رکھتے ہیں پریشاں تری آنکھوں کے ستارے معلوم …

رکھتے ہیں پریشاں تری آنکھوں کے ستارے
معلوم نہیں اِن میں بھنور ہیں کہ کنارے

بنیاد سے ہل جائیں جو ہلکی سی ہوا میں
اتنے بھی تو کمزور نہ ہوں چھت کے سہارے

باتیں تو ملاقات میں ہوتی ہی رہیں گی
پہلے کوئی اس شوخ کا صدقہ تو اُتارے

جب آپ رقیبوں میں چمن بانٹ رہے تھے
بیٹھے تھے وہیں پاس ہی ارمان ہمارے

کب آؤ گے اے دوست کہ رو رو کے چُنے ہیں
کچھ پھول تمہارے لیے کچھ چاند ستارے

میں گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا
کوئی تو مجھے روک لے ، کوئی تو پکارے

سینے سے لگائے تمہیں سرشار تھے ایسے
تُم سے بھی گریزاں رہے درویش تمہارے

ہم جس کا جگر تھے کبھی اخترؔ، اسے کہہ دیں
ہم پھول نہیں مانگتے، پتھر تو نہ مارے

سعید احمد اخترؔ

از:-ورشانجلی ص ۶۰/۶۱

اِنتِخاب
سفیدپوش


10 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    عمدہ انتخاب

  2. گمنام کہتے ہیں

    Kamal

  3. گمنام کہتے ہیں

    Wah

  4. گمنام کہتے ہیں

    Outstanding

  5. گمنام کہتے ہیں

    کب آؤ گے اے دوست کہ رو رو کے چُنے ہیں
    کچھ پھول تمہارے لیے کچھ چاند ستارے

    میں گھر سے نکلتے ہوئے یہ سوچ رہا تھا
    کوئی تو مجھے روک لے ، کوئی تو پکارے

  6. گمنام کہتے ہیں

    واہ

  7. گمنام کہتے ہیں

    Wahhhh 👌

  8. گمنام کہتے ہیں

    Waaah

  9. گمنام کہتے ہیں

    #sajjadali

  10. گمنام کہتے ہیں

    BohT umda🌹🌹🌹

جواب چھوڑیں