آئی سی سی ورلڈکپ 2019 پاکستانی ٹیم کی ملی جلی کارکردگی – ڈاکٹر کاشف رفیق

پاکستانی کرکٹ ٹیم ورلڈ کپ 2019 کا اپنا آخری میچ جیتنے میں کامیاب تو ہوئی مگر سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی نہ کر سکی اور یوں پاکستانی قوم کا یہ ورلڈ کپ جیتنے کا خواب شرمندہ ء تعبیر نہ ہو سکا۔ پاکستانی ٹیم کو سیمی فائنل میں پہنچنے کے لیے بنگلہ دیش کے خلاف میچ بہت بڑے مارجن سے جیتنے کی ضرورت تھی۔ پاکستانی قوم یہ امید لگائے بیٹھی تھی کہ پاکستانی ٹیم کوئی معجزہ دکھانے میں کامیاب ہو جائے گی۔ لیکن پاکستانی ٹیم نے اس سلسلے میں کوئی کوشش ہی نہیں کی۔ کھلاڑیوں نے اپنی انفرادی کارکردگی پر فوکس کر کے مستقبل میں ٹیم میں اپنی جگہ برقرار رکھنے کو ترجیح دی اور ساتھ یہ کہ بنگلہ دیش کے خلاف میچ جیت کر پاکستانی عوام کو خوش کر دیا جائے۔ اگرچہ پاکستان اور نیوزی لینڈ دونوں ٹیموں نے 11، 11 پوائنٹس حاصل کیے مگر بہتر نیٹ رن ریٹ کی بنا پر نیوزی لینڈ نے سیمی فائنل کے لیے کوالیفائی کرلیا۔ پاکستانی ٹیم ویسٹ انڈیز سے اپنے افتتاحی میچ میں بری طرح شکست سے دو چار ہوئی تھی جس کی وجہ پاکستانی ٹیم کا نیٹ رن ریٹ بہت کم تھا۔ اگر ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو ٹیم مینیجمنٹ کی اہلیت، سلیکشن اور منصوبہ بندی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ پاکستانی ٹیم نے توقعات سے بہتر کارکردگی پیش کی۔ 9 میں سے 5 میچ پاکستان نے جیتے اور 3 میں شکست ہوئی جبکہ ایک میچ بارش کی وجہ سے نہ ہو سکا۔ روایتی حریف بھارت کو ہرانے کا موقع پاکستان نے ایک بار پھر گنوا دیا تاہم انگلینڈ اور نیوزی لینڈ جیسے اچھی ٹیموں کو شکست دینا پاکستانی ٹیم کا واقعی کارنامہ تھا۔ کپتان سرفراز احمد ذاتی طور پر متاثر کن کارکردگی دکھانے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ آن فیلڈ ان کا اونگھنا ان پر بہت زیادہ تنقید کا باعث بنا۔ بابر اعظم، محمد عامر، حارث سہیل ، وہاب ریاض اور شاہین آفریدی کی کارکردگی متاثر کن رہی۔ بیٹنگ میں نوجوان بلے باز بابر اعظم نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ نیوزی لینڈ کے خلاف میچ وننگ سنچری کے علاوہ کئی اور میچز میں بھی اہم اننگز کھیلیں۔ اور پاکستان کی جانب سے کسی ایک ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے کا عظیم بلے باز جاوید میاں داد کا ریکارڈ توڑ دیا۔ اُنھوں نے مجموعی طور پر 474 رنز بنائے۔جاوید میانداد نے 1992 کے ورلڈ کپ میں 437 رنز بنائے تھے۔ بابر اعظم نے صرف 24 سال کی عمر میں عالمی سطح پر خود کو ایک بڑا بیٹسمین منوا لیا ہے۔ باؤلنگ میں محمد عامر، وہاب ریاض اور شاہین آفریدی کی کارکردگی اچھی رہی۔ وہاب ریاض ورلڈ کپ میں پاکستان کی جانب سے زیادہ وکٹیں لینے والوں میں دوسرے نمبر پر آ گئے۔ اب تک 3 ورلڈ کپ کھیل کر وہاب ریاض نے 35 وکٹیں حاصل کی ہیں۔ سب سے زیادہ 55 وکٹیں وسیم اکرم نے حاصل کر رکھی ہیں۔ جبکہ سابق کپتان عمران خان 34 وکٹوں کے ساتھ اب تیسرے نمبر پر آ گئے ہیں۔ شاہین آفریدی نے ورلڈ کپ میں پانچ وکٹیں لینے والے کم عمر ترین باؤلر ہونے کا اعزاز اپنے نام کیا۔ انھوں نے بنگلہ دیش کے خلاف 35 رنز کے عوض 6 وکٹیں حاصل کیں۔ امام الحق نے بنگلہ دیش کے خلاف سنچری سکور کر کے پاکستان کی جانب سے ورلڈکپ میں سنچری کرنے والے کم عمر ترین بیٹسمین ہونے کا اعزاز اپنے نام کر لیا۔ اس سے پہلے یہ ریکارڈ عظیم بلے باز سلیم ملک کے پاس تھا۔پاکستان کی طرف سے اس ورلڈ کپ میں محمد حفیظ، حارث سہیل، بابر اعظم، عماد وسیم اور شاہین آفریدی نے مین آف دی میچ کا ایوارڈ حاصل کیا۔ حسن علی، شعیب ملک، محمد حفیظ، فخر زمان اور آصف علی نے بے حد مایوس کیا۔ اُمید ہے پاکستان کرکٹ بورڈ ورلڈکپ میں پاکستانی ٹیم کی خامیوں کا جائزہ لنے کے بعد بہتری کے لیے اقدامات کرے گا۔ انضمام الحق کو سلیکشن کمیٹی سے الگ ہو جانا چاہیے کیونکہ سلیکشن کے وقت ان کے بھتیجے امام الحق کی وجہ سے مفادات کا ٹکراؤ پیدا ہوتا ہے۔ مکی آرتھر ناکام کوچ ثابت ہوئے ہیں۔ اسی طرح اظہر محمود اور گرانٹ فلاور بھی کچھ بہتری لانے میں ناکام رہے۔ ان سب کو فارغ کر دینا چاہیے۔ سرفراز احمد کی کپتانی میں کافی مسائل ہیں۔ پاکستان کے پاس اس وقت بابر اعظم سے بہتر کوئی چوائس نہیں۔ بابر اعظم کو تینوں طرز کی کرکٹ میں پاکستانی ٹیم کا کپتان مقرر کر دینا چاہیے۔ حارث رؤف، محمد موسیٰ، سلمان ارشاد، محمد حسنین، عمر خان سمیت دیگر باصلاحیت نوجوان کھلاڑیوں کو گروم کرنے کی ضرورت ہے۔

تحریر: ڈاکٹر کاشف رفیق

جواب چھوڑیں