ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں میں سُن …

ہوا کے شور کو رکھنا اسیر جنگل میں
میں سُن رہی ہوں قلم کی صریر جنگل میں

عجیب لوگ ہیں دِل کے شکار پر نکلے
کمان شہر میں رکھتے ہیں تیر جنگل میں

ہتھیلیوں پہ ہوا سنسناتی پھرتی ہے
تمہاری چاہ کی ڈھونڈوں لکیر جنگل میں

خیال رکھنا ہے پیڑوں کا خُشک سالی میں
نکالنی ہے مجھے جوئے شیر جنگل میں

دیارِ جاں میں پھرے رات دندناتی ہوئی
کدھر ہے قید سحر کا سفیر جنگل میں

طلب کے شہر میں تھا جو کبھی قیام پذیر
سُنا ہے رہتا ہے اب وہ فقیر جنگل میں

کبھی جو چُھو کے گزر جائے نرم سا جُھونکا
یہ زُلف لے کر اُڑائے شریر جنگل میں

بڑے سکون سے رہتے ہیں لوگ بستی کے
رکھی ہے دشت میں غیرت، ضمیر جنگل میں

ہوا میں آج بھی روتی ہے بانسری نیناںؔ
اداس پھرتی ہے صدیوں سے ہیر جنگل میں

فرزانہ خان نیناںؔ

المرسل: فیصل خورشید


6 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    اعلیٰ

  2. گمنام کہتے ہیں

    Zbrdst

  3. گمنام کہتے ہیں

    چپ چاپ گزار دیں گے …….. تیرے بن یہ زندگی

    لوگوں کو سیکھا دیں گے محبت ایسی بھی ہوتی ہے. ❤❤

  4. گمنام کہتے ہیں

    Zabardast, umdah

  5. گمنام کہتے ہیں

    زبردست

  6. گمنام کہتے ہیں

    Zaberdast

جواب چھوڑیں