مرزا اسداللہ خاں غالب دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، …

مرزا اسداللہ خاں غالب

دل ہی تو ہے نہ سنگ و خشت، درد سے بھر نہ آئے کیوں
روئیں گے ہم ہزار بار، کوئی ہمیں ستائے کیوں

دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں
بیٹھے ہیں رہ گزُر پہ ہم، غیر ہمیں اُٹھائے کیوں

جب وہ جمالِ دل فروز، صورتِ مہرِ نیم روز
آپ ہی ہو نظارہ سوز، پردے میں منہ چھپائے کیوں

دشنۂ غمزہ جاں سِتاں، ناوکِ ناز بے پناہ
تیرا ہی عکسِ رُخ سہی، سامنے تیرے آئے کیوں

قیدِ حیات و بندِ غم، اصل میں دونوں ایک ہیں
موت سے پہلے آدمی، غم سے نجات پائے کیوں

حُسن اور اُس پہ حُسنِ ظن، رہ گئی بوالہوس کی شرم
اپنے پہ اعتماد ہے، غیر کو آزمائے کیوں

واں وہ غرورِ عزّ و ناز، یاں یہ حجابِ پاس وضع
راہ میں ہم ملیں کہاں، بزم میں وہ بلائے کیوں

ہاں وہ نہیں خُدا پرست، جاؤ وہ بے وفا سہی
جس کو ہوں دین و دل عزیز، اُس کی گلی میں جائے کیوں

غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
روئیے زار زار کیا، کیجئے ہائے ہائے کیوں


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
7 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    Waaah

  2. گمنام کہتے ہیں

    Wahhhhh Wahhhhh
    Bahot aala ,

  3. گمنام کہتے ہیں

    قیدِحیات بندِغم اصل میں دونوں ایک ہیں
    موت سے پہلے آدمی غم سے نجات پائے کیوں

  4. گمنام کہتے ہیں

    wah wah lajawab

  5. گمنام کہتے ہیں

    غالبِ خستہ کے بغیر کون سے کام بند ہیں
    روئیے زار زار کیا، کیجئے ہائے ہائے کیوں

  6. گمنام کہتے ہیں

    دیر نہیں، حرم نہیں، در نہیں، آستاں نہیں
    بیٹھے ہیں ،،رہگزر،، پہ ہم ،،غیر، ، ہمیں اٹھائے کیوں

  7. گمنام کہتے ہیں

    Bht alaaaa

جواب چھوڑیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…