مجھے تم سے محبت ہوگئی تھی . مجھے تم سے محبت ہو گئی…

مجھے تم سے محبت ہوگئی تھی
.
مجھے تم سے محبت ہو گئی تھی
کہ تم اپنے اکیلے پن کا دکھ لے کر
مرے رستے میں آئے تھے
تمھاری آنکھ سے تنہائی کا آزار بہتا تھا
سو میں نے تم کو اُن چہروں کی قربت بخش دی
ایسے مناظر تم پہ روشن کردئیے
جن پر بصارت ناز کرنے کے بہانے ڈھونڈ تی ہے
تمھاری گفتگو مایوس سناٹوں کا جنگل تھی
سو میں نے تم کو ایسی محفلوں کی اولیں صف میں بٹھایا
ایسے لوگوں سے ملایا
جہاں ہونٹوں کی جنبش نو جواں قصوں میں ڈھلتی ہے
قہقہوں کی رسم چلتی ہے
تمھیں اپنی سماعت سے بھی شکوہ تھا
کہ تم نے نغمگی کے دن نہیں دیکھے
حرف کو آواز کے پہلو میں خوابیدہ نہیں پایا
سو میں بھی گنگاتی صبح کی مانند لہجوں کو
تمھارے ذوق کی محروم خلوتوں میں بلا لایا
کئی رس گھولتی شامیں تمھاری روح میں بیدار کر ڈالیں
مگر ہونا وہی تھا
مگرہونا وہی تھا
جو تعلق جوڑنے والوں کا دیرینہ مقدر ہے
گذشتہ رات تم نے مجھ کو بے مصرف سمجھ کر
پنے ہنگاموں کی جانب ہی نظر رکھی
لہٰذا اب اجازت دو
مرے رستے کی جانب غور سے دیکھو
وہ دیکھو ایک درماندہ مسافر
میری قربت کے لئے بے چین لگتا ہے
تم اس کی آنکھ سے تنہائی کا آزار بہتا دیکھ سکتے ہو
اور اس کی گفتگو مایوس سناٹوں کا جنگل ہے
اسے اپنی سماعت سے بھی شکوہ ہے
مجھے اس سے محبت ہو گئی ہے
.
عزم بہزاد

جواب چھوڑیں