بہادر شاہ ظفر نے اِس غزل میں دنیا کی بے ثباتی کے م…


بہادر شاہ ظفر نے اِس غزل میں دنیا کی بے ثباتی کے متعلق کیا ھی خُوب کہا۔ ٹینا ثانی نے بھی دِل سے گایا۔

جن گليّن ميں پہلے ديکھیں
لوگاں کی رَنگ رَلیّاں تھیں
پھر دیکھا تو اُن لوگاں بن
سُونی پڑی وہ گلیاں تھیں

ایسی اَکھیاں میچے پڑے ھیں
کروٹ بھی نہیں لے سکتے
جن کی چالیں اَلبیلی اور
چلنے میں چَھَل بلیّاں تھیں

خاک اُن کا بستر ھے
اور سَر کے نیچے پتھر ھے
ھائے وہ شکلیں پیاری پیاری
کس کس چاؤ سے پلیّاں تھیں

تلخی اُٹھائی ، موت بھی چکھی
خاک سب اُن کو چاٹ گئی
جن کی باتیں میٹھی میٹھی
مِصری کی سی ڈلیاں تھیں

”بہادر شاہ ظفر“

بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب چھوڑیں