مجھ سے ملنے شبِ غم اور تو کون آئے گا میرا سایہ …

مجھ سے ملنے شبِ غم اور تو کون آئے گا
میرا سایہ ہے جو دیوار پہ جم جائے گا

ٹھہرو ٹھہرو ، مرے اصنامِ خیالی ، ٹھہرو
میرا دل گوشۂِ تنہائی میں گھبرائے گا

لوگ دیتے رہے کیا کیا نہ دِلاسے مجھ کو
زخم گہرا ہی سہی، زخم ہے، بھر جائے گا

عزم پختہ ہی سہی ترکِ وفا کا ، لیکن
منتظر ہوں، کوئی آ کر مجھے سمجھائے گا

آنکھ جھپکے نہ کہیں، راہ اندھیری ہی سہی
آگے چل کر وہ کسی موڑ پہ مل جائے گا

دِل سا انمول رتن کون خریدے گا شکیبؔ
جب بِکے گا تو یہ بے دام ہی بِک جائے گا

شکیبؔ جلالی

از:-کُلّیاتِ شکیبؔ جلالی ص ۱۷۸

اِنتِخاب
سفیدپوش


Leave your vote

0 points
Upvote Downvote

Total votes: 0

Upvotes: 0

Upvotes percentage: 0.000000%

Downvotes: 0

Downvotes percentage: 0.000000%

شئیر کریں
8 تبصرے
  1. گمنام کہتے ہیں

    کیا کہنے بہت عمدہ انتخاب

  2. گمنام کہتے ہیں

    Bhot hi aala khoob

  3. گمنام کہتے ہیں

    کمال

  4. گمنام کہتے ہیں

    کمال

  5. گمنام کہتے ہیں

    Umda

  6. گمنام کہتے ہیں

    واہ واہ

  7. گمنام کہتے ہیں

    Wah

  8. گمنام کہتے ہیں

    Lajwab

جواب چھوڑیں

Hey there!

Forgot password?

Don't have an account? Register

Forgot your password?

Enter your account data and we will send you a link to reset your password.

Your password reset link appears to be invalid or expired.

Close
of

Processing files…