’’یوم بدر‘‘

اللہ ربالعزت نے حضرت محمد مصطفی و مجتبی کو نبوت سے سرفراز فرمایا اور پھر اللہ کے حکم سے ہی مدینہ منورہ میں ہجرت فرمائی۔ کیفار مکہ ہجرت مدینہ کے بعد بھی اللہ کے رسول بر حق اور مومنین کو ایذاء پہنچانے سے باز نہ آئے ۔حضرت محمدﷺ جہاں تک ہو سکا لڑائیوں سے پس وپیش سے کام لیتے رہے ۔رجب ۲ھ میں حضرت محمد ﷺ نے حضرت عبداللہ بن جحش کی زیر سر پرستی آٹھ یا بارہ مہاجرین کو طائف اورمکہ کے درمیان ’’نخلہ‘‘ کے مقام پر ٹہرنے اور کفار کے قافلوں کی حرکات وسکنات پر نظر رکھنے بھیجا۔ سوئے اتفاق جس دن یہ قافلہ نخلہ کے مقام پر پہنچا اسی دن کفار کا ایک تجارتی قافلہ جس میں اہل قریش کے معزز خاندان کے چشم و چراغ عمروبن الحضرمی ، عبداللہ بن مغیرہ کے دو لڑکے عثمان ونوفل اور حکم بن کیان وغیرہ شامل تھے وہاں آن پہنچا۔ مسلمان اب ایسے مقام پر تھے کہ اگر کفار کے اس قافلے کو رکاوٹ نہ پہنچاتے تو ان کی ایسی جان کو خطرہ لاحق ہو جاتا نیتجئا عمرو بن الحضرمی قتل ہو گیا اور عثمان اور حکم گرفتار ۔اس واقعہ نے کفار کے غیض و غضب کو ابھارا۔اور مکہ میں خون کا نعرہ زبان ذدعام ہو گیا ۔یہ واقعہ یوم بدر میں اسی سبب اہمیت کا حمل ہے کہ غزوہ بدر کے موقع پر مسلمانوں کے خلاف کفا ر مکہ نے اپنا یہی غصہ نکالنے کی کوشش کی تھی ۔
دوسراواقعہ جو غزوہ بدر کا سبب بنا وہ ابو سفیان کے ساتھ مڈ بھیڑ کا واقعہ تھا ۔ ابو سفیان کا قافلہ ملک شام سے لوٹ کر مکہ جانے والا تھا ۔چونکہ کفار کی ٹولیاں لوٹ مار کے غرض سے مدنیہ کے اردگرد گشت کرتی تھی ۔تو اس قافلے کو مال لوٹنے کی غرض سے اس قافے کی راہ میں ڈالنے کا مشورہ دیا جو بخوشی قبول کر لیا گیا
اس خبر کی اطلاع ابو سفیان نے ضمضم بن عمرو غفاری کے ہاتھ مکہ میں پہنچا دی ۔اہل مکہ تو جنگ کے لئے تیار بیٹھے تھے ۔اس جوش و خروش سے مکہ میں جنگ کی تیاری شروع ہو گئیں کہ نعوذبااللہ وہ اسلام کو صفحہ ہستی سے مٹنے کا ارادہ رکھتے تھے۔ایک ہزارکا عظیم الشان عتبہ بن ربیعہ کی سپہ سالاری میں تیار ہو گیا ۔طعام کا انتظام یہ تھا کہ قریش کے مالدار لوگ باری باری روزانہ دس اونٹ ذبح کر کے پورے لشکر کو کھلاتے تھے ابو سفیان دوسری طرف جان بچا کر نکل گیا اور لشکر مکہ سے کہا کہ وہ بھی مکہ لوٹ آئیں مگران کے سر پر طاقت کا نشہ سوار تھا چنانچہ جوں بھی نہ رنیگی ۔وہ جنگ پر مضر رہے البتہ دو قبائل بنو زہرہ اور بنو عدی واپس لوٹ گئے ۔کفار کا یہ لشکر پہلے بدر کے مقام پر جا پہنچا بدردراصل مکہ سے اسی میل کے فاصلے پر ایک گائوں کا نام ہے جہاں زمانہ جاہلیت میں سالانہ میلہ لگتا تھا اور وہ ایک شخص جس کا نام بدر تھا اس کا کنواں بھی وہاں ہونے کے سبب اس مقا م کا نام بدر کہلایا۔
دوسری طرف مسلمان کفار مکہ کے ارادوں سے بے خبر ۱۲رمضان ۲ھ کو تین سو تیرہ افراد کے لشکر کی صورت میں سامان جنگ ورسد بھی وافر نہ تھا چل پڑے۔ روانگی سے قبل انصار نے حضرت محمدﷺ کو اپنی مکمل حمایت کا یقین کروایا تھا ۔یہ لوگ جب بدر کے مقام پر پہنچے تو کفار اچھی جگہوں پر خود متعین ہو چکے تھے ۔مسلمانوں کے حصے میں رتیلی زمین آئی ۔مسلمان چونکہ اللہ کے بھروسے پر گھروں سے نکلے تھے اس لئے اللہ تبارک وتعالی کی مدد آن پہنچی ۔رحمت الہی اس زور سے برسی کہ مسلمانوں کا ریتلا علاقہ قدم جمانے کے قابل ہو گیا اور کفار کا حصہ کیچڑ میں تبدیل ہو گیا ۔جنگ سے ایک رات قبل حضرت محمدﷺ اپنے چھپر میں رات بھر جاگتے رہے اور خدا کے حضور گریہ وزاری کر تے رہے ۔اس موقع پر یار غار حضرت ابو بکر صدیق نے آپ کو حوصلہ دیا اور چھپر کی حفاظت کا ذمہ مبارک بھی حضرت ابو بکر صدیق ،حضرت سعد بن معاذ اور چند انصاریوں کے کندھے پر آن ٹکا ۔ حضرت محمد ﷺ نے چھٹری کی مدد سے زمین پر لکیریں لگا کر مرنے والے کفار کی موت کی جگہوں کی نشاندہی بھی کی ۔
صبح ہوئی ۔۔۔ایک طرف رب کے ماننے والے جانثار تھے جن کی تعداد کم تھی ۔اور دوسری طرف زیادہ میں منکرین رب تھے ۔ آسمان محو حیرت تھا۔کہ مسلمانوں کے جلوہ ایمانی کو نظر بھر کے دیکھا نہیں جا سکتا تھا ۔سب سے پہلے کفار کے جھنڈ سے عمروبن الحضرمی کا بھائی عامر بن الحضرمی میدان میں اپنے بھائی کے خون کا بدلہ لینے آیا جس کا حضرت عمر کے غلام حضرت مہیع سے مقابلہ ہوا۔ جنگ شروع ہونے کی دیر تھی مسلمانوں میں شہادت سے سرفراز ہوئے کا شوق اپنی تلاطم خیزی کے سبب انہیں لڑنے پر مجبور کر رہا تھا ۔مسلمان کفار پر ٹوٹ پڑے اور کفار بھی اپنی جانوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اللہ کا نام لینے والوں پر جھپٹ پڑے۔حضرت حمزہ کے ہاتھوں کفار کا سپہ سالار عتبہ جہنم رسید ہو گیا ۔ ایک ایک کرکے کفار کے نامور جنگجو جان سے ہاتھ دھونے لگ گئے ۔اللہ کی مدد فرشتوں کے ذریعے بھی میدان بدر میں نظر آنے لگی کہ سرکٹ رہے تھے اور تلواریں دکھائی نہ دیتی تھی ۔ پہلے ایک ہزار فرشتے مدد کو آئے اور پھر تین ہزار اور آخر میں یہ تعداد پانچ ہزار کو پہنچ گئی ۔ قرآن مجید کی سورۃالعمران اور انفال میں بھی اس کا ذکر آیا ہے ۔جہاں رحمت خداوندی عروج پر تھی مسلمانوں کا ولولہ بھی سوا نیزے پر تھا ۔انصار کے دو کم عمر نوجوان حضرت معوذ اور معاذ نے اپنی تلواروں کے زور سے ابو جہل کو جہنم واصل کیا ۔ابو جہل کے بیٹے عکرمہ نے حضرت معاذ کے شانے پر اسطرح حملہ کیا کہ بازو الگ بھی نہ ہوا اور ساتھ بھی نہ رہا اس سے حضرت معاذ کو لڑنے میں پریشانی کا سامنا ہو رہا تھا انہوں نے اپنے پائوں کے نیچے ہاتھ رکھ کر کندھے کو بازو سے الگ کر دیا۔
اللہ اللہ رے اللہ کی محبت ۔۔۔۔
کفا ر کے سرداروں کی موت نے لشکر کفار کو بوکھلا کر رکھ دیا ۔ کچھ نے ہتھیار ڈال دئیے اور کچھ بھاگ نکلے ۔اس جنگ میں کفار کے ستر آدمی قتل ہوئے اورستر آدمی گرفتار۔حضرت ابو بکر صدیق کی منشاء پر حضرت محمد ﷺنے گرفتار ہونے والوں مالدار کفار سے چار ہزار درہم خدیہ لیا اور تعلیم یافتہ کفار کا خدیہ دس مسلمان بچوں کو پرھانا ٹہرا۔ اس غزوہ میں چودہ صحابہ کو جام شہادت نوش فرمانے کا موقع ملا۔ تیرہ کو جنگ بدر کے میدان میں ہی دفن کیا۔ جبکہ عبیدہ بن حارث کو واپسی پر انتقال کے سبب ’’صفراء‘‘ کے مقام پر دفن کیا گیا۔
جن قیدیوں کو مدینہ منورہ ساتھ لے جایا گیا ان کے ساتھ حسن سلوک کی اعلی مثال پیش کی گئی کہ ان کو مختلف مہاجرین و انصار نے اپنے گھر میں ٹہرایااور انہیں کھانا کھلا کر خود کھجوروں پر گزارا کیا۔یوم بدر کو تاریخ میں یوم الفرقان کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ لفظ فرقان کا مطلب ہے نیک اور بد میں امتیاز کرنے والی ۔ اس دن نے بھی اللہ کے نظروں میں اسلام کے اصل جانثاروں کا مقام بلند کیا اور بدی کے بتوں کا سرشرم سے جھک گیا ۔ عقل حیران ہوتی ہے کہ قلیل تعداد اور قلیل سامان ہونے کے سبب مسلمان کفار پر کسیے غالب آگئے مگر ایمان جاں فزامثردہ سناتا ہے کہ حق کی آواز جب بھی بلند ہوتی ہے تو بدی اور باطل کی شہنائیاں ماتم میں تبدیل ہوتی ہیں ۔روشنی جب بھی پھوٹتی ہے تو اندھیرا اپنی موت آپ مر جاتا ہے اورروشنی النبی فتح کی خوشی میں اردگرد کے ہر مجسمہ کو منورکر دیتی ہے ۔ بس ضرورت صرف اس امر کی ہے کہ نعرہ بلند حق کا ہو‘ایمان کامل ہو ، اللہ پر یقین وتوکل کی انتہا نہ ہو تو ۔۔
باقی رہے نام اللہ کا ۔۔

مریم جہانگیر

جواب چھوڑیں