
رباعی (کُلِ ایمان علیؐ)
قطعہ (تمنا ئے یار)
قطعہ (صائمی الفت)
قطعہ (گردشِ یاد)

کالم (اردو اور سندھی  )”10″
اردو ادب کی روح (سیدہ عائشہ غفار)” لاہور سے نکلنے والی اخبار روزنامہ  بیتاب (03 مئی 2018) میں شایع شدہ کالم ۔

اردو ادب کی روح رواں شاعرہ ( ڈاکٹر عمرانہ مشتاق)لاہور سے نکلنے والے تفکر میگزین ” ستمبر 2018  ” میں شائع شدہ کالم ۔

کراچی سے نکلنے والا میگزین نئین آس میں شائع شدہ کالمز ۔
سندھی کالم (شجر شجر کی ٹالھی)
سندھی کالم (انسان اور سوچ)
ادب کا اثاثہ (سکندر ھاڑھو )
سندھی کالم (ٹوپی ڈرامو )
خیالوں کا سمندر (شاعرہ اور رائٹر سیما عباسی )
علم اور انسانیت کی درسگاہ (ڈاکٹر انتساب حسین سدھایو )
سندھ کا بھادر کردار (شھناز شیخ )” وفائے سندھ اخبار میں شایع شدھ کالم ۔
علم اور احساس کا بیش بھا سمندر (شبانہ نواز) ” لاڑکانہ سے نکلنے والا سندھی میگزین میں شایع شدھ کالم ۔

تفکر: نثری تصانیف کی تعداد اور نام؟
جواب : (08) اردو اور سندھی
سندھی نظم (نمایاں)
سندھی نظم ( تخلیقار)
سندھی نظم (حیرت)
سندھی نظم (انتظار)
سندھی نظم (اندھیر نگری)
نظم (عشق کی روح )
نظم (خامشی )
نظم ( ہیپی نیو ییئر)

تفکر: اپنے خاندان کے حوالے سے کچھ بتائیے؟
میرا خاندان کل پانچ فیملی میمبران پر مشتمل ہے بابا ، ماں دو بھائی ایک چھوٹی بہن ۔ امی پرائمری اسکول ٹیچر ہیں اور بابا گورنمنٹ ملازم ہیں آج جو کچھ ہوں اپنی فیملی کی دعائوں کی بدولت ہوں ۔

تفکر: ازدواجی حیثیت؟
ابھی تک شادی نہیں ہوئی ۔

تفکر: فیملی ممبرز کے بارے میں بتائیے؟
میری فیملی میمبران میرے لیئے استاد کی حیثیت رکہتے ہیں میں ان سے سیکہتا اور دعائیں لیتا ہوں ۔

تفکر: آج کل کہاں رہائش پزیر ہیں؟
اپنے آبائی شھر شھدادکوٹ میں رہائش پذیر ہون ۔

تفکر: ۔بچپن کی کوئی خوبصورت یاد؟
میرا بچپن بہت ہی عمدہ رہا بہت شرارتی اور ہر بات میں ٹانگ اڑانا بحث کرنا اور سب سے خوبصورت یاد اپنے بابا کہ ساتھ اپنی شھر کہ ۲۰ گہنٹہ کی مفاصلے پر سرکار حاکم شاھ کی سالیانی عرس مبارک میں شرکت کرنا اور وہاں کی حسین پلوں سے لطف اندوز ہونا میرے لیئے خوبصورت یادوں میں شامل ہے ۔

تفکر: ادبی سفر کے دواران میں کوئی خوبصورت واقعہ؟
ادبی سفر میں میری محترم رہنما ڈاکٹر عمرانہ مشتاق سے تعارف ہونا ان سے ادبی حوالے سے گفتگو میری لیئے متاثر کن رہی ان کی گفتگو اور اشعار سے لطف اندوز ہونا میرے نزدیک ایک بااثر یاد کا سبب ہے   ۔۔

تفکر: آپ کے پسندیدہ مصنفین؟
*: قبلہ حضرت واصف علی واصف ؒ
*:  جون ایلیا
*: میر حسن میر
*: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

تفکر: اخبارات یا رسائل سے وابستگی؟
نئیں آس میگزین کراچی کا میمبر آف بورڈ کی خدمات سرانجام دے رہا ہوں ، اور تفکر میگزین لاہور کا میمبر اور لکھاری رہا ہوں ۔

تفکر: ادبی گروپ بندیوں اور مخالفت کا سامنا ہوا؟
جواب : نہیں اب تک تو نہیں ہوا ۔۔

تفکر: ادب کے حوالے سے حکومتی پالیسی سے مطمئن ہیں؟
جواب: نہیں

تفکر: اُردو ادب سے وابستہ لوگوں کے لیے کوئی پیغام؟

جواب: میرا پیغام یے ہے کہ سارے ادیب لوگ فراخ دلی کا مظاہرہ کر کہ سیکھنے اور سکھانے کہ کام کو ترجیح دیں ۔ نئے اور نوجوان شاعر/شاعرہ یا رائٹر کو اپنے علم کہ زیور سے روشناس کرائیں تاکہ ادب کہ موتیوں کو جو آپ کہ دل اور سینے میں حفظ ہیں ان سے سیکھ کر ادب کی نشونما اور بیش بھا موتی آپ کہ دامن سے سمیٹ کر آنے والی نسل کی لیئے فائدیمند ثابت ہوں ۔۔

تفکر: ہماری اس کاوش پر کچھ کہنا چاہیں گے؟

جواب: ڈاکٹر عمرانہ مشتاق ہر قدم پر ادب کی نشونما اور کامیابی میں اپنی صحت اور وقت دیتی رہتی ہیں۔ تاریخ میں ان کا نام سنہری الفاظ میں لکھا جائے گا۔ اس کاوش پہ نوجوانوں کے تعارف کروانے میں بہت سارا پیار اور دعائیں ملیں گی جن سے آنے والی نسلوں کے ادبی راستے ہموار ہوتے نظر آرہے ہیں ۔

تفکر: پہچان شعر یا تحریر؟

جواب : دو اشعار جو کہ بہت پسند کیئے گئے ۔
میں اِک خیال تھا ہاں حُسنِ خیال
اب عکس ہوں، ہاں عکسِ جمال ۔۔

جواب چھوڑیں