غزل میرزا نواب الٰہی بخش خاں معروفؔ میرزا عارف جان…

غزل میرزا نواب الٰہی بخش خاں معروفؔ میرزا عارف جان

کہاں تک رازِ عشق افشا نہ کرتا
مثل ہے یہ کہ مرتا کیا نہ کرتا

رکھے ہے گم جو اُس یادِ دہن میں
الٰہی اس سے تو پیدا نہ کرتا

نہ کھلتا عقدهٔ کارِ دو عالم
تبسم سے جو تو لب وا نہ کرتا

نہ سنتا اس قدر لوگوں کی باتیں
تری چپ کا اگر چرچا نہ کرتا

خبر اپنی یہاں پھر کس کو رہتی
جو تو واں سے خبر بھیجا نہ کرتا

جو دل بھاری نہ کرتا اُس کے آگے
تو یوں اپنے کو میں ہلکا نہ کرتا

اگر مینا کی گردن خم نہ ہوتی
تو کیا ساقی کو میں سیدھا نہ کرتا

نہ بچتے آج دردِ ہجر سے ہم
اگر تو وعدهٔ فردا نہ کرتا

ہلاکو بھی اگر ہوتا تو ظالم
ستم کرتا مگر اتنا نہ کرتا

اگر پہلو میں ہوتا آج کو تو
تو دل اے جان یوں دھڑکا نہ کرتا

نہ کہتا اُس سے گر دل کی حقیقیت
تو جی کا مجھ سے وہ سودا نہ کرتا

جو زاہد کو نہ ہوتا خوفِ دوزخ
خدا کے واسطے رویا نہ کرتا

وہ پردے میں بھی ایک آفت ہے معروفؔ
غضب ہوتا اگر پردہ نہ کرتا


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

3 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    واااھ

  2. گمنام کہتے ہیں

    واہ

  3. گمنام کہتے ہیں

    عمدہ

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…