تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں شاد …

تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں
شاد لکھنوی
تصویر مری ہے عکس ترا تو اور نہیں میں اور نہیں
کر غور تو اپنے دل میں ذرا تو اور نہیں میں اور نہیں

تسبیح نے جس دم فخر کیا دانوں میں وہیں ڈورے کو دکھا
زنار نے اس رشتے سے کہا تو اور نہیں میں اور نہیں

اس باغ میں تو اے برگ حنا ہنسنے پہ مرے زخموں کے نہ جا
رونے میں لہو خنداں ہوں کیا تو اور نہیں میں اور نہیں

ہر ایک جواہر بیش بہا چمکا تو یہ پتھر کہنے لگا
جو سنگ ترا وہ سنگ مرا تو اور نہیں میں اور نہیں

اے شادؔ مرا پتلا جو بنا مل آتش و خاک و آب و ہوا
ہر چار عناصر نے یہ کہا تو اور نہیں میں اور نہیں

Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…