جب جاں پہ لبِ جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے ہم…

جب جاں پہ لبِ جاناں کی مہک اک بارش منظر ہو جائے
ہم ہاتھ بڑھائیں اور اس میں مہتاب گُلِ تر ہو جائے

کب دل کا لڑکپن جائے گا ہر وقت یہی ہے ضد اس کی
جو مانگے اسی پل مل جائے جو سوچے وہیں پر ہو جائے

اک عالمِ جاں وہ ہوتا ہے تخصیص نہیں جس میں کوئی
اس وقت ہماری بانہوں میں جو آئے وہ دلبر ہو جائے

آشوبِ محبت کا آنسو رکھتا ہے تلَوُّن فطرت میں
آنکھوں میں رہے تو قطرہ ہے ٹپکے تو سمندر ہو جائے

جتنا بھی سمیٹیں آنکھوں میں رہتا ہی نہیں کچھ یاد ہمیں
یا رب وہ طلسمِ عارض و لب اک روز تو ازبر ہو جائے

جمشید متاعِ حسن جہاں سب اہلِ نظر کا حصہ ہے
جو چاہے قلندر ہو جائے جو چاہے سکندر ہو جائے

(جمشید مسرور)
Jamshed Masroor

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…