شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں علی جواد زی…

شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں
علی جواد زیدی
شکوے ہم اپنی زباں پر کبھی لائے تو نہیں
ہاں مگر اشک جب امڈے تھے چھپائے تو نہیں

تیری محفل کے بھی آداب کہ دل ڈرتا ہے
میری آنکھوں نے در اشک لٹائے تو نہیں

چھان لی خاک بیابانوں کی ویرانوں کی
پھر بھی انداز جنوں عقل نے پائے تو نہیں

لاکھ پر وحشت و پر ہول سہی شام فراق
ہم نے گھبرا کے دیے دن سے جلائے تو نہیں

اب تو اس بات پہ بھی صلح سی کر لی ہے کہ وہ
نہ بلائے نہ سہی دل سے بھلائے تو نہیں

ہجر کی رات یہ ہر ڈوبتے تارے نے کہا
ہم نہ کہتے تھے نہ آئیں گے وہ آئے تو نہیں

انقلاب آتے ہیں رہتے ہیں جہاں میں لیکن
جو بنانے کا نہ ہو اہل مٹائے تو نہیں

اپنی اس شوخی رفتار کا انجام نہ سوچ
فتنے خود اٹھنے لگے تو نے اٹھائے تو نہیں

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…