امجد پر نظم لکھنا ختم ھے۔ بہت ھی من موھنی نظم جسے …

امجد پر نظم لکھنا ختم ھے۔ بہت ھی من موھنی نظم جسے نغمگی کی خُوبصُورت شکل میڈم نور جہاں نے گا کر دی۔ 80 کی دھائی کا پی ٹی وی کا سپر ھٹ گانا۔

میں تیرے سنگ کیسے چلوں سجنا ؟؟
تُو سمندر ھے ، میں ساحلوں کی ھَوا

تم میرا ھاتھ ھاتھوں میں لے کے چلے
مہربانی تیری

تیری آنکھوں سے دل کا دریچہ کھلے
میں دیوانی تیری

تو غبارِ سُخن ، میں فضاء کے صدا.
تُو سمندر ھے ، میں ساحلوں کی ھَوا

تو بہاروں کی ، خوشبو بھری شام ھے
میں ستارہ تیرا

زندگی کی ضمانت تیرا نام ھے
تُو سہارا میرا

میں نے سارے زمانے میں ، تجھ کو چُنا.
تُو سمندر ھے ، میں ساحلوں کی ھَوا

تم چلو تو ستارے بھی چلنے لگیں
آنسوؤں کی طرح

خواب ھی خواب ، آنکھوں میں جلنے لگیں
آرزو کی طرح.

تیری منزل بنے ، میرا ھر راستہ
تُو سمندر ھے ، میں ساحلوں کی ھَوا

”امجد اسلام امجد“


بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب چھوڑیں