رقعہ بنام نواب میر غلام بابا خان بہادر … سبحان ا…

رقعہ بنام نواب میر غلام بابا خان بہادر

سبحان اللہ تعالیٰ شانہ ما اعظم برہانہٗ۔ جناب مستطاب نواب میر غلام بابا خاں بہادر سے بتوسط منشی میاں داد خاں صاحب شناسائی بہم پہنچی۔ لیکن واہ اول ساغر و دُردی کیا جگر خون کن اتفاق ہے۔ پہلا عنایت نامہ جو حضرت کا مجھ کو آیا اس میں خبرِ مرگ۔ اب میں جو اس کا جواب لکھوں اور یہ میرا پہلا خط ہو گا لامحالہ مضامیں اندوہ انگیز ہوں گے نہ نامہ شوق نہ محبت نامہ صرف تعزیت نامہ صریر قلم ماتمیوں کے شیون کا خروش ہے جو لفظ نکلا وہ سیاہ پوش ہے۔ ہے ہے نواب میر جعفر علی خاں جیسا امیر روشن گہر نام آور۔ رُوشناس اعیان ہندو انگلینڈ وسط جوانی یعنی ۴۶ برس کی عمر میں یوں مر جائے ؎نخل چمن سروری افتادز پاہائے

سچ تو یوں ہے کہ یہ دہر آشوب غم ہے مجموع اہل ہند ماتم دار و سوگوار ہوں تو بھی کم ہے۔ اگرچہ میں کیا اور میری دعا کیا مگر اس کے سوا کہ مغفرت کی دعا کروں اور کیا کروں۔ قطعہ سالِ رحلت نواب غفران مآب جب دل خار خار غم سے پُر خون ہوا ہے تو یوں موزوں ہوا ہے ؎

گردید نہاں مہر جہانتاب دریغ
شد تیرہ جہاں بچشمِ احباب دریغ

ایں واقعہ راز روئے زاری غالبؔ
تاریخ رقم کرد کہ نواب دریغ

ازروئے زاری زاءِ ہوز کے عدد بڑھائے جائیں تو سنہ ۱۲۸۰ ھ پیدا ہوتے ہیں فہذا المطلوب شریک بزم ماتم منشی میاں داد خاں صاحب کو سلام۔ یکشنبہ بست و یکم ربیع الاول ۱۲۸۰ ہجری مطابق ششم ستمبر ۱۸۶۳ء


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…