عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں اور…

عشق آباد فقیروں کی ادا رکھتے ہیں
اور کیا اس کے سوا اہلِ انا رکھتے ہیں

ہم تہی دست کچھ ایسے بھی تہی دست نہیں
کچھ نہیں رکھتے مگر پاسِ وفا رکھتے ہیں

زندگی بھر کی کمائی یہ تعلق ہی تو ہے
کچھ بچے یا نہ بچے اُس کو بچا رکھتے ہیں

شعر میں پھوٹتے ہیں اپنی زباں کے چھالے
نطق رکھتے ہیں مگر سب سے جُدا رکھتے ہیں

ہم نہیں صاحبِ تکریم تو حیرت کیسی
سر پہ دستار نہ پیکر پہ عبا رکھتے ہیں

شہرِ آواز کی جھلمل سے دمک اُٹھیں گے
شبِ خاموش کی رُخِ شمع نوا رکھتے ہیں

اِک تری یاد گلے ایسے پڑی ہے کہ نجیبؔ
آج کا کام بھی ہم کل پہ اُٹھا رکھتے ہیں

نجیبؔ احمد

المرسل: فیصل خورشید


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…