”ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے“ نذرِ فیض از سیّد …


”ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے“
نذرِ فیض از سیّد مبارک شاہ

جب کبھی روشنی کی ضَرُورَت پڑی
اپنی حَد سے تِیرگی جو بڑھی
شہرِ جاناں میں ہم ہی پُکارے گئے
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

ہم ادا کر چُکے تھے مگر فرض تھے
روشنی کے نہ جانے وہ کیا قرض تھے
جو ہمارے لَہُو سے اُتارے گئے
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

تِیرگی میں صحیفے اُجالوں کے سب
روشنی اور اُن کے حوالوں کے سب
یہ ہمِیں تھے کہ جِن پہ اُتارے گئے
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

شہر کُہرام میں اپنے سوتے رہے
اور جنگل کہ چُپ چُپ سُلَگتے رہے
دُور کِتنے لَہُو کے شرارے گئے
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے

اپنی آنکھوں میں صُبحوں کے جو خواب تھے
اُن کی تعبِیر میں جِتنے مَہتاب تھے
وہ ہمارے ہی آنگن اُتارے گئے
ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے۔۔۔!

2 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    Bohat aala

  2. گمنام کہتے ہیں

    Rabia Arif

جواب چھوڑیں