دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں پیر نصیر الدی…

دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
پیر نصیر الدین شاہ نصیر
دین سے دور، نہ مذہب سے الگ بیٹھا ہوں
تیری دہلیز پہ ہوں، سب سے الگ بیٹھا ہوں

ڈھنگ کی بات کہے کوئی، تو بولوں میں بھی
مطلبی ہوں، کسی مطلب سے الگ بیٹھا ہوں

بزم احباب میں حاصل نہ ہوا چین مجھے
مطمئن دل ہے بہت، جب سے الگ بیٹھا ہوں

غیر سے دور، مگر اس کی نگاہوں کے قریں
محفل یار میں اس ڈھب سے الگ بیٹھا ہوں

یہی مسلک ہے مرا، اور یہی میرا مقام
آج تک خواہش منصب سے الگ بیٹھا ہوں

عمر کرتا ہوں بسر گوشۂ تنہائی میں
جب سے وہ روٹھ گئے، تب سے الگ بیٹھا ہوں

میرا انداز نصیرؔ اہل جہاں سے ہے جدا
سب میں شامل ہوں، مگر سب سے الگ بیٹھا ہوں


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…