مٹی کا قرض___سید فخرالدین بلے …………………..

مٹی کا قرض___سید فخرالدین بلے
………………..
اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض
میرے لیے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کا قرض
کیوں نہ دھرتی سیواکرکے خون پسینہ بوئیں
ممکن ہے کچھ کم ہوجائے اس مٹی کا قرض
اک مدت سے دیکھ رہی ہیں میری بھیگی آنکھیں
بڑھ جاتا ہے جب مینہ برسے اس مٹی کا قرض
پیا ملن کو مانگ رہی ہے دھرتی ہار سنگھار
کم کر دیں گے سبز دوشالے اس مٹی کا قرض
ارضِ وطن سے پوچھو ہم سب ہیں کب سے مقروض
پنجند نے تو اب مانگا ہے اس مٹی کا قرض
جہل خرد کے اندھیاروں میں گھٹ تو سکتا ہے
پلکوں پہ جلدیپ سجا کے اس مٹی کا قرض
قوم کو گروی رکھنے والو خوب چکایا ہے
مٹی کا کشکول بنا کے اس مٹی کا قرض
جیتے جی ہے اس مٹی کا قرض چکانا مشکل
بڑھ جائے گا قبر میں جاکے اس مٹی کا قرض
(سید فخر الدین بلے)


1 تبصرہ
  1. گمنام کہتے ہیں

    مٹی کا قرض___سید فخرالدین بلے
    ………………..
    اس دھرتی کی ہر شے پر ہے اس مٹی کا قرض
    میرے لیے ہے فرض سے پہلے اس مٹی کا قرض

    کیوں نہ دھرتی سیواکرکے خون پسینہ بوئیں
    ممکن ہے کچھ کم ہوجائے اس مٹی کا قرض

    اک مدت سےدیکھ رہی ہیں میری بھیگی آنکھیں
    بڑھ جاتا ہے جب مینہ برسے اس مٹی کا قرض

    پیا ملن کو مانگ رہی ہے دھرتی ہار سنگھار
    کم کردیں گے سبز دوشالے اس مٹی کا قرض

    ارضِ وطن سےپوچھوہم سب ہیں کب سےمقروض
    پنجند نے تو اب مانگا ہے اس مٹی کا قرض

    جہل خردکے اندھیاروں میں گھٹ تو سکتا ہے
    پلکوں پہ جلدیپ سجا کے اس مٹی کا قرض

    قوم کو گروی رکھنے والو خوب چکایا ہے
    مٹی کا کشکول بنا کے اس مٹی کا قرض

    جیتے جی ہے اس مٹی کا قرض چکانا مشکل
    بڑھ جائے گا قبر میں جاکے اس مٹی کا قرض

    (سید فخر الدین بلے)

جواب چھوڑیں