کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا کچھ نے…

کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا
کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا
تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا
بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا
ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا
دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا
اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تِری وحشت سہی ، ہم کو سہی سودا تیرا
ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگُزر
رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا
ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شعر ہوا کیا کیا تیرا
بے درد، سُنتی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رُسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا

ابن انشاء۔۔۔۔۔!!!


8 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    Very nice

  2. گمنام کہتے ہیں

    ایور گرین

  3. گمنام کہتے ہیں

    v nice inshah ji

  4. گمنام کہتے ہیں

    Talha Tariq

  5. گمنام کہتے ہیں

    ہم گھوم چکے بستی بن میں اک آس کی پھانس لیے من میں
    ایڈمن کبھی یہ غزل بھی پوسٹ کر دیں 😊

  6. گمنام کہتے ہیں

    ہمیشہ کی طرح پسندیدہ…❤

  7. گمنام کہتے ہیں

    کچھ نے کہا یہ چاند ہے کچھ نے کہا چہرہ تیرا

  8. گمنام کہتے ہیں

    میں چاند کو دیکھتا ہوں، چاند اس کو دیکھتا ہے
    اگر دیکھے وہ چاند کو، تو مل جائیں دو نگاہیں

جواب چھوڑیں