آئیں نصیرالدین شاہ سے فیض کی نظم ”صُبحِ آزادی اگست…


آئیں نصیرالدین شاہ سے فیض کی نظم ”صُبحِ آزادی اگست ١٩٤٧ء“ سنیں۔

”صُبحِ آزادی اگست ١٩٤٧ء“

یہ داغ داغ اُجالا ، یہ شب گزیدہ سحر
وہ انتظار تھا جس کا، یہ وہ سحر تو نہیں

یہ وہ سحر تو نہیں ، جس کی آرزو لے کر
چلے تھے یار ، کہ مل جائے گی کہیں نہ کہیں
فلک کے دشت میں، تاروں کی آخری منزل

کہیں تو ھو گا ، شبِ سُست موج کا ساحل
کہیں تو جا کے رکے گا ، سفینۂ غمِ دل
جواں لہو کی پراسرار شاھراھوں سے
چلے جو یار ، تو دامن پہ کتنے ھاتھ پڑے

دیارِ حُسن کی ، بے صبر خواب گاھوں سے
پکارتی رھیں بانہیں ، بدن بلاتے رھے
بہت عزیز تھی لیکن ، رُخِ سحر کی لگن
بہت قریں تھا حسینانِ نُور کا دامن

سبک سبک تھی تمنا ، دبی دبی تھی تھکن
سنا ھے ، ھو بھی چکا ھے فراقِ ظلمت و نُور
سنا ھے ، ھو بھی چکا ھے وصالِ منزل و گام

بدل چکا ھے بہت اھلِ درد کا دستُور
نشاطِ وصل حلال و عذابِ ھجر حرام
جگر کی آگ ، نظر کی امنگ ، دل کی جلن

کسی پہ چارۂ ھجراں کا کچھ اثر ھی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا ، کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سرِ رہ کو کچھ خبر ھی نہیں

ابھی گرانئ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدہ و دل کی گھڑی نہیں آئی

چلے چلو ، کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی۔

”فیض احمد فیض“

بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…