نینی مظفر زندگی ہو گئ بسر تنہا قافلہ ساتھ اور سف…

نینی مظفر

زندگی ہو گئ بسر تنہا
قافلہ ساتھ اور سفر تنہا

ہر طرف شور و غل ہے لوگوں کا
اور نیزے پہ ایک سر تنہا

کس طرح توڑ دوں میں زنجیریں
کس طرح چھوڑ دوں میں گھر تنہا

دیکھ پہلے نہیں کمی کوئی
اور مجھ کو نہیں تو کر تنہا

ہونٹ کرتے ہیں پیاس کا گریہ
آہ بھرتی ہے چشمِ تر تنہا

چار سو بھیڑ ہے قیامت کی
جی رہی ہوں یہاں مگر تنہا

کیا خبر اس کو مر چکی ہوں میں
کہہ رہا ہے جو مجھ کو مر تنہا


جواب چھوڑیں