تمام احباب کو اردو افسانے کی طرف سے عید الضحی مبار…

تمام احباب کو اردو افسانے کی طرف سے عید الضحی مبارک
اس موقع پر شیخ ابراہیم ذوق کی ایک خوبصورت غزل

اب تو گھبرا کے یہ کہتے ہیں کہ گھر جائیں گے
گھر میں بیوی نے ستایا تو کدهر جائیں گے

عید کے دن نیا بکرا ہی سمجھ لیں گے ہم انہیں
کھال قربانی کی لے کر وه جدهر جائیں گے

کھال قربانی کی محفوظ رہے گی کیسے
پہلے جب تک نہ دو عالم سے گزر جائیں گے

رخ روشن سے نقاب اپنے الٹ دیکھو تم
جس قدر بکرے ہیں نظروں سے اتر جائیں گے

کھال قربانی کی لی کس نے بتائیں گے نہیں
بلکہ پوچھے گا خدا بھی تو مکر جائیں کے

گوشت کتنا ہے فریزر میں دیکھا تو دوں میں
پر یہی ڈر ہے کہ وه دیکھ کے ڈر جائیں گے

لائیں جو یار ہیں اس بار بہت سے بکرے
اور اگر کچھ نہیں اک ران تو دهر جائیں گے

جواب چھوڑیں