”زندگی“ کو تم استعارہ کہو ، تیرگی کا اک نظارہ کہو،…

”زندگی“ کو تم استعارہ کہو ، تیرگی کا اک نظارہ کہو، یا شبنم کا وہ قطرہ جو سُورج نکلنے تک باقی رھا.

یا پھر وصل و فراق کے بیچ اُلجھتا لمحہ ، اَفلاس سے لڑتا ھُوا کھوٹا سِکّہ ، تمہارے قانون کی ایک حد یا مُردہ تہذیبوں کی لحد.

تم اِسے جو بھی کہو ، کوئی بھی نام دو ، مگر میں بس اتنا ھی کہوں گا کہ ”زندگی“ صرف موت تک پہنچنے کا ایک راستہ ھے اور مجھے اِس سے انتہا کا پیار ھے.

”سعادت حسن منٹو“
(آج اِس عظیم افسانہ نگار کی چونسٹھویں برسی ھے۔)


بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب چھوڑیں