حدتِ شوق سے جلتے ہیں شراروں کے ہجوم آسماں سےاتر آئ…

حدتِ شوق سے جلتے ہیں شراروں کے ہجوم
آسماں سےاتر آئے ہیں ستاروں کے ہجوم

غرق ہو جائیں سمندر میں کہیں سوچا تھا
ہائے قسمت ہمیں ملتے ہیں کناروں کے ہجوم

جان کو اپنی چھڑا لائیں ہیں ویرانوں میں
شہر میں جان کو آتے ہیں سہاروں کے ہجوم

کتنے پر کیف ہیں رنگین خزاں کے موسم
جی جلاتے ہیں بہاراں میں بہاروں کے ہجوم

ایک منظر کہ رہا یاد ہمیشہ ہم کو
گر چہ وابستہ رہے ہم سے نظاروں کے ہجوم

دل کی وابستگی اک شخص سے مشروط رہی
یوں تو ملتے ہی رہے زیست میں یاروں کے ہجوم

آج اس شہرِ خموشاں میں چلے آئے ہیں
زندگی تو نے بسائے ہیں یہ پیاروں کے ہجوم

یونہی چپ چاپ پلٹ آئے ہیں خاموشی سے
ہم سے دیکھے نہ گئے درد کے ماروں کے ہجوم

دشت میں یوں ملا کرتے ہیں محبت سے ہمیں
پاؤں دھرتے ہیں تو ملتے ہیں یہ خاروں کے ہجوم

شائستہ مفتی


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
8 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    شہر میں جا ن کو آتے ھیں سہاروں کہ ھجوم کمال

  2. گمنام کہتے ہیں

    Mashallah

  3. گمنام کہتے ہیں

    بہت عنایت آپکی۔ 🌹

  4. گمنام کہتے ہیں

    شائستہ مفتی کے فتاویٰ کوسلام

  5. گمنام کہتے ہیں

    👌

  6. گمنام کہتے ہیں

    Bravo

  7. گمنام کہتے ہیں

    واہ واہ واہ، کمال

  8. گمنام کہتے ہیں

    mashallah,

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…