دوش دیتے رہے بے کار ہی طُغیانی کو ہم نے سمج…

دوش دیتے رہے بے کار ہی طُغیانی کو
ہم نے سمجھا نہیں دریا کی پَرِیشانی کو

یہ نہیں دیکھتے کتنی ہے رِیاضَت کس کی
لوگ آسان سمجھ لیتے ہیں آسانی کو

بے گھری کا مجھے احساس دلانے والے
تو نے برتا ہے مری بے سر و سامانی کو

شرمساری ہے کہ رکنے میں نہیں آتی ہے
خشک کرتا رہے کب تک کوئی پیشانی کو

آپ سے کس نے طلب کی ہے جنوں پر رائے
چھوڑئیے آپ مری چاک گریبانی کو

جیسے رنگوں کی بخیلی بھی ہنر ہو اظہرؔ
غور سے دیکھیے تصویر کی عریانی کو

اظہرؔ فراغ

از:-ازالہ ص ۳۶/۳۷

اِنتِخاب
سفیدپوش


4 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    بہت بہت اعلی

  2. گمنام کہتے ہیں

    Zabardast

  3. گمنام کہتے ہیں

    Wah

  4. گمنام کہتے ہیں

    Aashir Tajamal

جواب چھوڑیں