حُسن ٹھہرائے تو کچھ دیر ٹھہر جاتے ہیں ورنہ…

حُسن ٹھہرائے تو کچھ دیر ٹھہر جاتے ہیں
ورنہ ہم دِل زدگاں لوٹ کے گھر جاتے ہیں

تُم کسی اور تجسّس میں پڑے ہو ورنہ
آئینہ دیکھنے والے تو سنور جاتے ہیں

ہم نے وہ لوگ بھی دیکھے ہیں جو دن ڈھلتے ہی
ایسے سو جاتے ہیں جس طرح کہ مَر جاتے ہیں

اور وہ لوگ بھی دیکھے ہیں جو تاروں کی طرح
شام سے چلتے ہیں اور تا بہ سحر جاتے ہیں

راستے اور مسافر میں کوئی فرق نہیں
جس طرف اُس کا ارادہ ہو اُدھر جاتے ہیں

آج تو امن کا چرچا ہے بھری بستی میں
اتنے گھبرائے ہوئے آپ کِدھر جاتے ہیں

لیاقت علی عاصمؔ

از:-یکجان(رقصِ وصال) ص ۲۰۳

اِنتِخاب
سفیدپوش


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
1 تبصرہ
  1. گمنام کہتے ہیں

    زبردست

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…