سیاست کے سیاہ کارنامے

دل کی بات۔۔۔ڈاکٹر عمرانہ مشتاق

ملک میدانوں، ریگزاروں، آبشاروں اور فلک بوس عمارتوں کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں بسنے والےشہریوں کی ذہنی تربیت اور مثبت سوچ سے مشروط ہے۔ جس طرح آدمی اور انسان، شخص اور شخصیت میں آسمان کا فرق ہے اسی طرح وطن اور اس میں رہنے والے لوگوں کی ذہنی تربیت اور مثبت سوچ سے عبارت ہے۔
آدمی کوبھی میسر نہیں انساں ہونا
بالکل اسی طرح خطہ زمین کو بھی میسر نہیں ہے ایک وطن ہونا۔ اس کے لئے بھی ضروری ہے کہ ان تقاضوں کو پورا کریں جس کے لئے اس وطن کو بنایا گیا یا حاصل کیا گیا۔خطہ زمین تو ہمارے پاس موجود ہے مگر اس میں بسنے والوں کی ذہنی تربیت کے لئے ہم نے ساٹھ سال میں کیا کیا؟ اور کیا کر رہے ہیں؟ اور کیا کرنا چاہتے ہیں؟
ہمارے سیاستدان اپنی حکمتِ عملی کی ساری بنیاد حصول اقتدار پر استوار کر کے خود نمائی اور خود غرضی کے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ ملک کے دفاعی تقاضوں کو نظر انداز کرتے ہوئے کوئی بھی رہنما عوام میں اپنی مقبولیت کے چراغ نہیں جلا سکتا۔تمام اہلِ وطن جب تک دفاع وطن کے لئے اپنا کردار ادا نہیں کریں گے انہیں کوئی اچھا لیڈر نہیں ملے گا۔لیڈر قوموں کی اعلیٰ سوچ کے بطن سے پیدا ہوتا ہے جس قوم کی سوچ اپنی ذات تک محدود ہو اسے اپنا قائد اور رہنما بھی ذاتی مفادات کی تکمیل کے لئے ہی ملے گا۔وہ محدود اور گروہی سطح پر اپنے کسی خاص طبقے کے مسائل و مصائب کا ماتم کر کے مخصوص حلقہ نیابت میں شہرت حاصل کرے گا۔
اکیسویں صدی جو روشن و تابناک صدی کے طور پر پوری دنیا میں معروف ہو رہی ہے، اس کا موجودہ سیاسی دور سیاہ کارناموں سے لبریز ہے۔سیاست دانوں کا طرزِ بیان، اندازِ فکر اور اختلافِ رائے کا اظہار یکسر بدلا ہوا ہے۔ایوبی دورِ آمریت اس حوالے سے مشہور ہے مگر اس دور میں بھی اندازِ گفتگو "تو تو” تک نہیں پہنچا تھا۔شائستگی اوراحترام کا رشتہ موجود تھا۔مگر اب تو حالات نے ایسی سنگین کروٹ لی ہے کہ شرفا سر پکڑ کر بیٹھ گئے ہیں۔اور سیاست دان سر سے پگڑیاں اتار رہے ہیں۔کسی کو کسی کی پرواہ نہیں ہے، اس افراتفری میں روایات کو جیسے پامال کیا جا رہا ہے، الامان و الحفیظ۔
کبھی ایسا سیاہ وقت اس شعبے پر نہیں آیا تھا اس لئے کہ جس حجم سے کرپشن ہو رہی ہے اس کے اثرات بھی تو ضرور پڑنے ہیں۔اب ہم زوال پذیر اس لئے ہو رہے ہیں کہ کروڑوں لوگوں کے حقوق پر ایک آدمی ڈاکہ ڈال رہا ہے۔ ابھی تو صرف بلوچستان کے سیکرٹری خزانہ نے اپنے گھر سے خزانہ اگلا ہے، کتنے ہی سیکرٹری ابھی موجود ہیں جنھوں نے خزانوں کو بڑے سلیقے سے بیرونی بنکوں میں جمع کروا رکھا ہے۔ اب وہ وقت آ رہا ہے کہ خزانے خود گواہی دیں گے کہ ہم یہاںپر مقید ہیں اور ہم عام آدمی کے زیرِ استعمال آنا چاہتے ہیں۔نگلا ہوا اگلا جائے گا اور اس وقت سیاست دان جو زبان ایک دوسرے کے خلاف استعمال کر رہے ہیں، خاص طور پر تہذیب سے گری ہوئی زبان جس طرح اختیار کی گئی ہے وہ زوال پذیر معاشرے کی نشاندہی کرتی ہے۔اس وقت یا تو موجودہ نظام کی عمارت زمیں بوس ہو جائے گی جس میں سارا گند جذب ہو جائے گااور نئے سرے سے ایک نیا نظام آئے گاجس میں عام آدمی کو حقوق اس کے گھر کی دہلیز پر ملیں گے۔کروڑوں انسانوں کی ضرورت اور سہولت صرف چند لوگ اپنے زیرِ استعمال لا کر عوام کی حق تلفی کر رہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھنے والا نہیں۔کوئی ان کو بتانے والا نہیں کہ انھوں نے صرف دو نوالے کھانے ہیں جس کے لئے دوسروں کا حق مار رہے ہیں۔معاشی خوشحالی کی راہ میں جو لوگ روڑے اٹکاتے ہیں ان کا انجام بہت برا اور درد ناک ہو گا۔رقوم جمع کرنے والوں کا انجام تو قرآنِ حکیم میں واضح طور پر موجود ہے کہ سیم و زر گرم کر کے ان کے جسموںکو داغاجائے گا۔ایسا نہ ہو کہ خطِ غربت سے نیچے زندگی بسر کرنے والوں کی آہیں عرش میں ایک ہیجان پیدا کر دیں ۔سیاہ کارنانوں کی تاریکیاں ان سیاست دانوں کو اپنے گھیرے میں لئے ہوئے ہیں۔اس وقت صرف وہی لوگ مطمعن ہیں جنھوں نے ناجائز دولت جمع نہیں کی اور جو جائز دولت ان کے پاس موجود ہے اسے بھی وہ فلاحِ ملت کے لئے صرف کرتے ہیں ۔اس طرح ان کی دولت بڑھ رہی ہے اور جمع کرنے والوں کی کم ہو رہی ہے۔ یہ زر اگر گراس روٹ لیول تک گردش نہیں کرے گا تو پورا نظام کینسر زدہ ہو جائے گا۔ اس وقت سیاست دانوں نے جو زبان اختیار کر رکھی ہے وہ شرفا کو ہر گز زیب نہیں دیتی۔اخلاق اور کردار کی بہتری قوموں کو کمال عطا کرتی ہے جبکہ اخلاق اور کردار کا انحطاط زوال پذیر ماحول کو جنم دیتا ہے۔اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ زبان کےحوالے سےمحتاط انداز اختیار کیا جائے۔ دلیل کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا جائے۔کرپشن کے الزامات کی بوچھاڑ ہر دو جانب سے ہو رہی ہے۔ اگر ہم پاکستان کو مضبوط اور مستحکم بنانا چاہتے ہیں اور آنے والی نسلوںکی تربیت کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اخلاق اور کردار کو مضبوط بنانا ہو گا۔ میَں گذشتہ ایک ہفتہ متحدہ عرب امارات میں تھی، مجھے روزانہ پاکستان سے کوئی خیر کی خبر نہیں ملتی تھی۔کبھی عمران کا دھرنا، کبھی سراج الحق کا اپوزیشن سے ملنا اور کبھی اپوزیشن کا احتجاج، یہ سب میرے لئے وہاں خبرناک سے کم نہیں تھے۔واپس آتے ہی اپنے قارئین سے ہمکلام ہوںاور بتانا چاہتی ہوں کہ جو قومیں اخلاق کا دامن چھوڑ دیتی ہیں خدا بھی پھر ان کی مدد نہیں کرتااور دھرتی بھی انھیں قبول نہیں کرتی۔دنیا گلوبل ویلج کی شکل اختیار کر چکی ہے۔تمام دنیا بچوں کی انگلیوں کی حرکت کی دوری پہ ہے۔اس لئے ہمارے بزرگ سیاست دانوں اور جوان سیاست دانوں کو اختلافِ رائے کا ایک اعلیٰ میعار قائم کرنا ہو گا۔یہ نہ ہو کہ دوسروں کو برا کہنے کے لئے ہم اپنی زبان کے بگاڑ کے ساتھ ساتھ اپنا چہرہ بھی بگاڑ لیں۔

جواب چھوڑیں