کھیل جاری رہے ۔۔۔۔ ۔ بے جھجک بے خطر بے دھڑک وار کر…


کھیل جاری رہے ۔۔۔۔
۔
بے جھجک
بے خطر
بے دھڑک وار کر
میری گردن اڑا
اور خوں سے مرے کامیابی کے اپنی نئے جام بھر
چھین لے حسن و خوبی ، انا ، دل کشی
میری لفظوں میں لپٹا ہوا مال و زر
میری پوروں سے بہتی ہوئی روشنی
میرے ماتھے پہ لکھے ہوئے سب ہنر
تجھ سے شکوہ نہیں
اے عدو میرے ، میں تیری ہمدرد ہوں
تیری بے چہرگی مجھ کو بھاتی نہیں
تجھ سے کیسے کہوں !!
تجھ سے کیسے کہوں ، قتل کرنا مجھے تیرے بس میں نہیں
( اور ہو بھی اگر ، تیری کم مائیگی کا مدوا نہیں )
ہاں مگر تیری دل جوئی کے واسطے
میری گردن پہ یوں تیرا خنجر رہے
(تیری دانست میں )
کھیل جاری رہے
.
نینا عادل

جواب چھوڑیں