برکھا رُت میں ایک دن جس وقت کہ ھم لوگ جُھول جُھول …


برکھا رُت میں ایک دن جس وقت کہ ھم لوگ جُھول جُھول کر کَجریاں سُن رھے تھے اور باورچی خانے کے برساتی پکوانوں کا نمکین دُھواں نیم کی شاخوں کے نیچے مَچل رھا تھا کہ میری کِھلائی ھانپتی کانپتی لکڑی ٹیکتی آئیں ، گانے والیوں سے کہا ، بچیو، ذرا ٹھہر جاؤ ، آج یہ پُھوس بڑھیا گائے گی۔

وہ سب کی سب ، پیچھے سِرک سِرک کر بیٹھ گئیں۔ بڑی بی نے اپنی سَر کی چادر پھینک دی۔ اُن کے سفید بال اُڑنے لگے۔ اور اپنے سینے پر ھاتھ رکھ کر بڑے درد ناک لہجے میں گانا شروع کردیا۔ گانا نہیں ، یہ نوحہ شروع کردیا۔

ھائے ، تمرے بناں برکھا نہ سُہائے
ارے مورے کلکتے کے جوّیا
اللہ تمہیں لائے، ھائے ، اللہ تمہیں لائے

بڑی بی کو گاتے اور روتے ھُوئے دیکھا تو میں جُھولے سے کُود پڑا اور اُن کے سینے سے جا کر لپٹ گیا اور پُھوٹ پُھوٹ کررونے لگا۔ میرے روتے ھی تمام گانے والی چھوکریاں بھی منہ پر پلُو رکھ کر رونے لگیں۔

میری انتہائی مغلوب الغضب پُھپھی نواب بیگم نے ایسا دَرد بھرا گیت گانے پر بڑی بی کو ڈانٹا۔

بڑی بی پر جب یہ ڈانٹ پڑی تو اُن کا لتاپتا دِل جو پچاسی برس سے مسلسل دَھڑک رھا تھا بُری طرح زخمی ھو گیا۔ انہوں نے اپنی بیٹھے ھُوئے کنویں کی سی ، خُوں بار آنکھیں اُٹھائیں اور تھرائی آواز میں کہا ، ”نبن بی بی، میں سَر جُھکائے دیتی ھُوں، چاھو تو مجھ آج نہیں ، تو کل مَری ، بڑھیا کو جی بھر کے مار لو، میں تو آدھی سے زیادہ قبر میں اُتر چکی ھُوں.

لیکن نبن بی بی! ھات جوڑ کر کہتی ھوں ذرا انصاف سے کام لو، اپنی چھاتی پر ھاتھ رکھ کر سوچو ، ”کہ برکھا رُت مینہ برسائے ، اور ھائے جان عالم پیا کی یاد نہ آئے ؟؟“

ھائے ، قیصر باغ میں برکھا کے جُھولے خود دیکھے ھُوئے ھوں، میری آنکھوں میں پھر رھی ھیں وہ بہاریں ، ھائے میرے جان عالم پیا ، موئے فرنگیوں نے گلا گھونٹ کر تم کو مار ڈالا ھے ھائے لکھنؤ کا سہاگ لٹ گیا. ھائے قیصر باغ کی بارہ دری اندھیرے میں ڈُوب گئی۔ ھائے شہزادیاں ٹھوکریں کھاتی پھرنے لگیں۔

اتنا کہہ کر، بڑی بی نے اپنی آنکھوں پر دوبارہ پلو رکھ لیا اور رو رو کر گانے لگیں۔

ھائے تمرے بناں برکھا نہ سہائے
ارے مورے کلکتے کے جوّیا
اللہ تمہیں لائے، اللہ تمہیں لائے

بڑی بی کے اِس درد دِل نے پُورے گھر کو ھِلا کررکھ دیا۔ سب کی آنکھوں سے بیران جاری ھو گئے۔

میری ماں نے چیخ ماری، میری غضب ناک پُھپھی کی بھی ھِچکیاں بندھ گئیں، دادی جان بھی منہ پر آنچل لے کر رونے لگیں ، اور گانے والی چھوکریوں کا تو بُرا حال ھو گیا اور گھر کا ذرہ ذرہ چیخنے لگا۔

اللہ تمہیں لائے
ھائے ، اللہ تمہیں لائے
اللہ تمہیں لائے ، اللہ تمہیں لائے ۔

”جوش ملیح آبادی“

”یادوں کی بارات“ سے اقتباس

بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب چھوڑیں