مِرزا اسداللہ خاں غالبؔ حُسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ ک…

مِرزا اسداللہ خاں غالبؔ

حُسنِ مہ گرچہ بہ ہنگامِ کمال اچّھا ہے
اُس سے میرا مہِ خُرشید جمال اچّھا ہے

بَوسہ دیتے نہیں، اور دِل پہ ہے ہر لحظہ نِگاہ
جی میں کہتے ہیں کہ، مفت آئے تو مال اچّھا ہے

اور بازار سے لے آئے، اگر ٹُوٹ گیا
ساغرِ جَم سے مِرا جامِ سِفال اچّھا ہے

بے طَلب دَیں تو مزہ اُس میں سِوا مِلتا ہے
وہ گدا، جس کو نہ ہو خُوئے سوال اچّھا ہے

اُن کے دیکھے سے جو آ جاتی ہے مُنھ پر رَونق
وہ سمجھتے ہیں کہ بِیمار کا حال اچّھا ہے

دیکھیے، پاتے ہیں عُشّاق بُتوں سے کیا فیض!
اِک برہمن نے کہا ہے کہ، یہ سال اچّھا ہے

ہم سُخن تیشے نے فرہاد کو شِیریں سے کِیا
جس طرح کا کہ کسی میں ہو کمال، اچّھا ہے

قطرہ، دریا میں جو مِل جائے تو دریا ہو جائے
کام اچّھا ہے وہ، جس کا کہ مآل اچّھا ہے

خضر سُلطاں کو رکھے خالقِ اکبر سَر سبز
شاہ کے باغ میں یہ تازہ نہال اچّھا ہے

ہم کو معلوُم ہے، جنّت کی حقیقت، لیکن
دِل کے خوش رکھنے کو، غالبؔ! یہ خیال اچّھا ہے

مِرزا اسداللہ خاں غالبؔ


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

1 تبصرہ
  1. گمنام کہتے ہیں

    بہت خوب

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…