مجھے اپنی محبت کے سمندر سے فقط دو چار اشکوں کی رَط…


مجھے اپنی محبت کے سمندر سے
فقط دو چار اشکوں کی رَطُوبت دے
کہیں سے ٹُوٹ کر بکھری ھُوئی اپنی کہانی میں
مجھے اِک لفظ لکھنے کی سعادت دے
مجھے وہ خواب چننے کی اجازت دے
جو بِن دیکھے تیری آنکھوں میں بکھرے ھیں

میں اپنا جسم اوڑھے کب سے بیٹھا ھُوں
مجھے پہچان ، مجھ کو آشنائی دے

”نصیر احمّد ناصر“

بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

جواب چھوڑیں