بسمہ اللہ الرحمن الرحیم السلام علیکم ورحمتہ اللہ …

📚بسمہ اللہ الرحمن الرحیم
📝السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ

✏گنج معنی کا طلسم اس کو سمجھئے
جو لففظ کہ غالب مرے اشعار میں آوے۔۔

✏اہلیان ادبیات سلسلہ وار سرگرمی ”شرح غزلیات غالب ”’
کا آغاز کیا گیا ہے اس سلسلے کی دوسری سرگرمی”دوسری غزل ”آپ سب کے ذوق مطالعہ کی نذر کی جارہی ہے ” میری بھرپور کوشش رہی کہ سادہ اور سلیس انداز بیان ہو تاکہ بآسانی تمام احباب سمجھ سکیں یہ غزل مفاہیم کے لحاظ سے جتنی سادہ ہے اتنی ہی پیچ دار ۔ ۔مرزا اسد اللہ خان ”غالب ”کی فکری جہت تک پہنچنا اور سمجھنا کافی مشکل امر ہے ۔۔کیونکہ غالب ایک شخص نہیں عہد ساز شخصیت ہے ۔’کلام غالب معنی و مفہوم کا ایک طلسم ہے جس کی کھوج فکر کے کئ نئے زاویئے اور ادراک کی کئ پرت کھولتی نظر آتی ہے۔”
📚📚📚📚📚📚📚

📖شعر اول✏
؂دھمکی میں مر گیا جو’نہ باب نبرد اتھا
عشق نبرد پیشہ طلبگار ۔ مرد تھا
📝فرہنگ۔۔۔
دھمکی۔۔۔خوف دلانا/چشم کشا/ ڈراوا دکھانا۔
نبرد۔۔۔جنگ اور مقابلہ کرنا
نبرد پیشہ ۔۔۔پیشہ ورانہ مہارت رکھنے والا
طلبگار۔۔۔خواستگار/خواہشمند
📖شرح شعر اول✏
غالب کہتے ہیں کہ عشق میں ہمت اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے اور مرد میدان ہی اس میں کامیاب ہوسکتا ہے کیونکہ عشق سے نبرد آزما ہونے کے لئے پامردی شجاعت کی ضرورت ہوتی ہے کیوں کہ اس سے نمٹنا آسان نہیں ہوتا ہے اور ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے عشق سے نبرد آزمائ کے لئے جنگجومزاج ہونے والا حوصلہ مند لوگ ہی مد مقابل آسکتے ہیں ہر کوئ میدان عشق میں قدم رکھنے کی ہمت کرسکتا ہے میدان عشق میں مقابلہ اور جنگ آزمائ تو دور کی بات عشق کی دھمکی بھی ہر ایک کے بس کی بات نہیں ہے ۔۔
”باب نبرد یعنی لائق نبرد مطلب یہ کہ جو شخص مرد میدان عشق نہ تھاوہ اسکی دھمکی میں مر گیا”طباطبائ ۔۔۱۰
📚📚📚📚📚📚
📚📚📚📚📚📚
📖شعر دوم ۔۔✏
؂تھا زندگی میں مرگ کا کھٹکا لگا ہوا
اڑنے سے پیشتر بھی مرا رنگ زرد تھا۔
📝 فرہنگ ۔
مرگ ۔۔۔مرنا /موت/قضا
کھٹکا۔۔۔چاپ /خوف
پیشتر۔۔۔بہت پہلے/ سابقہ
زرد۔۔پیلا /سنہرا
📖شرح شعر دوم ✏
موت کا خوف انسان کے چہرے پر زرد رنگ چڑھا دیتا ہے غالب کا یہ شعر اسی حقیقت کی ترجمانی کر رہا ہے موت یقینی ہے اس لئے موت کا خوف ہمہ وقت مجھ پر طاری رہتا ہے
؂موت کا ایک دن معین ہے
نیند کیوں رات بھر نہیں آتی
میری زندگی اس پرندے کی مانند ہے جسکو پرواز سے پہلے دام صیاد میں آنے کا خوف اڑان بھرنے سے روکتا ہے بے جان اور نڈھال کردیتا ہے موت کا خوف ہر لمحہ مجھے خوفزدہ رکھتا ہےیعنی زندگی کے ساتھ ساتھ موت کا ایسا کھٹکا لگا رہتا ہے مجھ پر زدرگی اور افسردگی زندگی کے ساتھ ساتھ چلتی ہے کہ جانے کونسا لمحہ قضائے حیات کو اپنا پابند کرجائے اور زندگی کی سانسیں تھم جائیں یہی خوف پل پل مجھے بے سکون رکھتا ہے
”’یعنی رنگ میرا جب نہین اڑا تھا جب بھی زرد تھا نہ مرنے کے بعد تو سبھی کا رنگ زرد ہوجاتا ہے اور مردنی چہرے پر چھاجاتی ہے یعنی اڑنے سے مراد مرنے کے وقت کا اڑتا رنگ مقصود ہے””طباطبائ
📚📚📚📚📚📚📚
📖شعر سوم ✏
؂تالیف نسخہ ہائے وفا کر رہا تھا میں
مجموعہ خیال ابھی فرد فرد تھا
📝فرہنگ
تالیف ۔۔دو چیزوں کو ملانا
مختلف کتب کے انتخاب سے ایک نئ کتاب مرتب کرنا
نسخہ ہائے وفا۔۔۔کتاب عشق مرتب کرنا
مجموعہ خیال۔۔۔خیالات کا مجموعہ
فرد فرد۔۔۔منتشر ۔۔یعنی بکھرا ہو
📖شرح شعر سوم ۔✏
مرزا کہتے ہیں کہ مجھے میدان عشق و وفا میں ابھی قدم رکھنا ہے میں تو اسوقت سے مبتلائے عشق ہوں جب میرے خیالات منتشر تھے ‘بکھرے ہوئے نا پختہ تھے میری ذہنی پختگی اس مرحلے تک نہین پہنچی تھی کہ اظہار عشق کرسکتا لیکن میں عہد طفلی سے ہی مبتلائے عشق تھا مجھے عشق ودیعت کیا گیا تھا عشق کی کتاب مرتب کر رہا ہوں جب سے عشق مجھ پر اثر پذیر ہوا ہے جو کہ فطری طور پر مجھ میں موجود ہے اور یہی عشق باب وفا میں میرا نام اونچا رکھے گا مجھ پر دنیائے آب گل کا رنگ غالب تھا حسن و عشق کے مظاہر میرے منظور نظر تھے اب سب منتشر کوششوں کو ایک مرکز پر لانے کی تمنا ہے
؂تازہ نہیں ہے تشنہ فکر سخن مجھے
تریاکی قدیم ہوں دود چراغ ہوں

اسی خیال کو غالب یوں بھی بیان کرتے ہیں۔۔
؂ فنا تعلیم درس بیخودی ہوں اس زمانے سے
کہ مجنوں لام الف لکھتا تھا دیوار دبستان پر
”یعنی فن عشق میں مجھے اور بھی مرتبہ تصنیف حاصل ہوچکا تھا میرے عقل و ہوش مجموعہ تک فرد فرد مرتب ہورہا ہے یعنی نا تجربہ کاری کا زمانہ تھا۔۔”طباطبائ
”یعنی ابتدا ہی سے بندہ عشق وفا ہوں جب کہ خیالات میں پختگی اور جامعیت بھی نہیں ہے۔۔حسرت موہانی”
📚📚📚📚📚📚📚

📖 شعر چہارم✏
؂دل تا جگر کہ ساحل دریائے خون ہے اب
اس رہگزر میں جلوہ گل آگے گرد تھا
📝فرہنگ
ساحل۔۔دریا یا سمندر کا کنارہ
دریائے خون۔۔۔خون کا دریا
رہگزر۔۔راستہ /منزل /رہبر
جلوہ گل۔۔۔پھولوں کا حسن /خوشبو
آگے گرد۔۔۔دھول’
📖شرح شعر چہارم✏
میرا دل بے وقعت تھا میرے دل سے جگر تک کی راہ خون کا دریا بنی ہوئ ہے ایک وقت تھا یہ شاداب و فرحاں تھی کہ اسکی جلوہ رنگینی بھی اس کے آگے بے وقعت و ہیچ تھی اسکے راہ کی دھول تھی دل و جگر شاداب و گلنار تھا لیکن عشق کی راہ گزر سے گزرنے کے بعد یہ خون کا دریا بنا ہوا ہے حسن کی جلوہ گری نمایاں تھی لیکن اب ایسی بات ہوئ کہ دل افسردہ و غمگین ہے اداس ہے پژمردہ سا نظر آتا ہے نشاط و مسرت کا باعث تھا ۔
”یعنی میرے دل سے لیکر جگر تک اب تو دریائے خون کی آمیزش ہے اسی راہ گزر سے پہلے بہار ہی بہار تھی کہ جلوہ گل بھی اسکے آگے گرد تھی۔۔۔طباطبائ”
📚📚📚📚📚📚
📖شعر پنجم✏
؂جاتی ہے کوئ کشمکش اندوہ عشق کی ¿¿
دل بھی اگر گیا تو وہی دل کا درد تھا
📝فرہنگ
کشمکش۔۔۔۔دہری مشکل/ ااضطراب
اندوہ۔۔تردد/غم/ الم/ملال
دل۔۔جگر ۔/،جسم کا اندرونی حصہ
📖شرح شعر پنجم۔۔✏
غم اور خلجان عشق کی کشمکش سے نجات نہین مل سکتی ہے درد و غم کی ساری کشمکش اس دل کی وجہ سے ہے کہا جاتا ہے کہ جب تک سینے میں دل ہےاندوہ غم کی کیفیت یوں ہی ساتھ رہے گیاب دل ہی خود سے انجان و بیگانہ ہوگیا ہے اسکے جانے کے بعد اسکی کشمکش میں کوئ کمی نہیں آئ عشق ایک مسلسل عذاب ہے اور اس سے چھٹکارا کسی طور ممکن نہیں ہے بہت محال ہے اس اندوہ غم سے نجات پانا کسی طور آسان نہیں ۔۔
”یعنی یہ نہیں ہوسکتا کہ اندوہ عشق کم ہوجائے دل بھی جاتا رہا ہے اور درد دل بھی یعنی دوسرے معنی میں دل کا جانا خود ہی درد دل ہے”’طباطبائ
📚📚📚📚📚📚📚

📖شعر ہفتم✏
؂احباب چارہ سازی وحشت نہ کرسکے
زنداں میں بھی خیال بیاباں نورد تھا
📝فرہنگ
احباب۔۔۔دوست ۔/۔ہمدرد /غمگسار
چارہ سازی۔۔دست گیر ۔۔/ چارہ گر
وحشت ۔۔بے چینی/اضطراب / خفقان
زنداں۔۔قید خانہ / جیل/ بیاباں
بیاباں نورد ۔۔۔صحرا نوردی/ جنگل جنگل پھرنا
📖شرح شعر ہفتم✏
عشق کی وحشت کا علاج ناممکن ہےمیری وحشت عشق بے سسب نے مجھے اس قید میں ڈال رکھا ہے میں سوچ رہا تھا کہ مجھے اس سے نجات مل جائے لیکن ایسا نہ ہوا میرا خیال صحرانورد شوق کی طرح بھٹکتا رہا ہے احباب کی دلجوئ اور چارہ سازی بھی مجھے اس وحشت سے نجات نہین دلا سکی میرے خیالات منتشر ہی رہے کوئ راہ نہ پاسکے بس صحرا نورد کی طرح بھٹکتے رہے میرے جسم کو مقید کردینے سے میرے فکر وخیال بھی مقید کرسکتے تھے
؂کر گیا ناصح نے ہم کو قید اچھا یوں سہی
یہ جنوں عشق کے انداز چھٹ جاویں گے کیا
غالب کے اس خیال سے چگسبت بھی کچھ یوں کہتے نظر آتے ہیں
؂مجھے اسیر کریں کاٹ لیں زبان میری
میرے خیال کو بیڑی پہنا نہیں سکتے
”یعنی میں زندان میں بند تھا مگر میرا خیال بیابان میں تھا کچھ قید سے چارہ سازی وحشت نہ ہوئ۔۔طباطبائ”

📚📚📚📚📚📚📚
📖شعر ہشتم✏
؂ یہ لاش بےکفن اسد خستہ جاں کی ہے
حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
📝فرہنگ
لاش”مردہ جسم
بے کفن ۔۔بغیر کفن کے
خستہ۔۔۔پریشان حال
/شکستہ دل
حق مغفرت ۔۔مغفرت کی دعا /دعائے حق
📖شرح شعر ہشتم✏
مرزا کا یہ شعر روایت انداز و فہم بیان کرتا ہے یعنی میں اندر سے بالکل ایسا مردہ حال ہوچکا ہوں جیسے بے کفن لاش ہوں دعا کرو کہ میری مغفرت کی حق میں کہ میرے لئے آسانی ہو مصرع ثانی کی برجستگی ایسی کہ مثال ممکن نہیں مرزا کا یہ شعر ضرب المثل بن گیا ہے کسی بھی اچھے شخص کی موت پر اسکی بھلائ یا اچھائ بیان کرنے کو کہا جاتا ہے ۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
📚📚📚📚📚📚📚
بَشُکریہ ادبیات


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
6 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    وَعَلَيْكُم السَّلَام وَرَحْمَةُ اَللهِ وَبَرَكاتُهُ‎

  2. گمنام کہتے ہیں

    خوب است
    کمال است

  3. گمنام کہتے ہیں

    السلام علیکم جو شروع میں آپ نے شعر دیا ہوا ہے درست کرلیں
    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
    گنجینہ معنی کا طلسم اس کو سمجھیے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

  4. گمنام کہتے ہیں

    بہت اعلی
    غالب کا تحریر کردہ سہرا
    اور نوحہ جو بیٹے کی وفات پر لکھا تھا
    پیش کر دیں تو نوازش ھو گی

  5. گمنام کہتے ہیں

    وااااہ

    کیا بہترین انداز میں تشریح کی ہے

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…