ملاقاتیں کیا کیا۔۔۔ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

یہ ان دنوں کی بات ہے جب میَں اخبارات و جرائد کے ناموں سے نا آشنا تھی۔ روزنامہ، ہفت روزہ اور ماہنامہ تو میَں نے سنا ہی نہ تھا۔ روزناموں اور ہفت روزوں کے درمیان صرف چند نام میری زبان پر تھے جن میں سے ایک اردو ڈائجسٹ تھا۔ مجھے یہ بھی معلوم نہ تھا کہ یہ ماہنامہ ہے۔  میَں نے جو تھوڑا بہت اردو میں کمال حاصل کیا اس کے عقب میں اردو ڈائجسٹ جیسے جرائد کا ہی اثر و رسوخ ہے۔ آج جب میَں ربا صدی پہلے کے زمانے میں عالمِ تصور میں دیکھتی ہوں کہ آج کی طرح اس دور میں بھی روزناموں کی شکل میں بےشمار اخبارات موجود تھے۔ مگر اردو ڈائجسٹ ان سب پر غالب تھا۔ اسکی وجہ میَں سمجھتی ہوں کہ اس میں وہ سب کچھ تھا جو پورا مہینہ ہم سے اختتام پذیر نہ ہوتاتھا۔سیاست، ثقافت، ادب اور فنونِ لطیفہ کی تمام اصناف سے سیراب و شاداب اردو ڈائجسٹ کے انتظار میں گھر کا ہر فرد رہتا تھا۔ الطاف حسن قریشی کے قلم سے "اپنی بات” ایسے محسوس ہوتی تھی کہ یہ بات پوری قوم کی ہے۔ رنگا رنگ تحریروں کی میَں تو اسیر ہو چکی تھی۔ آج جب ان کی کتاب” ملاقاتیں کیا کیا” منظرِ عام پر آئی ہے تو مجھے یہ محسوس ہوتا ہے کہ میَں فیلڈ مارشل محمد ایوب خان، ذوالفقارعلی بھٹو، شیخ مجیب الرحمان، شاہ فیصل، مولانا مودودی، سہروردی، مولوی تمیز الدین، جسٹس ایس اے رحمان، چودھری محمد علی، ڈاکٹر سید عبداللہ، کے کے بروہی، خان آف قلات احمد یار خان، حمودالرحمان اور حکیم محمد سعید سے باالمشافہ مل چکی ہوں اور ان کے حالاتِ زندگی آنکھوں کے سامنے گھوم رہے ہیں۔ یہ سب شخصیات پچھلی صدی میں قومی تحریکوں کی جان اور آن تھے۔ اتنی قد آور شخصیات کا انٹرویو لینا کسی ایسے صحافی کا ہی کام ہو سکتا ہے جو ان کو جانتا بھی ہو اور ان کی عادات سے بھی آشنا ہو۔الطاف حسن قریشی نے انٹرویو سے پہلے اپنا پورا ہوم ورک کیا ہوتا ہے۔تحمل، بردباری، شائستگی اور احترام قریشی صاحب کی شخصیت کا خاصہ ہے۔اہم شخصیات کے جیتے جاگتے انٹرویوز نئی نسل کے لئے نصف صدی کی پوری تاریخ ہے۔عالمِ اسلام کے عظیم ہیرو شاہ فیصل جن کا نام مسلمان ادب اور احترام سے لیتے ہیں، اس بادشاہ سےہمکلامی کا  باالمشافہ شرف پاکستان کے جس عظیم صحافی کوحاصل ہے وہ ملاقاتیں کیا کیا کے مصنف الطاف حسن قریشی ہی ہیں۔ آم کے آم، گٹھلیوں کے دام، اللہ کے گھر کی زیارت، روضہ رسول پر حاضری اور عمرہ کی سعادت شاہ فیصل کے انٹرویو کی برکات ہیں۔ الطاف صاحب نے ان انٹرویوز کو ملاقاتی خاکوں کا بھی نام دیا ہے۔ان خاکوں نے صحافت کی دنیا کو بے پناہ مواد فراہم کیا ہے۔ملا قاتیں کیا کیا میں مصنف کی ایک نعت جو 1967 میں حج کی ادائیگی کے دوران لکھی گئی، بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ وہ غزل جو مولانا موددی کو سعودی عدالت سے سزائے موت سنائے جانے پر 1953 میں لکھی گئی، اور وہ شاعری بھی جو مولانا کے انتقال پر 1979 میں لکھی، وہ بھی شامل ہے۔ ترکی میں جو چند روز رہے، وہ بھی شاعری میں ڈھال دیئے۔ پسِ دیوارِ زنداں بھی شاعری کی۔ یہ تمام شاعری اس کتاب میں موجود ہے۔میری ان سے زیادہ زندگی کے ماہ و سال پر محیط زندہ جاوید انٹرویوز کی اہمیت آج بھی اتنی ہی ہے جتنی کے نصف صدی پہلے ۔یہ تحریر الطاف حسن قریشی سے خامہ حق سے قرطاس پہ آ رہی تھی۔ لمحہ موجود میں تو ان انٹرویوز کی اہمیت اور دوچند ہو جاتی ہے جب نصف صدی پہلے کی آمریت اور موجودہ جمہوریت کے تیور یکساں محسوس ہوتے ہیں۔ اس گھٹن کے دور میں حق گو صحافی کی حیثیت سے الطاف حسن نے اپنا نام پیدا کیا۔ انھوں نے عہدِ ایوبی میں صبر ایوب سے کام لیا اور اس دور کے آمر کی کج کلامی کے باوجود اپنے سیدھےسادے بے میل اور شفاف سوالات سے عہدِ گزشتہ کی تاریخ مرتب کر دی جو نہ صرف موجودہ دور بلکہ آنے والی نسلوں کے لئےبھی بہت بڑا سرمایہ ثابت ہو گی۔ کہتے ہیں لکھنے کے لئے دیکھنے والی آنکھ، محسوس کرنے والا دل، اور سوچنے والا ذہن اور جرات درکار ہوتی ہے۔ اور یہ چاروں عناصر آنکھ ،دل، ذہن اور جرات، آپ کو اس کتاب میں جا بجا ملے گی۔دو سو سے زائد اہم شخصیات کے انٹرویوز الطاف حسن قریشی نے کئے جبکہ اس کتاب میں کئی جیتے جاگتے انٹرویوز شامل کئے گئے۔ مجھے امید ہے کہ اس کے مزید ایڈیشنز طباعت کے مراحل میں ہونگے۔الطاف حسن قریشی صاحب کو قدرت کی طرف سے جو صلاحیتیں ودیعت ہوئی ہیں ان میں سب سے اچھی صلاحیت مجھے اس کتاب کے مطالعہ سے معلوم ہوئی کہ بڑے سے بڑے آمر اور عوامی لیڈر سے ایسے سوالات کرنا جو جواب دینے والے کے لئے ناگوار بھی ہوں مگر پھر بھی اس کو خوشگواری سے ہی جوابات دینے پڑتے ہیں۔اشاروں اور کنایوں سے بھی قریشی صاحب نے کام لیا ہے۔ آپ کی اس سچائی اور راست بازی کے عقب میں یقیناً ان کی والدہ کی طبیعت کارفرما ہے۔الطاف حسن قرشی نے جن شخصیات کے انٹرویوز کئے یہ وہ لوگ ہیں جو نہ صرف پاکستانی تاریخ پر اثر انداز ہوئے بلکہ جغرافیہ  پر بھی۔ ان میں ایسی بھی شخصیات ہیں جو اپنی قوم کے ساتھ مخلص تھے۔انھوں نے اس ملک کو بہت کچھ دیا۔حکیم سعید ، پروفیسر حمید احمد خان، ڈاکٹر سید عبداللہ، جسٹس ایس اے رحمان اور مولانا ظفر احمد انصاری یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے اپنی ملت کے لئے اور ملک کے وسیع تر مفادات کے لئے اپنی ذاتی اغراض کی بے مثال قربانیاں دیں۔ قوم کے اجتماعی ضمیروں میں ان کا احترام موجود ہے۔الطاف حسن قریشی کا صحافت پر بہت بڑا احسان ہے  اور ان کے ان احسانات کا قرض کبھی بھی نہیں اتارا جا سکتا۔اس کتاب کی آفادیت تاریخی حقیقت ہے۔ ملاقاتوں کے بعد اس جلیل القدر صحافی کو پسِ دیوارِ زنداں بھی رہنا پڑا۔ اگر آپ اپنی تحریر سے مکر جاتے اورصدر ایوب کی بات مان لیتےاور ان کے جواب کی تردید فرما دیتے تو آپ کو اذیت ناک جیل کے ماہ و سال بسر کرنے کی شائد ہی ضررورت پیش آتی۔ مگر حق گوئی اور بے باکی تو آپ کی سرشت میں شامل ہے۔ یہ انٹرویو 1961 سے 1977 تک پھیلے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک دو بڑی اہم شخصیات زندہ ہیں ۔ ایک ایس ایم ظفر اور دوسرے ائیر مارشل اصغر خاں۔ (اللہ تعالیٰ ان کو تا دیر سلامت رکھے، باقی سب اللہ کو پیارے ہو چکے ہیں)۔ پرانی اور نئی دونوں نسلوں کے لئے یہ تاریخی کتاب بڑی معلوماتی اور تاریخی اہمیت رکھتی ہے۔ ملکوں کے سربراہوں کا انٹرویو کرنا کوئی معمولی بات نہیں۔ اس کے لئے سفر، روپیہ اور عمرِ عزیز کا قیمتی وقت وقف کرنا پڑے پھر کہیں جا کے یہ اوراق ہمارے سامنے شیرازہ بند ہو کر آتے ہیں۔ دو سو سے زائد مشاہیر کے انٹرویوز لینے والے اس صحافی کو یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ سوائے مجیب الرحمان کے کہیں سے بھی کوئی اعتراض نہیں آیا۔چیف جسٹس ایس کےرحمان نے تلہ سازش کے ٹربیونل کی سربراہی کیسے قبول کی اور وہ کون سا راز تھا اس کو بھی اس کتاب میں طشت ازبام کر دیا گیا ہے۔الطاف حسن قریشی نے یہ کتاب لکھ کر اردو ادب اور صحافتی ادب کو بہت خوبصورتی سے ایک کر دیا ہے۔انٹرویو لینے کے لئے جو اسلوب اختیار کیا وہ نہایت دل کو چھو لینے والا اور منفرد ہے۔ اس میں روایتی سوالات کی بجائے تاریخ مرتب ہوتی نظر آتی ہے۔سیاسی، نظریاتی، سماجی، تہذیبی اور آئینی مسائل پہ تحقیق کرنے والوں کو اس کتاب کا مطالعہ ضرور کرنا چاہئے۔انٹرویوز کے ساتھ تفصیلی حواشی کے ذریعے قریشی صاحب نے ان انٹرویوز کو موجودہ زمانے سے منسلک کر دیا ہے اور جہاں یہ انٹرویو تاریخ کا ایک بیش بہا خزانہ ہیں وہاں موجودہ دور کی کہانی بھی معلوم ہوتے ہیں۔

جواب چھوڑیں