آج اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ ک…

آج اردو کے پہلے صاحب دیوان شاعر محمد قلی قطب شاہ کا یومِ پیدائش ہے۔
April 14, 1565

اُردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعر، ابوالمظہر محمد قلی قطب شاہ کی ولادت 14 اپریل 1565ء بروز جمعہ ہوئی، جو گولکنڈہ کا پانچواں تاجدار گزرا ہے۔ محمد قلی قطب شاہ، محمد ابراہیم قطب شاہ کا تیسرا فرزند تھا۔ اس کی والدہ کا نام رانی بھاگ رتی بائی تھا۔ مؤرخین کا اس امر پر عمومی اتفاق ہے کہ اس کا دور نہایت امن و امان، خوشحالی اور دولت و ثروت کی فراوانی کا دَور تھا۔ گولکنڈہ کے حدود سلطنت میں واقع سونے اور ہیرے کی کانیں دولت اُگل رہی تھیں اور ہر لحاظ سے قطب شاہی سلطنت کی عظمت اپنے انتہائی عروج پر تھی۔ محمد قلی قطب شاہ کو فن تعمیر سے غیر معمولی دِلچسپی تھی اور وہ شہری منصوبہ بندی اور عظیم عمارتیں بنانے کا زبردست شوق رکھتا تھا۔ اس کے والد نے اپنی زندگی میں موسیٰ ندی کے کنارے ایک نیا شہر بسانے کا اِرادہ کیا تھا اور اس ندی پر ایک پُل بھی تعمیر کرایا تھا، لیکن موت نے اسے مہلت نہ دی اور اس تاریخی کام کی انجام دہی اس کے عظیم اور شوقین فرزند کے حصہ میں آئی۔ ایک روایت یہ ہے کہ محمد قلی قطب شاہ نے بھاگ متی نامی ایک رقاصہ کی محبت میں ’بھاگیہ نگر‘ آباد کیا اور جب اسے ’حیدر محل‘ کا خطاب دیا گیا تو اسی مناسبت سے شہر کا نام بھی ’’حیدرآباد‘‘ رکھ دیا گیا اور دوسری روایت یہ ہے کہ محمد قلی قطب شاہ نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے اپنی عقیدت کی بناء پر شہر کا نام حیدرآباد رکھا۔ چارمینار، دولت خانہ عالی، خداداد محل، محل کوہ طور، سجن محل، حیدر محل، حنا محل اور جامع مسجد جیسی عمارتیں بھی اسی حکمراں کے دَور کی یادگاریں ہیں۔
دور رس سیاسی نتیجہ خیزی کے اعتبار سے محمد قلی قطب شاہ کے دَور کا ایک اہم واقعہ تو یہ ہے کہ بیجاپور کے ابراہیم عادل شاہ اور محمد قلی قطب شاہ کی بہن کے درمیان رشتہ مناکحت قائم ہوا اور دوسرا تاریخی واقعہ یہ ہے کہ 1611ء میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے پہلی بار مسولی پٹنم میں اپنی ’ایجنسی‘ قائم کی۔ محمد قلی قطب شاہ کا انتقال 1611ء میں ہوا۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہجری و عیسوی تقویم کے مطابق اور متفرق اقوال کی رُو سے محمد قلی کی تاریخ ولادت و وفات میں ہلکا سا اختلاف بھی ملتا ہے، لیکن فی الوقت اس کی طرف جانا ہمارا مقصودِ موضوع نہیں۔
محمد قلی قطب شاہ کو تاریخ میں ایک علم نواز، اَدب دوست اور اُردو اور تلنگی زبان کی مربی کی حیثیت سے یاد کیا جاتا ہے۔ محمد قلی قطب شاہ کے سوانح نگار بہرحال اس بات پر متفق نظر آتے ہیں کہ وہ اپنے والد کی طرح علم نواز اور اَدب دوست بادشاہ تھا۔ اس نے فارسی و عربی کی تعلیم و ترقی کا بہت خیال رکھا۔ ساتھ ہی وہ خود تلنگی زبان سے دِلچسپی رکھتا اور اس میں شعر کہا کرتا تھا۔ قلی قطب شاہ کی دکنی اُردو میں شاعری، اُردو زبان کی تاریخ میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہی زبان کا پہلا صاحبِ دیوان شاعر تھا جس نے تمام اصناف سخن، نظم، غزل، رباعی، نوحہ، مرثیہ، حمد، نعت اور منقبت میں طبع آزمائی کی ہے۔ وہ انسانیت دوست اور منصف مزاج بادشاہ تھا۔ تعمیرات کے شوق اور علم دوستی کے علاوہ وہ عوامی تقریبات اور تہواروں میں دِل کھول کر حصہ لیتا تھا۔
محمد قلی قطب شاہ کی اُردو شاعری سے ہمیں پتہ چلتا ہے کہ وہ کس قدر یہاں کے کلچر میں ڈوبا ہوا تھا۔ عید میلاد النبیؐ وغیرہ کے علاوہ اس کی نظمیں بسنت، ہولی اور تلنگن، اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اس میں اِسلامی روایات کے علاوہ یہاں کی مقامی روایتیں بھی مکمل طور پر رچ بس چکی تھیں۔ محمد قلی قطب شاہ پرگو اور قادر الکلام شاعر تھا۔ اس نے کئی تخلص استعمال کئے۔ محمدؔ ، قطبؔ ، قطبؔ شاہ، ترکمانؔ اور معانیؔ اس کے مشہور تخلص ہیں۔ معانیؔ کی شاعری کا خاص وصف یہ ہے کہ اس میں ہر جگہ مقامی رنگ جھلکتا ہے۔ اس نے ہندوستانی تہوار، موسم، میلے ٹھیلے، غرض کہ مختلف موضوعات پر نہایت خوبصورت نظمیں لکھی ہیں۔ اس حکمراں شاعر نے ہندوستانی دیومالا سے بھی کافی استفادہ کیا ہے۔ ممکن ہے کہ فراقؔ گورکھپوری کی اس رائے سے کلیتاً اختلاف نہ کیا جاسکے کہ قلی قطب شاہ کی غزلوں میں ’بھوگ بلاس‘ کی فضا ملتی ہے، لیکن اسی کے ساتھ ساتھ یہ کہنا بھی غلط نہیں کہ اسکے خیالات میں بلندی ہے اور بحیثیت مجموعی اس کا کلام بہترین تخیل کا آئینہ دار ہے۔
قطب شاہ کا کلام صرف عشقیہ موضوعات سے ہی آراستہ و پیراستہ نہیں بلکہ اس میں تصوف و روحانیت کے مضامین بھی ملتے ہیں۔ ہم قلی قطب شاہ کو ایک کامیاب مترجم شاعر کی حیثیت سے بھی دیکھتے ہیں اور اس کے مرتبے کا اعتراف کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اس کی وجہ جیسا کہ کہا جاچکا، یہ ہے کہ اس کے یہاں صرف طبع زاد کلام ہی نہیں ملتا بلکہ اس کی کلیات میں خواجہ حافظؔ شیرازی کی غزلوں کا کامیاب منظوم ترجمہ بھی موجود ہے۔ ’’انتخاب معانیؔ ‘‘ کے مرتب نے اپنے مقدمہ میں محمد قلی قطب شاہ کی شاعرانہ عظمتوں پر روشنی ڈالتے ہوئے غلط نہیں لکھا ہے کہ ایک عظیم شاعر کی طرح اس کی شخصیت کے تمام پہلو اس کی شاعری میں نظر آتے ہیں اور اس کا کلام کسی بھی ملک الشعراء کے کلام کے مقابلہ میں پیش کیا جاسکتا ہے۔ معانیؔ کے یہاں نظموں میں بالعموم اور غزلوں میں بالخصوص کیف و لذت کی فراوانی ملتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ناقدین نے اسے ’اُردو کا کیٹس‘ کہا ہے۔ معانیؔ کا کلام اگر دکن کی اُردو شاعری کے مقابلہ میں رکھا جائے تو بھی اس کی انفرادیت اپنا لوہا منوانے پر مجبور کردیتی ہے۔
معانیؔ کا دیوان اس کی بے مثل زودگوئی اور مذاق سلیم پر گواہ ہے اور لطف کی بات یہ ہے کہ اس قدر بسیار نویسی اور ارتجال گوئی کے باوجود اس نے اعتدال کا دامن کہیں ہاتھوں سے جانے نہیں دیا ہے۔ معانیؔ کے کلام میں موضوعات کی وسعت اور اس کے مشاہدے کی گہرائی یقیناًقاری کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیتی ہے۔ معانیؔ فطرتاً عاشق مزاج اور ’’بابر بہ عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست‘‘ پر گویا اِیمان رکھنے والا شاعر ہے اور اس خیال کا علمبردار کہ وہ عشق ہی کے لئے پیدا کیا گیا ؂
عالم منجے تعلیم کریں علم و ہنر کا
لکھے ہیں ازل تھے ہمنا عشق قرارا
معانیؔ کو خاقانیؔ اور حافظؔ سے خاص لگاؤ تھا۔ پروفیسر زورؔ قادری نے اسے ’’دیوانِ حافظؔ کا حافظ ہی نہیں گویا‘‘ بھی کہا ہے تو غلط نہیں کہا۔ جہاں تک خاقانیؔ کی بات ہے، اس تعلق سے معانیؔ کا یہ مقطع مشہور ہے ؂
نزاکت شعر کے فن میں خدا بخشا ہے تو تجکوں
معانیؔ شعر تیرا ہے کہ یا ہے شعر خاقانیؔ
صرف یہ مقطع ہی نہیں بلکہ ایک لحاظ سے کہا جاسکتا ہے کہ مقطوں کے حوالے سے خصوصیت کے ساتھ معانیؔ کی تعلیات کا اپنا ایک خاص مرتبہ ہے، کیونکہ اس میں تنقید و تبصرہ کی جھلک بھی آگئی ہے ؂
خاقانیؔ و نظامیؔ کا قطبؔ شہ ہے شاگرد
شاہنامے کی کہانیاں سر تھے سنائی مجکوں
شعر تیرا در و گوہر ہے معانیؔ سب میں
شعر حافظؔ کے سر اُوپر ہے تاج پرویز
معانیؔ کی شعری لفظیات پر نظر ڈالیں تو اندازہ ہوسکتا ہے کہ اس نے فارسی کے ساتھ کلمات محلی، ہندی تلمیحات و تشبیہات اور استعارات کا استعمال کچھ اس طرح کیا ہے کہ فارسی کی غنائیت کہیں بھی شاکی نہیں ہونے پائی ہے۔ معانیؔ کے کلام پر اگرچہ ابھی بہت کچھ لکھنے کی گنجائش باقی ہے، مگر یہ اشارات یقیناًیہ ذہن دینے میں مددگار ہوں گے کہ تاریخی و ادبی اور لسانی اعتبار سے سلطان محمد قلی قطب شاہ کو عوامی اور عظیم المرتبت شاعر کہنے میں کسی تردید کا کوئی خوف نہیں۔
۔۔۔۔۔
بشکریہ: انوار محمد عظیم آبادی


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
1 تبصرہ
  1. گمنام کہتے ہیں

    Informative post

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…